مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
17. ما قالوا: في وضع الجزية والقتال عليها
جن لوگوں نے کہا کہ جزیہ نہ دینے کی صورت میں ان کے خلاف قتال ہو گا
ترقیم عوامۃ: 33299 ترقیم الشثری: -- 34816
٣٤٨١٦ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن ابي البختري قال: لما غزا سلمان المشركين من اهل فارس قال: كفوا حتى ادعوهم كما كنت اسمع رسول الله ﷺ يدعوهم، فاتاهم فقال:"إني رجل منكم قد تدرون منزلي من هؤلاء القوم، و (إنا) (١) ندعوكم إلى الإسلام، فإن اسلمتم فلكم مثل ما لنا وعليكم مثل الذي علينا، وإن ابيتم فاعطوا الجزية عن يد وانتم صاغرون، وإن ابيتم قاتلناكم"، فابوا عليه، فقال للناس: (انهدوا) (٢) إليهم (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (وإما).
(٢) في [ب]: (النهدوا).
(٣) ضعيف منقطع؛ عطاء اختلط، وأبو البختري لا يروي عن سلمان، أخرجه أحمد (٢٣٧٢٦)، والترمذي (١٥٤٨)، وسعيد بن منصور (٢٤٧٠)، والبزار (٢٥٤٥)، وأبو عبيد في الأموال (٦١).
حضرت ابو البختری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت سلمان رضی اللہ عنہاہل فارس سے جنگ میں شریک ہوئے تو فرمایا: رکو یہاں تک کہ میں ان کو دعوت دوں جیسا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کو دعوت دی۔ پس آپ رضی اللہ عنہان کے پاس آئے اور فرمایا: یقینا میں تمہارے میں سے ہی ایک آدمی ہوں۔ اور تحقیق تم نے ان لوگوں میں میرے مرتبہ کو جان لیا ہے۔ اور میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اگر تم نے اسلام قبول کرلیا تو تمہیں بھی وہی ملے گا جو ہمارے لیے ہیں۔ اور تم پر بھی وہی کام لازم ہوں گے جو ہم پر لازم ہیں۔ اور اگر تم انکار کرتے ہو تو تم جزیہ ادا کروہاتھ سے اور چھوٹے بن کر رہو اور اگر تم اس کا بھی انکار کرو گے تو ہم تم سے قتال کریں گے۔ پس ان لوگوں نے سب باتوں کا انکار کردیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کہا: دشمن کے سامنے ڈٹ جاؤ اور لڑائی شروع کردو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34816]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34816، ترقيم محمد عوامة 33299)
ترقیم عوامۃ: 33300 ترقیم الشثری: -- 34817
٣٤٨١٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن ابيه قال: كان رسول الله ﷺ إذا بعث اميرا على سرية او جيش اوصاه فقال:"إذا لقيت عدوك من المشركين فادعهم إلى إحدى ثلاث خصال او خلال، فايتهن ما اجابوك إليها فاقبل منهم، وكف عنهم، ادعهم إلى الإسلام، فإن اجابوك فكف عنهم (واقبل) (١) منهم، ثم ادعهم إلى التحول من دارهم إلى دار المهاجرين، ⦗٢٣٣⦘ واعلمهم انهم إن فعلوا ذلك ان لهم ما للمهاجرين، وان عليهم ما (على) (٢) المهاجرين، وإن ابوا واختاروا دارهم فاعلمهم انهم (يكونون) (٣) كاعراب المسلمين يجري عليهم حكم الله الذي يجري على المؤمنين، ولا يكون لهم في الفيء والغنيمة نصيب إلا ان يجاهدوا مع المسلمين، فإن ابوا فادعهم إلى إعطاء الجزية، فإن (اجابوا) (٤) فاقبل منهم وكف عنهم، وإن ابوا فاستعن بالله وقاتلهم" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (فأقبل).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [أ]: (يكونوا).
(٤) في [هـ]: (أبوا).
(٥) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٧٣١)، وأحمد (٢٢٩٧٨).
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو کسی سریہ یا لشکر پر امیر بنا کر بھیجتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو وصیت فرماتے کہ جب تم اپنے دشمن مشرکین سے ملو۔ تو تم ان کو تین باتوں یا عادتوں میں سے ایک کی طرف دعوت دو۔ پس وہ لوگ ان میں سے جس بات کو بھی مان لیں تم اس کو قبول کرو اور ان سے لڑائی کرنے سے رک جاؤ۔ سب سے پہلے ان کو اسلام کی طرف بلاؤ۔ اگر وہ قبول کرلیں تو ان سے لڑائی کرنے سے رک جاؤ اور ان کا اسلام قبول کرو۔ پھر ان کو اس بات کی طرف دعوت دو کہ وہ اپنے علاقہ کو چھوڑ کر مہاجرین کے علاقہ میں آجائیں اور ان کو بتلا دو بیشک اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کے لیے وہی اجر وثواب ہوگا جو مہاجرین کے لیے ہے اور ان پر وہی اعمال لازم ہوں گے جو مہاجرین پر لازم ہیں اگر وہ اس بات سے انکار کردیں۔ اور اپنے شہر ہی کا انتخاب کریں تو پھر بھی ان کو بتلا دو کہ وہ لوگ مسلمان دیہاتیوں کی طرح ہوں گے۔ ان پر اللہ کا وہی حکم جاری ہوگا جو مومنین پر جاری ہوتا ہے۔ اور ان کا مال فئی اور مال غنیمت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا مگر یہ کہ وہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں۔ پس اگر وہ اس بات کا بھی انکار کردیں تو ان کو جزیہ دینے کی طرف بلاؤ۔ اگر وہ مان جائیں تو ان کی طرف سے یہ قبول کرو اور ان سے لڑائی کرنے سے رک جاؤ۔ اور اگر وہ انکار کردیں تو اللہ سے مدد مانگو اور ان سے قتال کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34817]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34817، ترقيم محمد عوامة 33300)
ترقیم عوامۃ: 33301 ترقیم الشثری: -- 34818
٣٤٨١٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا ابو الاشهب عن الحسن قال: قاتل رسول الله ﷺ اهل هذه الجزيرة من العرب على الإسلام لم يقبل منهم غيره، وكان افضل الجهاد، وكان بعده جهاد آخر على هذه الطغمة في اهل الكتاب: ﴿قاتلوا الذين لا يؤمنون بالله ولا (باليوم) (١) الآخر﴾ [التوبة: ٢٩] ، إلى آخر الآية (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (ولا باليوم).
(٢) مرسل؛ الحسن تابعي.
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیرہ عرب کے لوگوں سے اسلام پر جہاد کیا اور اسلام کے علاوہ ان سے کوئی دوسری بات قبول نہیں کی۔ اور یہ افضل ترین جہاد تھا اور اس کے بعد دوسرا جہاد اہل کتاب کے ذلیل ترین لوگوں سے کیا جس کا آیت میں ذکر ہے: { قَاتِلُوا الَّذِینَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِاللہِ وَلاَ بِالْیَوْمِ الآخِرِ } سے آیت کے آخر تک۔ ترجمہ: جنگ کرو ان لوگوں سے جو ایمان نہیں رکھتے اللہ پر اور آخرت کے دن پر، حضرت حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ان دونوں کے سوا جو بھی صورت ہوگی وہ بدعت اور گمراہی ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34818]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34818، ترقيم محمد عوامة 33301)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 34819
٣٤٨١٩ - قال الحسن: (ما سواهما) (١) بدعة وضلالة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (ما سواها).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34819، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 33302 ترقیم الشثری: -- 34820
٣٤٨٢٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا يزيد بن إبراهيم عن الحسن قال: كتب رسول الله ﷺ إلى اهل اليمن:"من صلى صلاتنا واستقبل قبلتنا واكل ذبيحتنا فذالكم المسلم، له ذمة الله وذمة (رسوله) (١) ﷺ ومن ابى فعليه الجزية" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (رسول اللَّه).
(٢) مرسل؛ الحسن تابعي، أخرجه البلاذري في فتوح البلدان ١/ ٨٠.
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن والوں کی طرف خط لکھا: کہ جو شخص ہماری نماز پڑھے اور ہمارے قبلہ کی طرف استقبال کرے، اور ہمارا ذبیحہ کھائے، پس وہ مسلمان ہے۔ اس کے لیے اللہ کا ذمہ ہے اور اس کے لیے رسول 5 کا ذمہ ہے۔ اور جو ان باتوں کا انکار کرے تو اس پر جزیہ لازم ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34820]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34820، ترقيم محمد عوامة 33302)
ترقیم عوامۃ: 33303 ترقیم الشثری: -- 34821
٣٤٨٢١ - حدثنا وكيع قال: ثنا الاعمش عن ابي وائل وإبراهيم قالا: بعث رسول الله ﷺ معاذا إلى اليمن، وامره ان ياخذ الجزية من كل حالم دينارا او عدله معافر (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ أبو وائل وإبرهيم تابعيان، وانظر: ما سيأتي برقم [٣٤٨٢٤].
حضرت ابو وائل رحمہ اللہ اور حضرت ابراہیم رحمہ اللہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر معافر لیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34821]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34821، ترقيم محمد عوامة 33303)
ترقیم عوامۃ: 33304 ترقیم الشثری: -- 34822
٣٤٨٢٢ - حدثنا عبدة بن سليمان عن عبيد الله عن نافع عن اسلم مولى عمر قال: كتب عمر إلى امراء الجزية: لا تضعوا الجزية إلا على من جرت عليه الموسى، ولا تضعوا الجزية على النساء ولا على الصبيان، قال: وكان عمر يختم اهل الجزية في اعناقهم (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (١٠٠٩٠)، والبيهقي ٩/ ١٩٨، وابن عساكر ٢/ ١٨٤، وأبو عبيد في الأموال (٩٣)، ويحيى بن آدم في الخراج (٢٣١)، وابن عبد الحكم في فتوح مصر ص ٢٦٧.
حضرت اسلم رحمہ اللہ جو کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جزیہ وصول کرنے والے امیروں کی طرف خط لکھا: تم جزیہ مقرر نہ کرو مگر اس شخص پر جو بالغ ہو اور تم بچوں اور عورتوں پر بھی جزیہ مقرر مت کرو۔ راوی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جزیہ دینے والوں کی گردنوں میں مہر لگاتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34822]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34822، ترقيم محمد عوامة 33304)
ترقیم عوامۃ: 33305 ترقیم الشثری: -- 34823
٣٤٨٢٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا فضيل بن عياض عن ليث عن مجاهد قال: يقاتل اهل (الاوثان) (١) على الإسلام، ويقاتل اهل الكتاب على الجزية.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (الأديان).
حضرت لیث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: بتوں کے پجاریوں سے اسلام کی بنیاد پر قتال کیا جاتا تھا، اور اہل کتاب سے جزیہ کی بنیاد پر قتال کیا جاتا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34823]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34823، ترقيم محمد عوامة 33305)
ترقیم عوامۃ: 33306 ترقیم الشثری: -- 34824
٣٤٨٢٤ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن إبراهيم عن مسروق قال: لما بعث رسول الله ﷺ معاذا إلى اليمن امره ان ياخذ من كل حالم دينارا او عدله معافر (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ مسروق تابعي، وورد من حديث مسروق عن معاذ أخرجه أحمد (٢٢٠١٣)، وأبو داود (١٥٧٨)، والترمذي (٦٢٣)، والنسائي ٥/ ٢٥، وابن خزيمة (٢٢٦٨)، وابن حبان (٤٨٨٦)، والحاكم ١/ ٣٩٨، وابن الجارود (١١٠٤)، والدارقطني ٢/ ١٠٢.
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا تو ان کو حکم دیا کہ وہ ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر معافر لیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34824]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34824، ترقيم محمد عوامة 33306)
ترقیم عوامۃ: 33307 ترقیم الشثری: -- 34825
٣٤٨٢٥ - حدثنا ابو اسامة عن (سعيد) (١) عن قتادة عن ابي مجلز ان عمر جعل على كل راس في السنة اربعا وعشرين، وعطل النساء والصبيان (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (سعد).
(٢) منقطع؛ أبو مجلز لا يروي عن عمر.
حضرت ابو مجلز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہر شخص پر سال میں چوبیس درہم مقرر فرمائے۔ اور عورتوں اور بچوں سے ہٹا دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 34825]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34825، ترقيم محمد عوامة 33307)