صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
17. باب بَيَانِ وُجُوهِ الإِحْرَامِ وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ:
باب: احرام کی اقسام کابیان، اور حج افراد، تمتع، اور قران تینوں جائز ہیں، اور حج کا عمرہ پر داخل کرنا جائز ہے، اور حج قارن والا اپنے حج سے کب حلال ہو جائے؟
ترقیم عبدالباقی: 1211 ترقیم شاملہ: -- 2930
وحَدَّثَنَاه سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُلَبِّي، لَا نَذْكُرُ حَجًّا وَلَا عُمْرَةً "، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَنْصُورٍ.
اعمش نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تلبیہ کہتے ہوئے نکلے ہم حج یا عمرے کا ذکر نہیں کر رہے تھے۔ اور آگے (اعمش نے) منصور کے ہم معنی ہی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2930]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تلبیہ کہتے ہوئے چل پڑے، ہم حج یا عمرہ کی تعیین نہیں کر رہے تھے،“ آگے منصور کی مذکورہ بالا روایت کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2930]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1211
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1211 ترقیم شاملہ: -- 2931
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا، عَنْ غُنْدَرٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ أَوْ خَمْسٍ، فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهُوَ غَضْبَانُ، فَقُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ؟، قَالَ: " أَوَمَا شَعَرْتِ أَنِّي أَمَرْتُ النَّاسَ بِأَمْرٍ، فَإِذَا هُمْ يَتَرَدَّدُونَ "، قَالَ الْحَكَمُ: كَأَنَّهُمْ يَتَرَدَّدُونَ، أَحْسِبُ، " وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، مَا سُقْتُ الْهَدْيَ مَعِي حَتَّى أَشْتَرِيَهُ، ثُمَّ أَحِلُّ كَمَا حَلُّوا "،
محمد بن جعفر (غندر) نے کہا: ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی، انہوں نے (زین العابدین) علی بن حسین سے، انہوں نے ذاکون مولیٰ عائشہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: ذوالحجہ کے چار یا پانچ دن گزر چکے تھے کہ آپ میرے پاس (خیمے میں) تشریف لائے، آپ غصے کی حالت میں تھے، میں نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو کس نے غصہ دلایا؟ اللہ اسے آگ میں داخل کرے۔ آپ نے جواب دیا: ”کیا تم نہیں جانتیں! میں نے لوگوں کو ایک حکم دیا (کہ جو قربانی ساتھ نہیں لائے، وہ عمرے کے بعد احرام کھول دیں) مگر وہ اس پر عمل کرنے میں پس و پیش کر رہے ہیں۔“ حکم نے کہا: میرا خیال ہے (کہ میرے استاد علی بن حسین نے) ”ایسا لگتا ہے وہ پس و پیش کر رہے ہیں۔“ کہا۔ اگر اپنے اس معاملے میں وہ بات پہلے میرے سامنے آجاتی جو بعد میں آئی تو میں اپنے ساتھ قربانی نہ لاتا حتیٰ کہ میں اسے (یہاں آکر) خریدتا پھر میں ویسے احرام سے باہر آجاتا جیسے یہ سب (صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین عمرے کے بعد) آگئے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2931]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چار یا پانچ ذوالحجہ کو میرے پاس غصے کی حالت میں تشریف لائے تو میں نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو کسی نے ناراض کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں ڈالے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں پتا نہیں چلا، میں نے لوگوں کو ایک کام کا (احرام کھولنے کا) حکم دیا ہے تو وہ اس کی تعمیل میں پس و پیش کر رہے ہیں (حکم کہتے ہیں: میرے خیال میں آپ نے تردد کے معنی پر دلالت کرنے والا لفظ بولا تھا)، اگر مجھے جس چیز کا بعد میں علم ہوا ہے، مجھے اس کا پہلے علم ہو جاتا تو میں ہدی ساتھ نہ لاتا، حتیٰ کہ اس کو یہاں خرید لیتا، پھر میں بھی ان کی طرح حلال ہو جاتا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2931]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1211
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1211 ترقیم شاملہ: -- 2932
وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ أَوْ خَمْسٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ "، بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ، وَلَمْ يَذْكُرِ الشَّكَّ مِنَ الْحَكَمِ فِي قَوْلِهِ: يَتَرَدَّدُونَ.
عبید اللہ بن معاذ نے کہا: مجھے میرے والد نے شعبہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حدیث بیان کی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحجہ کی چار یا پانچ راتیں گزرنے کے بعد مکہ تشریف لائے۔ آگے (عبید اللہ بن معاذ نے) غندر کی روایت کے مانند ہی حدیث بیان کی انہوں نے پس و پیش کرنے کے حوالے سے حکم کا شک ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2932]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چار یا پانچ ذوالحجہ کو مکہ پہنچے تھے“، آگے منذر کی مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے اور اس میں «يُرَدُّونَ» ”پس و پیش کر رہے ہیں“ کے لفظ کے بارے میں حَکَم کے شک کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2932]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1211
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1211 ترقیم شاملہ: -- 2933
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ فَقَدِمَتْ وَلَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى حَاضَتْ فَنَسَكَتِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا وَقَدْ أَهَلَّتْ بِالْحَجِّ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّفْرِ: " يَسَعُكِ طَوَافُكِ لِحَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ "، فَأَبَتْ، فَبَعَثَ بِهَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ.
طاوس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے عمرے کا تلبیہ پکارا تھا مکہ پہنچیں، ابھی بیت اللہ کا طواف نہیں کیا تھا کہ ایام شروع ہو گئے، انہوں نے حج کا تلبیہ کہا اور تمام مناسک (حج) ادا کیے۔ واپسی کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے (مخاطب ہو کر) فرمایا: ”تمہارا طواف تمہارے حج اور عمرے (دونوں) کے لیے کافی ہے۔ (اب تمہیں مزید عمرے کی ضرورت نہیں)“ مگر وہ نہ مانیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (ان کے بھائی) عبدالرحمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تنعیم بھیجا اور انہوں نے حج کے بعد (ایک اور) عمرہ ادا کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2933]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں (عائشہ رضی اللہ عنہا) نے عمرہ کا احرام باندھا تھا، وہ مکہ آئیں تو بیت اللہ کے طواف سے پہلے ہی حیض شروع ہو گیا، انہوں نے تمام احکام ادا کیے، کیونکہ انہوں نے حج کا احرام باندھ لیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوچ کے دن فرمایا: ”تیرا یہ طواف تیرے حج اور عمرہ کے لیے کافی ہے۔“ انہوں نے اس پر اکتفا کرنے سے انکار کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو تنعیم بھیجا تو انہوں نے حج کے بعد عمرہ کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2933]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1211
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1211 ترقیم شاملہ: -- 2934
وحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا حَاضَتْ بِسَرِفَ فَتَطَهَّرَتْ بِعَرَفَةَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُجْزِئُ عَنْكِ طَوَافُكِ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَنْ حَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ ".
مجاہد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہیں مقام سرف سے ایام شروع ہوئے پھر وہ عرفہ میں جا کر پاک ہوئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تمہاری طرف سے تمہارا صفا مروہ کا طواف تمہارے حج اور عمرے (دونوں) کے لیے کافی ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2934]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہیں حیض مقام سرف میں شروع ہوا اور وہ اس سے عرفہ کے دن پاک ہوئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”تیرا صفا اور مروہ کا طواف تمہیں تمہارے حج اور عمرہ کے لیے کفایت کرے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2934]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1211
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1211 ترقیم شاملہ: -- 2935
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، حَدَّثَتْنَا صَفِيَّةُ بِنْتُ شَيْبَةَ ، قَالَتْ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: " يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَرْجِعُ النَّاسُ بِأَجْرَيْنِ وَأَرْجِعُ بِأَجْرٍ؟ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَنْطَلِقَ بِهَا إِلَى التَّنْعِيمِ، قَالَتْ: فَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ، قَالَتْ: فَجَعَلْتُ أَرْفَعُ خِمَارِي أَحْسُرُهُ عَنْ عُنُقِي، فَيَضْرِبُ رِجْلِي بِعِلَّةِ الرَّاحِلَةِ، قُلْتُ: لَهُ وَهَلْ تَرَى مِنْ أَحَدٍ؟، قَالَتْ: فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْحَصْبَةِ ".
صفیہ بنت شیبہ نے بیان کیا، کہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! لوگ تو وہ (عملوں کا) ثواب لے کر لوٹیں گے اور میں (صرف) ایک (عمل کا) ثواب لے کر لوٹوں؟ تو (عائشہ رضی اللہ عنہا کی بات سن کر) آپ نے عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ انہیں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو) تنعیم تک لے جائے۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:) چنانچہ عبدالرحمان رضی اللہ عنہ نے اپنے اونٹ پر مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا (راستے میں) اپنی اوڑھنی کو اپنی گردن سے سر ڈھانپنے کے لیے (بار بار) اسے اوپر اٹھاتی تو (عبدالرحمان رضی اللہ عنہ) سواری کو مارنے کے بہانے میرے پاؤں پر مارتے (کہا اوڑھنی کیوں اٹھا رہی ہیں؟) میں ان سے کہتی: آپ یہاں کسی (اجنبی) کو دیکھ رہے ہیں؟ (جو مجھے ایسا کرتا ہوا دیکھ لے گا) فرماتی ہیں: میں نے (وہاں سے عمرے کا احرام باندھ کر) تلبیہ پکارا (اور عمرہ کیا) پھر ہم (واپس آئے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے۔ آپ (اس وقت) مقام حصبہ پر تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2935]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا لوگ دو ثواب لے کر لوٹیں گے اور میں ایک اجر لے کر واپس جاؤں گی؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ: ”اس کو لے کر تنعیم جاؤ۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے مجھے اپنے اونٹ پر اپنے پیچھے سوار کر لیا، تو میں اپنی گردن کو ننگی کرنے کے لیے اپنے دوپٹے کو اٹھانے لگی تو وہ سواری کے بہانے میرے پاؤں پر مارتے (کہ پردہ کیوں نہیں کرتی ہو)، میں نے اس سے کہا: ”تجھے کوئی نظر آ رہا ہے (جس سے پردہ کروں)؟“ میں نے عمرہ کا احرام باندھا، پھر ہم آگے بڑھے حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس «مُحَصَّب» میں پہنچ گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2935]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1211
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1212 ترقیم شاملہ: -- 2936
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، أَخْبَرَهُ عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَهُ أَنْ يُرْدِفَ عَائِشَةَ فَيُعْمِرَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ ".
عمرو بن اوس نے خبر دی کہ عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ساتھ لے لیں اور انہیں مقام تنعیم سے عمرہ کروائیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2936]
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ ”وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پیچھے سوار کر کے، اسے تنعیم سے عمرہ کروائے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2936]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1212
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1213 ترقیم شاملہ: -- 2937
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ جميعا، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: أَقْبَلْنَا مُهِلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَجٍّ مُفْرَدٍ، وَأَقْبَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِعُمْرَةٍ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ عَرَكَتْ، حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا طُفْنَا بِالْكَعْبَةِ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحِلَّ مِنَّا مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، قَالَ: فَقُلْنَا: حِلُّ مَاذَا؟، قَالَ: " الْحِلُّ كُلُّهُ "، فَوَاقَعْنَا النِّسَاءَ وَتَطَيَّبْنَا بِالطِّيبِ وَلَبِسْنَا ثِيَابَنَا، وَلَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا أَرْبَعُ لَيَالٍ، ثُمَّ أَهْلَلْنَا يَوْمَ التَّرْوِيَةِ، ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَوَجَدَهَا تَبْكِي، فَقَالَ: " مَا شَأْنُكِ؟ "، قَالَتْ: شَأْنِي أَنِّي قَدْ حِضْتُ، وَقَدْ حَلَّ النَّاسُ وَلَمْ أَحْلِلْ، وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَالنَّاسُ يَذْهَبُونَ إِلَى الْحَجِّ الْآنَ، فَقَالَ: " إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِي، ثُمَّ أَهِلِّي بِالْحَجِّ "، فَفَعَلَتْ وَوَقَفَتِ الْمَوَاقِفَ، حَتَّى إِذَا طَهَرَتْ طَافَتْ بِالْكَعْبَةِ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ قَالَ: " قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ جَمِيعًا "، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى حَجَجْتُ، قَالَ: " فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ "، وَذَلِكَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ،
قتیبہ نے کہا: ہم سے لیث نے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزبیر سے انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اکیلے حج (افراد) کا تلبیہ پکارتے ہوئے آئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صرف عمرے کی نیت سے آئیں۔ جب ہم مقام سرف پہنچے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایام شروع ہو گئے حتیٰ کہ جب ہم مکہ آئے تو ہم نے کعبہ اور صفا مروہ کا طواف کر لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم میں سے جس کسی کے ہمراہ قربانی نہیں، وہ (احرام چھوڑ کر) حلت (عدم احرام کی حالت) اختیار کرلے۔ ہم نے پوچھا: کون سی حلت؟ آپ نے فرمایا: ”مکمل حلت (احرام کی تمام پابندیوں سے آزادی)۔“ تو پھر ہم اپنی عورتوں کے پاس گئے خوشبو لگائی اور (معمول کے) کپڑے پہن لیے۔ (اور اس وقت) ہمارے اور عرفہ (کو روانگی) کے درمیان چار راتیں باقی تھیں۔ پھر ہم نے ترویہ والے دن (آٹھ ذوالحجہ کو) تلبیہ پکارا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے خیمے میں داخل ہوئے تو انہیں روتا ہوا پایا۔ پوچھا: ”تمہارا کیا معاملہ ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: میرا معاملہ یہ ہے کہ مجھے ایام شروع ہو گئے ہیں۔ لوگ حلال (احرام سے فارغ) ہو چکے ہیں اور میں ابھی نہیں ہوئی اور نہ میں نے ابھی بیت اللہ کا طواف کیا ہے لوگ اب حج کے لیے روانہ ہو رہے ہیں آپ نے فرمایا: ”(پریشان مت ہو) یہ (حیض) ایسا معاملہ ہے جو اللہ نے آدم علیہ السلام کی بیٹیوں کی قسم میں لکھ دیا ہے تم غسل کر لو اور حج کا (احرام باندھ کر) تلبیہ پکارو۔“ انہوں نے ایسا ہی کیا اور وقوف کے ہر مقام پر وقوف کیا (حاضری دی دعائیں کیں) اور جب پاک ہو گئیں تو (عرفہ کے دن) بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کیا۔ پھر آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”تم اپنے حج اور عمرے دونوں (مکمل کر کے ان کے احرام کی پابندیوں) سے آزاد ہو چکی ہو۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے دل میں (ہمیشہ) یہ کھٹکا رہے گا کہ میں حج کرنے تک بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکی۔ آپ نے فرمایا: ”اے عبدالرحمان! انہیں (لے جاؤ اور) تنعیم سے عمرہ کرا لاؤ۔“ اور یہ (منیٰ سے واپسی پر) حصبہ (میں قیام والی) رات کا واقعہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2937]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج مفرد کا احرام باندھ کر چلے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عمرہ کا احرام باندھ کر چلیں، حتیٰ کہ جب ہم سرف مقام پر پہنچ گئے تو انہیں حیض آنا شروع ہو گیا، حتیٰ کہ جب ہم مکہ پہنچے، ہم نے بیت اللہ اور صفا اور مروہ کا طواف کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ جس کے پاس ہدی نہیں ہے، وہ احرام کھول دے، تو ہم نے پوچھا: ”حلال ہونے سے کیا مراد ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکمل حلت۔“ تو ہم اپنی بیویوں کے پاس گئے، خوشبو لگائی اور اپنے کپڑے پہن لیے، ہمارے اور عرفہ کے درمیان چار دن باقی تھے، پھر ہم نے ترویہ کے دن (آٹھ ذوالحجہ کو) احرام باندھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو انہیں روتے ہوئے پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں کیا ہوا؟“ انہوں نے جواب دیا: ”میری حالت یہ ہے، میں حائضہ ہوں، لوگ احرام کھول چکے ہیں اور میں نے احرام نہیں کھولا اور نہ میں نے بیت اللہ کا طواف کیا ہے اور لوگ اب حج کے لیے جا رہے ہیں“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم کی بیٹیوں کی فطرت میں رکھ دی ہے، تم غسل کر کے، حج کا احرام باندھ لو۔“ تو میں نے ایسے ہی کیا اور تمام مقامات پر وقوف کیا (ٹھہری)، حتیٰ کہ جب پاک ہو گئی تو کعبہ اور صفا اور مروہ کا طواف کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے حج اور عمرہ دونوں سے حلال ہو گئی ہو۔“ تو انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے دل میں کھٹک محسوس کر رہی ہوں کہ میں حج سے پہلے بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکی“، (حالانکہ میں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبدالرحمٰن! اسے لے جاؤ اور اسے تنعیم سے عمرہ کرواؤ۔“ اور یہ مَحصَب کی رات کا واقعہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2937]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1213
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1213 ترقیم شاملہ: -- 2938
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ عبدَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهِيَ تَبْكِي "، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ إِلَى آخِرِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا قَبْلَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ،
ابن جریج نے خبر دی کہا: مجھے ابوزبیر نے خبر دی، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو بیان کرتے سنا، کہہ رہے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے خیمے میں داخل ہوئے تو وہ رو رہی تھیں۔ پھر (آخر تک) لیث کی روایت کردہ حدیث کے مانند روایت بیان کی، لیکن لیث کی حدیث میں اس سے پہلے کا جو حصہ ہے وہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2938]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، جبکہ وہ رو رہی تھیں، آگے لیث کی مذکورہ بالا روایت کی طرح ہے، لیکن اس سے پہلے کا جو حصہ لیث نے بیان کیا ہے، وہ اس حدیث میں نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2938]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1213
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1213 ترقیم شاملہ: -- 2939
وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ، قَالَ: " وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا سَهْلًا إِذَا هَوِيَتِ الشَّيْءَ تَابَعَهَا عَلَيْهِ، فَأَرْسَلَهَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ فَأَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ مِنَ التَّنْعِيمِ "، قَالَ مَطَرٌ: قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: فَكَانَتْ عَائِشَةُ إِذَا حَجَّتْ صَنَعَتْ كَمَا صَنَعَتْ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مطر نے ابوزبیر سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج (حجۃ الوداع) کے موقع پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرے کا (احرام باندھ کر) تلبیہ پکارا تھا۔ مطر نے آگے لیث کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی، (البتہ اپنی) حدیث میں یہ اضافہ کیا کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت نرم خو تھے۔ وہ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) جب بھی کوئی خواہش کرتیں، آپ اس میں ان کی بات مان لیتے۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیجا اور انہوں نے تنعیم سے عمرے کا تلبیہ پکارا (اور عمرہ ادا کیا)۔ مطر نے کہا: ابوزبیر نے بیان کیا: (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جب بھی حج فرماتیں تو وہی کرتیں جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2939]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج میں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرے کا احرام باندھا تھا، آگے لیث کی مذکورہ بالا روایت کی طرح بیان کیا اور اس حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ساتھیوں کے لیے آسانی چاہتے تھے، (نرم اخلاق کے مالک تھے) جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کسی چیز کی خواہش یا فرمائش کرتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بات مان لیتے، (فرمائش پوری فرما دیتے) اس لیے، ان کے ساتھ عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو بھیج دیا اور انہوں نے (عائشہ رضی اللہ عنہا) نے تنعیم سے عمرہ کا احرام باندھا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2939]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1213
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة