صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
85. باب فَضْلِ الْمَدِينَةِ وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا:
باب: مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کی دعا اور اس کی حرمت اور اس کے شکار، اور درخت کاٹنے کی حرمت، اور اس کے حدود حرم کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1366 ترقیم شاملہ: -- 3323
وحدثناه حَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، حدثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حدثنا عَاصِمٌ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ؟ قَالَ: " نَعَمْ، مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي: هَذِهِ شَدِيدَةٌ مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا: فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا "، قَالَ: فقَالَ ابْنُ أَنَسٍ: أَوْ آوَى مُحْدِثًا.
عاصم نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کو حرم قرار دیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، فلاں مقام سے فلاں مقام تک (کا علاقہ)، جس نے اس میں کوئی بدعت نکالی، پھر انہوں نے مجھ سے کہا: یہ سخت وعید ہے: ”جس نے اس میں بدعت کا ارتکاب کیا اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہو گی، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے نہ کوئی عذر و حیلہ قبول فرمائے گا نہ کوئی بدلہ۔“ کہا: ابن انس نے کہا: یا (جس نے) کسی بدعت کا ارتکاب کرنے والے کو پناہ دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3323]
عاصم بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے پوچھا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کو حرم قرار دیا ہے؟ انہوں نے کہا، ہاں۔ فلاں جگہ سے فلاں جگہ تک (عیر سے ثور تک) تو جس نے اس میں کوئی جرم کیا، پھر مجھ سے کہا، یہ بڑی شدید وعید ہے کہ "جس نے اس میں کوئی جرم کیا، تو اس پر لعنت ہے، اللہ کی، فرشتوں کی، اور تمام لوگوں کی، اللہ اس سے قیامت کے دن کوئی توبہ و فدیہ یا فرض اور نفل قبول نہیں کرے گا۔" ابن انس نے یہ اضافہ کیا اور جس نے مجرم کو پناہ دی، (اس کے لیے بھی یہی وعید ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3323]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1366
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1366 ترقیم شاملہ: -- 3324
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا : أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ؟ قَالَ: " نَعَمْ، هِيَ حَرَامٌ، لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ".
ہمیں عاصم احول نے خبر دی، کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کو حرم قرار دیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، یہ حرم ہے، اس کی گھاس نہ کاٹی جائے، جس نے ایسا کیا اس پر اللہ کی، فرشتوں کی، اور سب لوگوں کی لعنت ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3324]
عاصم بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کو حرم قرار دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا، ہاں، وہ حرم ہے، اس کی گھاس نہیں کاٹی جائے گی، جس نے یہ حرکت کی، اس پر اللہ، فرشتوں، اور سب لوگوں کی طرف سے لعنت ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3324]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1366
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1368 ترقیم شاملہ: -- 3325
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مِكْيَالِهِمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ ".
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ان (اہل مدینہ) کے لیے ان کے ناپنے کے پیمانے میں برکت عطا فرما، ان کے صاع میں برکت عطا فرما۔ اور ان کے مد میں برکت عطا فرما۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3325]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ان کے (اہل مدینہ کے) پیمانہ میں برکت فرما، ان کے صاع میں برکت فرما اور ان کے مد میں برکت فرما۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3325]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1368
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1369 ترقیم شاملہ: -- 3326
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّامِيُّ ، قَالَا: حدثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حدثنا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ ، يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِينَةِ ضِعْفَيْ مَا بِمَكَّةَ مِنَ الْبَرَكَةِ ".
زہری نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! مدینہ میں اس سے دگنی برکت رکھ جتنی مکہ میں ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3326]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! مدینہ میں اس سے دگنی برکت فرما، جتنی مکہ میں برکت رکھی ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3326]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1369
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1370 ترقیم شاملہ: -- 3327
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ، حدثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حدثنا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فقَالَ: مَنْ زَعَمَ أَنَّ عَنْدَنَا شَيْئًا نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ، وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ، قَالَ: وَصَحِيفَةٌ مُعَلَّقَةٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ، فَقَدْ كَذَبَ فِيهَا أَسْنَانُ الْإِبِلِ، وَأَشْيَاءُ مِنَ الْجِرَاحَاتِ، وَفِيهَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا "، وَانْتَهَى حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ، وَزُهَيْرٍ، عَنْدَ قَوْلِهِ: يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، وَلَمْ يَذْكُرَا مَا بَعْدَهُ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا: مُعَلَّقَةٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ،
ہمیں ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب اور ابوکریب سب نے ابومعاویہ سے حدیث بیان کی (کہا:) ہمیں اعمش نے ابراہیم تیمی سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا: جس نے یہ گمان کیا کہ ہمارے پاس کتاب اللہ اور اس صحیفہ۔ (راوی نے) کہا: اور وہ صحیفہ ان کی تلوار کے تھیلے کے ساتھ لٹکا ہوا تھا۔ کے علاوہ کچھ ہے جسے ہم پڑھتے ہیں تو اس نے جھوٹ بولا، اس میں (دیت کے) کچھ احکام ہیں۔ اور اس میں یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عیر سے ثور تک کے درمیان (سارا) مدینہ حرم ہے: جس نے اس میں کسی بدعت کا ارتکاب کیا یا بدعت کے کسی مرتکب کو پناہ دی تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہو گی۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے کوئی عذر قبول کرے گا نہ کوئی بدلہ اور سب مسلمانوں کی ذمہ داری (امان) ایک (جیسی) ہے، ان کا ادنیٰ شخص بھی ایسا کر سکتا ہے (امان دے سکتا ہے)، جس شخص نے اپنے والد کے سوا کسی اور کا (بیٹا) ہونے کا دعویٰ کیا یا جس (غلام) نے اپنے موالی (آزاد کرنے والوں) کے سوا کسی اور کی طرف نسبت اختیار کی، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے کوئی عذر قبول فرمائے گا نہ بدلہ۔“ ابوبکر اور زہیر کی حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”ان کا ادنیٰ شخص بھی ایسا کر سکتا ہے“ پر ختم ہو گئی اور ان دونوں نے وہ حصہ ذکر نہیں کیا جو اس کے بعد ہے اور نہ ان کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں: ”وہ ان کی تلوار کے تھیلے کے ساتھ لٹکا ہوا تھا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3327]
ابراہیم تیمی اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں خطاب فرمایا اور کہا، جس کا یہ گمان ہے کہ ہمارے پاس پڑھنے کے لیے اللہ کی کتاب اور اس صحیفہ (ان کی تلوار کی نیام کے ساتھ ایک صحیفہ لٹکا ہوا تھا) کے سوا کچھ ہے وہ جھوٹ بولتا ہے، اس صحیفہ میں اونٹوں کی عمروں اور کچھ زخموں (کی دیت) کا ذکر ہے، اور اس میں یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ، عَیر سے لے کر ثَور تک حرم ہے، تو جس نے اس میں کسی قسم کا جرم کیا یا مجرم کو تحفظ و پناہ دی، اس پر اللہ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہو، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن، اس کا کوئی فرض قبول کرے گا، نہ نفل، مسلمانوں کی امان و پناہ یکساں ہے، ان کا کم حیثیت فرد بھی یہ کام کر سکتا ہے، اور جس نے اپنے باپ کے علاوہ کسی کی طرف نسبت کی یا جس نے اپنے آزاد کرنے والوں کے سوا کی طرف نسبت کی، اس پر اللہ، فرشتوں، اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اللہ قیامت کے دن اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں فرمائے گا۔“ ابوبکر اور زہیر کی حدیث، ”ان کا ادنیٰ فرد پناہ دے سکتا ہے“ پر ختم ہو گئی، ان کی روایت میں بعد والا حصہ نہیں ہے، اس طرح، ان کی روایت میں صحیفہ کے تلوار کی نیام کے ساتھ لٹکنے کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3327]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1370
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1370 ترقیم شاملہ: -- 3328
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، أَخْبَرَنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حدثنا وَكِيعٌ ، جَمِيعًا عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، إِلَى آخِرِهِ، وَزَادَ فِى الْحَدِيثِ «فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ» . وَلَيْسَ فِى حَدِيثِهِمَا «مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ» . وَلَيْسَ فِى رِوَايَةِ وَكِيعٍ ذِكْرُ يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
علی بن مسہر اور وکیع دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح آخر تک ابومعاویہ سے ابوکریب کی روایت کردہ حدیث ہے اور (اس میں) یہ اضافہ کیا: ”لہٰذا جس نے کسی مسلمان کی امان توڑی اس پر اللہ تعالیٰ کی (تمام) فرشتوں کی اور سب انسانوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اس سے کوئی عذر قبول کیا جائے گا نہ بدلہ۔“ ان دونوں کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں ہیں: ”جس نے اپنے والد کے سوا کسی اور کی نسبت اختیار کی“ اور نہ وکیع کی روایت میں قیامت کے دن کا تذکرہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3328]
امام صاحب اعمش ہی کی سند سے دو اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، اور اس میں یہ اضافہ ہے، جس نے کسی مسلمان کی پناہ کو توڑا، اس پر اللہ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہو، قیامت کے دن اس کے فرض اور نفل قبول نہیں کیے جائیں گے، ان دونوں کی حدیث میں، جس نے اپنے باپ کے غیر کی طرف نسبت کی کا ذکر نہیں ہے، اور حکیم کی روایت میں قیامت کے دن کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3328]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1370
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1370 ترقیم شاملہ: -- 3329
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَا: حدثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ، وَوَكِيعٍ، إِلَّا قَوْلَهُ: مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ، وَذِكْرَ اللَّعْنَةِ لَهُ.
سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ ابن مسہر اور وکیع کی حدیث کی طرح بیان کی، مگر اس میں ”جس نے اپنے موالی (آزاد کرنے والوں) کے علاوہ کسی کی طرف نسبت اختیار کی“ اور اس پر لعنت کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3329]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے ابن مسہر اور وکیع کی اعمش سے مذکورہ بالا سند والی حدیث کی طرح روایت بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں، ”جس نے اپنے موالی کے غیر کی طرف نسبت کی،“ کا ذکر نہیں ہے، اور نہ ہی، اس پر لعنت کا ذکر ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3329]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1370
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1371 ترقیم شاملہ: -- 3330
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي صَالِح ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمَدِينَةُ حَرَمٌ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ: لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ، وَلَا صَرْفٌ "،
زائدہ نے سلیمان سے، انہوں نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ حرم ہے، جس نے اس میں کسی بدعت کا ارتکاب کیا یا کسی بدعت کے مرتکب کو پناہ دی، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب انسانوں کی لعنت ہے۔ قیامت کے دن اس سے کوئی عذر قبول کیا جائے گا نہ کوئی بدلہ۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3330]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ حرم ہے، اس لیے جس نے اس میں جرم کیا یا مجرم کو پناہ اور ٹھکانا دیا، اس پر اللہ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہو، قیامت کے دن اس کے نفل اور فرض قبول نہیں کیے جائیں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3330]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1371
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1371 ترقیم شاملہ: -- 3331
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَقُلْ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَزَادَ: وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا، فَعَلَيْهِ: لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ، وَلَا صَرْفٌ.
سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی، اور انہوں نے ”قیامت کے دن“ کے الفاظ نہیں کہے اور یہ اضافہ کیا: ”اور تمام مسلمانوں کا ذمہ ایک (جیسا) ہے، ان کا ادنیٰ آدمی بھی پناہ کی پیش کش کر سکتا ہے، جس نے کسی مسلمان کی امان توڑی، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب انسانوں کی لعنت ہے۔ قیامت کے دن اس سے کوئی بدلہ قبول کیا جائے گا نہ کوئی عذر۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3331]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، لیکن قیامت کے دن کا ذکر نہیں ہے، اور یہ اضافہ ہے، مسلمانوں کا عہد و پیمان برابر ہے، ان کا ادنیٰ فرد بھی یہ کام سر انجام دے سکتا ہے، تو جو شخص کسی مسلمان کی پناہ کو توڑے گا، اس پر اللہ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہو، قیامت کے دن اس کے نفل اور فرض قبول نہیں ہوں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3331]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1371
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1372 ترقیم شاملہ: -- 3332
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ تَرْتَعُ بِالْمَدِينَةِ مَا ذَعَرْتُهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حَرَامٌ ".
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث سنائی، کہا: میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی کہ ابن شہاب سے روایت ہے۔ انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، وہ کہا کرتے تھے: اگر میں مدینہ میں ہرنیاں چرتی ہوئی دیکھوں، تو میں انہیں ہراساں نہیں کروں گا (کیونکہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے دو سیاہ پتھریلے میدانوں کے درمیان کا علاقہ حرم ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3332]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے، اگر میں مدینہ میں ہرنیاں چرتی دیکھوں تو میں انہیں پریشان یا ہراساں نہیں کروں گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اس کے دونوں حروں کا درمیان کا علاقہ حرم ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3332]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1372
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة