🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

69. ما قالوا: في قسمة ما يفتح من الأرض، وكيف كان؟
زمین کا جو حصہ فتح ہو جائے ا س کو تقسیم کرنے کا بیان اور یہ تقسیم کیسے ہو گی
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33643 ترقیم الشثری: -- 35182
٣٥١٨٢ - حدثنا (عثام) (١) بن علي عن الاعمش عن ابي إسحاق عن ابن مضرب قال: قسم عمر السواد بين اهل الكوفة، فاصاب كل رجل منهم ثلاثة فلاحين، فقال له عمر: فمن يكون لهم بعدهم، فتركهم (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ح، ط، هـ]: (هشام).
(٢) صحيح.

حضرت ابن مضرب رحمہ اللہ فرماتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے زرعی زمین اہل کوفہ کے درمیان تقسیم فرما دی اس طرح ہر شخص کے حصہ میں تین کسان آئے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: اس تقسیم کے بعد ان لوگوں کو کیا ملے گا؟ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ان سب کو چھوڑ دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35182]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35182، ترقيم محمد عوامة 33643)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33644 ترقیم الشثری: -- 35183
٣٥١٨٣ - حدثنا ابن فضيل عن بيان عن قيس قال: كان (لبجيلة) (١) ربع السواد فقال عمر: لولا اني قاسم مسؤول ما زلتم على الذي قسم لكم (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (لنحيلة).
(٢) صحيح.

حضرت قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بجیلہ کے پاس بہت سی زمین تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں تقسیم کرنے والا اور نگران ہوتا تو تمہارے پاس وہی ہوتا جو تم میں تقسیم ہوا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35183]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35183، ترقيم محمد عوامة 33644)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33645 ترقیم الشثری: -- 35184
٣٥١٨٤ - حدثنا ابن فضيل عن يحيى بن سعيد عن بشير بن يسار عن رجل من اصحاب النبي ﷺ ان النبي ﷺ حين ظهر على خيبر وصارت خيبر لرسول الله ﷺ ⦗٣٢٩⦘ والمسلمين، ضعفوا من عملها، فدفعوها إلى اليهود (يعملونها وينفقون) (١) عليها على ان لهم نصف ما خرج منها، فقسمها رسول الله ﷺ على ستة وثلاثين سهما، لكل سهم مائة سهم، فجعل رسول الله ﷺ نصف ذلك كله، فكان في ذلك النصف سهام المسلمين، وسهم رسول الله ﷺ معهم، وجعل النصف الآخر لمن ينزل به من الوفود والامور ونوائب الناس (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (يعملونها)، وفي [هـ]: (يعملون).
(٢) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٦٤٦٤)، وأبو داود (٣٠١١)، والبيهقي ٦/ ٣١٧، وورد من حديث بشير عن سهل بن أبي حثمة، أخرجه أبو داود (٣٠١٠)، والطبراني (٥٦٣٤)، والطحاوي ٣/ ٢٥١، وورد مرسلًا، أخرجه ابن سعد ٢/ ١١٣، وابن شبه (٥٢٦).

حضرت بشیر بن یسار رحمہ اللہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر پر فتح پائی اور خیبرسارے کا سارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کا ہوگیا تو یہ لوگ اس میں کام کرنے سے تھک گئے تو انہوں نے یہ زمینیں یہود کو دے دیں کہ وہ ان میں کام کریں اور اس پر خرچ کریں اس شرط پر کہ پیدا ہونے والی کھیتی کا آدھا حصہ ان کو ملے گا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چھتیس حصوں میں تقیسم کردیا اس طرح کہ ہر حصہ میں سو حصے تھے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تمام کا نصف حصہ مسلمانوں کے لیے خاص کردیا اس طرح کہ اس آدھے میں مسلمانوں کے بھی حصہ تھے اور ان کے ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی حصہ تھا۔ اور دوسرے نصف کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے وفود کے لیے دوسرے معاملات اور لوگوں کے مصائب کے لیے خاص کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35184]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35184، ترقيم محمد عوامة 33645)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33646 ترقیم الشثری: -- 35185
٣٥١٨٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن حبيب بن ابي ثابت عن ابي وائل قال: قال عمر: (لئن) (١) بقيت لآخذن فضل مال الاغنياء ولاقسمنه في فقراء المهاجرين (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (لين).
(٢) صحيح؛ أخرج نحوه البخاري (٧٢٧٥)، وأحمد (١٥٣٨٣).

حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضر ت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: اگر میں زندہ رہا تو میں ضرور بالضرور مالداروں کا زائد مال لے لوں گا اور میں اسے فقراء مہاجرین کے درمیان تقسیم کر دوں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35185]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35185، ترقيم محمد عوامة 33646)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33647 ترقیم الشثری: -- 35186
٣٥١٨٦ - حدثنا وكيع (قال) (١) : ثنا سفيان عن واصل (الاحدب) (٢) عن ابي وائل قال: جلست إلى شيبة بن عثمان فقال لي: جلس عمر بن الخطاب مجلسك هذا فقال لي: لقد هممت ان لا ادع في الكعبة صفراء ولا بيضاء إلا (قسمتها) (٣) بين الناس قال: قلت له: ليس ذلك إليك، قد سبقك صاحباك فلم يفعلا ذلك، قال: هما (المرءان) (٤) يقتدى بهما (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) في [هـ]: (الأحدث).
(٣) في [هـ]: (قسمها).
(٤) في [هـ]: (أكبران).
(٥) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٩٥١)، وأحمد (١٥٣٨٢).

حضرت ابو وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت شیبہ بن عثمان رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تمہاری اس جگہ پر بیٹھے تھے اور مجھ سے فرمایا: کہ تحقیق میرا ارادہ ہے کہ میں کعبہ میں کوئی سونا چاندی نہیں چھوڑوں گا مگر میں اس کو لوگوں کے درمیان تقسیم کر دوں گا۔ میں نے ان سے کہا: اس کا آپ رضی اللہ عنہ کو اختیار نہیں ہے۔ تحقیق آپ رضی اللہ عنہ کے دو ساتھی گزر چکے اور ان دونوں نے یہ کام نہیں کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں وہ دونوں ایسی شخصیات ہیں کہ ان کی اقتداء کی جانی چاہیے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35186]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35186، ترقيم محمد عوامة 33647)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33648 ترقیم الشثری: -- 35187
٣٥١٨٧ - حدثنا ابن إدريس عن مالك بن انس عن زيد بن اسلم عن اسلم قال: سمعت عمر يقول: والذي نفس عمر بيده لولا ان يترك آخر الناس لا شيء لهم ما افتتح على المسلمين قرية من قرى الكفار إلا قسمتها سهمانا كما قسم رسول الله ﷺ خيبر سهمانا، ولكن اردت ان يكون جرية تجري عليهم، وكرهت ان يترك آخر الناس لا شيء لهم (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٣٣٤)، وأحمد (٢٨٤).
حضرت اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں عمر کی جان ہے! اگر یہ خوف نہ ہوتا کہ بعد والے لوگ رہ جائیں گے اور ان کو کچھ حصہ نہیں ملے گا۔ تو میں جتنی بھی کافروں کی بستیاں مسلمانوں نے فتح کی ہیں ان سب کو ایسے ہی حصوں میں تقسیم کردیتا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو حصوں میں تقسیم فرمایا تھا۔ لیکن میں نے ارادہ کیا ہے کہ ان کے لیے وظیفہ جاری کردیا جائے۔ اس لیے کہ میں ناپسند کرتا ہوں کہ بعد والے لوگ ایسے رہ جائیں کہ ان کے لیے کچھ بھی نہ ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35187]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35187، ترقيم محمد عوامة 33648)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33649 ترقیم الشثری: -- 35188
٣٥١٨٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا محمد بن عبد الله الشعيثي عن ليث (ابي المتوكل) (١) عن مالك بن اوس بن الحدثان قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول: ما من احد من المسلمين إلا له في هذا الفيء نصيب إلا عبد مملوك، ولئن بقيت ليبلغن الراعي نصيبه من هذا الفيء في جبال صنعاء (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، ح]، وفي كتب التراجم أن الشعيثي يروي عن ليث بن المتوكل كما في التاريخ الكبير ٧/ ٢٤٧، والإكمال في رجال أحمد ص ٣٦٦، وتعجيل المنفعة ص ٣٥٥، ونقل عن ابن عساكر ص ٣٨٧، أنه وهم صوابه المتوكل بن الليث، وانظر: تاريخ دمشق ٥٦/ ٤٦٦، وانظر: أسد الغابة ٥/ ٣٣.
(٢) مجهول؛ لجهالة ليث.

حضرت مالک بن أوس الحدثان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یوں فرماتے ہوئے سنا: کہ مسلمانوں میں سے ہر شخص کا اس مال غنیمت میں حصہ ہے سوائے غلام کے، اور اگر میں زندہ رہا تو صنعاء کی پہاڑیوں میں رہنے والے چرواہے کو بھی اس مال غنیمت سے ضرور حصہ پہنچے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35188]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35188، ترقيم محمد عوامة 33649)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33650 ترقیم الشثری: -- 35189
٣٥١٨٩ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو بن دينار عن الزهري عن مالك بن اوس ابن الحدثان عن عمر قال: كانت اموال (١) بني النضير مما افاء الله على رسوله (٢) مما لم يوجف عليه المسلمون بخيل ولا ركاب، فكانت للنبي ﷺ خاصة، فكان يحبس منها نفقة سنة، وما بقي جعله في الكراع والسلاح عدة في سبيل الله (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (مولى).
(٢) في [أ]: زيادة ﷺ.
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٩٠٤)، ومسلم (١٥٨٦).

حضرت مالک بن اوس الحدثان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضر ت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: بنو نضیر کا مال جو اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا تھا۔ وہ مسلمانوں کو بغیر قتال کے حاصل ہوا اس میں قتال کی ضرورت نہیں پڑی۔ اور یہ مال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خاص تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اپنے سال کا خرچہ روک لیتے تھے۔ اور جو باقی بچتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو گھوڑے اور اسلحہ کے لیے خاص فرما دیتے ان کو اللہ کے راستہ میں استعمال کرنے کی تیاری کے سلسلہ میں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35189]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35189، ترقيم محمد عوامة 33650)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33651 ترقیم الشثری: -- 35190
٣٥١٩٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا هشام بن سعد عن زيد بن اسلم عن ابيه قال: اتي عمر بن الخطاب بغنائم من غنائم جلولاء فيها ذهب وفضة، فجعل يقسمهما بين الناس فجاء ابن له يقال له: عبد الرحمن فقال: يا (امير) (١) المؤمنين اكسني خاتما، قال: اذهب إلى امك تسقيك شربة من سويق، قال: فوالله ما اعطاه شيئا (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (أمر).
(٢) ضعيف؛ لضعف هشام بن سعد.

حضرت اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس مقام جلولاء کے غنائم میں سے مال غنیمت لایا گیا جس میں سونا چاندی بھی موجود تھا۔ پس آپ رضی اللہ عنہ اس کو لوگوں کے درمیان تقسیم فرما رہے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا آیا جس کا نام عبد الرحمن تھا۔ اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! مجھے بھی ایک انگوٹھی پہنا دیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو اپنی ماں کے پاس جا وہ تجھے ستّو کا شربت پلائے گی! اور فرمایا: اللہ کی قسم! میں اس کو کچھ بھی نہیں دوں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35190]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35190، ترقيم محمد عوامة 33651)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33652 ترقیم الشثری: -- 35191
٣٥١٩١ - حدثنا عفان قال: ثنا عبد الواحد قال: ثنا ابو (طلق) (١) قال: (حدثنا) (٢) ابو حنظلة بن نعيم ان سعدا كتب إلى عمر: انا اخذنا ارضا لم يقاتلنا اهلها، قال: فكتب إليه عمر إن شئتم ان تقسموها بينكم فاقسموها، وإن شئتم ان تدعوها فيعمرها اهلها ومن دخل فيكم بعد كان له فيها نصيب، فإني اخاف ان تشاحوا (فيها) (٣) وفي (شربها) (٤) فيقتل بعضكم بعضا، فكتب إليه سعد: ان المسلمين قد اجمعوا على ان رايهم لرايك (تبع) (٥) ، فكتب إليه: ان يردوا الرقيق (إلا) (٦) امراة حملت من رجل من المسلمين (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ط، هـ]: (بكر)، وقد أخرجه الأثرم كما في الاستخراج لأحكام الخراج ص ٢٣، وأبو طلق هو عدي بن حنظلة، انظر: التاريخ الكبير ٧/ ٤٥، والكنى للدولابي ١/ ٣٢٢.
(٢) في [هـ]: (كتب).
(٣) في [ط، هـ]: (منها).
(٤) في [أ، ب]: (شريها).
(٥) في (أ، ب): (تبعًا).
(٦) في [أ، جـ، ط، هـ]: (إلى).
(٧) مجهول؛ لجهالة أبي حنظلة، وأبي طلق.

حضرت ابو حنظلہ بن نعیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد رحمہ اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طر ف خط لکھا کہ ہم نے ایک علاقہ پر بغیر قتال کے قبضہ کرلیا ہے۔ اب ہم کیا کریں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو خط کا جواب لکھا: اگر تم لوگ اس علاقہ کو اپنے درمیان تقسیم کر نا چاہو تو اس کو تقسیم کرلو اور اگر تم چاہو تو اس علاقہ کو چھوڑ دو اس کے مکین ہی اس کو آباد کرلیں گے۔ اور جو شخص تمہارے میں داخل ہوگا اس علاقہ میں اس کو حصہ مل جانے کے بعد تو مجھے خوف ہے کہ تم لوگ اس معاملہ میں اور پانی کی باری میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرو گے۔ پھر تم میں سے بعض بعض کو قتل کردیں گے۔ حضرت سعد رحمہ اللہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا اور فرمایا: بلاشبہ تمام مسلمانوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ان کی رائے آپ رضی اللہ عنہ کی رائے کے تابع ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو پھر خط لکھا اور فرمایا: کہ یہ لوگ غلاموں کو ان کی عورتوں کی طرف واپس لوٹا دیں چاہے وہ مسلمانوں میں کسی آدمی سے حاملہ ہوچکی ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35191]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35191، ترقيم محمد عوامة 33652)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں