صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
64. باب اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لاَ يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلاَئِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لاَ يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلاَ يَحْرُمُ عَلَيْهِ شيء بِذَلِكَ:
باب: بذات خود حرم نہ جانے والوں کے لئے قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ ڈال کر بھیجنے کا استحباب، اور بھیجنے والا محرم نہیں ہو گا، اور نہ اس پر کوئی چیز حرام ہو گی۔
ترقیم عبدالباقی: 1321 ترقیم شاملہ: -- 3204
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ مَنْصُورٍ ، حدثنا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " كُنَّا نُقَلِّدُ الشَّاءَ، فَنُرْسِلُ بِهَا، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَالٌ لَمْ يَحْرُمْ عَلَيْهِ مِنْهُ شَيْءٌ ".
حکم نے ابراہیم سے انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا ہم بکریوں کو ہار پہناتے پھر انہیں (بیت اللہ کی طرف) بھیجتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیر محرم رہتے اس سے کوئی چیز (جو پہلے آپ پر حلال تھی) حرام نہ ہوتی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3204]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم بکریوں کے گلے میں ہار ڈال کر انہیں (قربانی کے لیے) بھیج دیتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حلال ہی ہوتے، ان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی چیز حرام نہ ہوتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3204]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1321
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1321 ترقیم شاملہ: -- 3205
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ ابْنَ زِيَادٍ كَتَبَ إِلَى عَائِشَةَ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَنْ أَهْدَى هَدْيًا حَرُمَ عَلَيْهِ مَا يَحْرُمُ عَلَى الْحَاجِّ حَتَّى يُنْحَرَ الْهَدْيُ، وَقَدْ بَعَثْتُ بِهَدْيِي، فَاكْتُبِي إِلَيَّ بِأَمْرِكِ، قَالَت عَمْرَةُ، قَالَت عَائِشَةُ : " لَيْسَ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، " أَنَا فَتَلْتُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ، ثُمَّ قَلَّدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا مَعَ أَبِي، فَلَمْ يَحْرُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ أَحَلَّهُ اللَّهُ لَهُ حَتَّى نُحِرَ الْهَدْيُ ".
عمرہ بنت عبدالرحمان نے خبر دی کہ ابن زیاد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو لکھا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے جس نے ہدی (بیت اللہ کے لیے قربانی) بھیجی اس پر وہ سب کچھ حرام ہو جائے گا جو حج کرنے والے کے لیے حرام ہوتا ہے یہاں تک کہ ہدی کو ذبح کر دیا جائے۔ اور میں نے اپنی ہدی بھیجی ہے تو مجھے (اس بارے میں) اپنا حکم لکھ بھیجیے عمرہ نے کہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: (بات) اس طرح نہیں جیسے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے میں نے خود اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے ہار بٹے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے وہ (ہار) انہیں پہنائے پھر انہیں میرے والد کے ساتھ (مکہ) بھیجا اس کے بعد ہدی نحر (قربان) ہونے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر (ایسی) کوئی چیز حرام نہ ہوئی جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3205]
عمرہ بنت عبدالرحمن بیان کرتی ہیں، ابنِ زیاد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو خط لکھا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، جو شخص قربانی روانہ کرتا ہے، اس پر وہ تمام چیزیں حرام ہو جائیں گی جو حج کرنے والے پر حرام ہوتی ہیں، حتی کہ قربانی نحر کر دی جائے، اور میں اپنی ہدی روانہ کر چکا ہوں، آپ مجھے اپنا نظریہ لکھ بھیجیں، عمرہ بیان کرتی ہیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا، بات وہ نہیں ہے جو ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں، میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے ہار اپنے ہاتھوں سے بٹے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھ سے قربانیوں کے گلے میں ڈالا، اور میرے باپ کے ہاتھ انہیں روانہ کر دیا، اور قربانیوں کے نحر کرنے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی ایسی چیز حرام نہیں ہوئی، جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال کی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3205]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1321
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1321 ترقیم شاملہ: -- 3206
وحدثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حدثنا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، وَهِيَ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ تصفق، وتقول: " كنت أفتل قلائد هدي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا وَمَا يُمْسِكُ، عَنْ شَيْءٍ مِمَّا يُمْسِكُ، عَنْهُ الْمُحْرِمُ حَتَّى يُنْحَرَ هَدْيُهُ "،
اسماعیل بن ابی خالد نے ہمیں خبر دی انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے مسروق سے روایت کی، انہوں نے کہا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ پردے کی اوٹ سے ہاتھ پر ہاتھ مار رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں میں اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے ہار بٹا کرتی تھی، پھر آپ انہیں (مکہ) بھیجتے اور ہدی کو ذبح کرنے (کے وقت) تک آپ ان میں سے کسی چیز سے بھی اجتناب نہ فرماتے جس سے احرام والا شخص اجتناب کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3206]
مسروق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، انہوں نے پردے کی اوٹ سے تالی بجا کر بتایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے ہار اپنے ہاتھوں سے بناتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں روانہ کر دیتے، اور کسی ایسی چیز سے، قربانی نحر کرنے تک باز نہ رہتے، جس سے محرم باز رہتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3206]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1321
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1321 ترقیم شاملہ: -- 3207
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حدثنا دَاوُدُ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا زَكَرِيَّاءُ ، كِلَاهُمَا عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، بِمِثْلِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
داود اور زکریا دونوں نے شعبی سے حدیث بیان کی انہوں نے مسروق سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے اسی سند (حدیث) کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3207]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3207]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1321
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة