صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
16. باب الأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ:
باب: دعوت قبول کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1430 ترقیم شاملہ: -- 3519
وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ.
ابن جریج نے ابوزبیر سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3519]
امام صاحب نے ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3519]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1430
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1431 ترقیم شاملہ: -- 3520
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ، فَلْيُجِبْ فَإِنْ كَانَ صَائِمًا، فَلْيُصَلِّ، وَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا، فَلْيَطْعَمْ ".
ابن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو وہ قبول کرے۔ اگر وہ روزہ دار ہے تو دعا کرے اور اگر روزے کے بغیر ہے تو کھانا کھائے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3520]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کو جب دعوت دی جائے تو وہ قبول کرے، پھر اگر روزہ دار ہو تو دعا کر دے اور اگر روزہ نہ ہو تو کھا لے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3520]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1431
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1432 ترقیم شاملہ: -- 3521
حدثنا حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " بِئْسَ الطَّعَامُ: طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى إِلَيْهِ الْأَغْنِيَاءُ، وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ، فَمَنْ لَمْ يَأْتِ الدَّعْوَةَ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ "،
امام مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، وہ کہا کرتے تھے: اس ولیمے کا کھانا برا کھانا ہے جس میں امیروں کو بلایا جائے اور مسکینوں کو چھوڑ دیا جائے اور جس نے (بلانے کے باوجود) دعوت میں شرکت نہ کی، اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3521]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ کہا کرتے تھے۔ اس دعوت ولیمہ کا کھانا بہت برا کھانا ہے جس کے لیے دولت مندوں کو بلایا جائے اور محتاجوں کو چھوڑ دیا جائے، اور جس نے اس دعوت میں شرکت نہ کی تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3521]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1432
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1432 ترقیم شاملہ: -- 3522
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ: يَا أَبَا بَكْرٍ، كَيْفَ هَذَا الْحَدِيثُ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْأَغْنِيَاءِ، فَضَحِكَ فقَالَ: لَيْسَ هُوَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْأَغْنِيَاءِ، قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ أَبِي غَنِيًّا، فَأَفْزَعَنِي هَذَا الْحَدِيثُ حِينَ سَمِعْتُ بِهِ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ الزُّهْرِيَّ ، فقَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: شَرُّ الطَّعَامِ: طَعَامُ الْوَلِيمَةِ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ،
سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: میں نے امام زہری سے پوچھا: جناب ابوبکر! یہ حدیث کس طرح ہے: ”بدترین کھانا امیروں کا کھانا ہے“؟ وہ ہنسے، اور جواب دیا: یہ (حدیث) اس طرح نہیں ہے کہ بدترین کھانا امیروں کا کھانا ہے۔ سفیان نے کہا: میرے والد غنی تھے، جب میں نے یہ حدیث سنی تھی تو اس نے مجھے گھبراہٹ میں ڈال دیا، اس لیے میں نے اس کے بارے میں امام زہری سے دریافت کیا، انہوں نے کہا: مجھے عبدالرحمٰن اعرج نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: بدترین کھانا اس ولیمے کا کھانا ہے۔ آگے امام مالک رحمہ اللہ کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3522]
سفیان رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام زہری رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا: اے ابوبکر! یہ حدیث کس طرح ہے کہ برا کھانا، امیروں کا کھانا ہے؟ تو انہوں نے ہنس کر کہا، حدیث اس طرح نہیں ہے کہ بدترین کھانا امیروں کا کھانا ہے، سفیان کہتے ہیں، میرے والد امیر تھے، اس لیے جب میں نے یہ حدیث سنی تو میں گھبرا گیا (مجھے پریشانی لاحق ہوئی) اس لیے میں نے اس کے بارے میں زہری سے دریافت کیا، تو انہوں نے مجھے عبدالرحمٰن اعرج کے واسطہ سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سنائی کہ بدترین کھانا، ولیمہ کا کھانا ہے اور اوپر والی امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث سنائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3522]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1432
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1432 ترقیم شاملہ: -- 3523
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وعَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: شَرُّ الطَّعَامِ: طَعَامُ الْوَلِيمَةِ، نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ،
معمر نے زہری سے خبر دی، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور اعرج سے، اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: بدترین کھانا اس ولیمے کا کھانا ہے، (آگے) امام مالک رحمہ اللہ کی حدیث کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3523]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بدترین کھانا، ولیمہ کا کھانا ہے، آ گے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3523]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1432
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1432 ترقیم شاملہ: -- 3524
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، نَحْوَ ذَلِكَ.
ابوزناد نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مانند حدیث روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3524]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3524]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1432
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1432 ترقیم شاملہ: -- 3525
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ سَعْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا الْأَعْرَجَ ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " شَرُّ الطَّعَامِ: طَعَامُ الْوَلِيمَةِ، يُمْنَعُهَا مَنْ يَأْتِيهَا، وَيُدْعَى إِلَيْهَا مَنْ يَأْبَاهَا، وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ ".
زیاد بن سعد نے کہا: میں نے ثابت (بن عیاض) اعرج سے سنا، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدترین کھانا (ایسے) ولیمے کا کھانا ہے کہ جو اس میں آتا ہے اسے اس سے روکا جاتا ہے اور جو اس (میں شمولیت) سے انکار کرتا ہے اسے بلایا جاتا ہے۔ اور جس شخص نے دعوت قبول نہ کی، اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3525]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدترین کھانا ولیمہ کا کھانا ہے۔ حاضر ہونے والوں کو محرو م رکھا جاتا ہے، اور انہیں دعوت دی جاتی ہے، جو آنے سے انکار کرتے ہیں، اور جس نے دعوت کو قبول نہ کیا، تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3525]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1432
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة