🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. بَابُ ذِكْرِ بَيَانِ الْمَوَاقِيتِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ
باب: نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 983 ترقیم الرسالہ : -- 996
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ أَبِي الأَبْيَضِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُحَلِّقَةٌ"، فَآتِي عَشِيرَتِي وَهُمْ جُلُوسٌ، فَأَقُولُ: مَا يُجْلِسُكُمْ صَلُّوا، فَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز عصر ادا کی تو سورج ابھی روشن تھا پھر میں اپنے خاندان میں آیا، وہ لوگ وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے کہا: تم لوگ کیوں بیٹھے ہو، تم لوگ نماز ادا کرو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو نماز ادا کر چکے ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 996]
ترقیم العلمیہ: 983
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 548، 550، 551، 7329، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 621، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 13، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1518، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 505، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1507، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 404، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 682، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 994، 995، 996، 997، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12525»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 984 ترقیم الرسالہ : -- 997
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أَبِي الأَبْيَضِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُحَلِّقَةٌ"، ثُمَّ آتِي عَشِيرَتِي وَهُمْ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ جُلُوسٌ لَمْ يُصَلُّوا، فَأَقُولُ: مَا يُجْلِسُكُمْ قُومُوا صَلُّوا، فَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھا دی جبکہ سورج ابھی روشن اور چمکدار تھا، پھر میں اپنے خاندان والوں کے پاس آیا، وہ مدینہ منورہ کے کنارے میں بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے ابھی نماز ادا نہیں کی تھی، میں نے کہا: تم لوگ کیوں بیٹھے ہو، اٹھو، نماز پڑھ لو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو نماز ادا کر چکے ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 997]
ترقیم العلمیہ: 984
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 548، 550، 551، 7329، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 621، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 13، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1518، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 505، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1507، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 404، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 682، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 994، 995، 996، 997، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12525»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 985 ترقیم الرسالہ : -- 998
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، ثنا أحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كَانَ أَبْعَدُ رَجُلَيْنِ مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَارا: أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ، وَأَهْلُهُ بِقُبَاءٍ، وَأَبُو عُبَيْسِ بْنُ خَيْرٍ، وَمَسْكَنُهُ فِي بَنِي حَارِثَةَ، فَكَانَا يُصَلِّيَانِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، ثُمَّ يَأْتِيَانِ قَوْمَهُمَا وَمَا صَلُّوا لِتَعْجِيلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انصار میں سے سب سے زیادہ دور سیدنا ابولبابہ کا گھر تھا، جو قبا میں تھا اور ابوعمیس کا گھر جو بنو حارثہ کے محلے میں تھا، یہ دونوں حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کرتے تھے پھر اپنی اپنی جگہ پہنچ جاتے تھے تو ان لوگوں نے ابھی نماز ادا نہیں کی ہوتی تھی۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جلد یہ نماز ادا کر لیا کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 998]
ترقیم العلمیہ: 985
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 699، 5543، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 998، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 13686، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 1133، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 4515، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 7946»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 986 ترقیم الرسالہ : -- 999
وَقَالَ الْعَلاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلا أُخْبِرُكُمْ بِصَلاةِ الْمُنَافِقِ، يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّى إِذَا اصْفَرَّتْ فَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلا قَلِيلا" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: کیا میں تمہیں منافق کی نماز کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ سورج کی طرف دیکھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب سورج زرد ہو جاتا ہے اور شیطان کے دو سینگوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے تو وہ شخص اٹھ کر چار مرتبہ ٹھونگے مارتا ہے اور وہ اس نماز میں اللہ کا ذکر بہت تھوڑا سا کرتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 999]
ترقیم العلمیہ: 986
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 622، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 743، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 333، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 259، 260، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 509،، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 413، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 160، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 999، 1000، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12181»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 987 ترقیم الرسالہ : -- 1000
وَقَالَ حَفْصُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ ذَلِكَ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1000]
ترقیم العلمیہ: 987
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 622، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 743، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 333، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 259، 260، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 509،، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 413، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 160، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 999، 1000، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12181»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 988 ترقیم الرسالہ : -- 1001
وَقَالَ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ فِي حُجْرَتِي لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ بَعْدُ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کر لیتے تھے جبکہ دھوپ ابھی میرے حجرے میں باقی ہوتی تھی اور سایہ ڈھلا نہیں ہوتا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1001]
ترقیم العلمیہ: 988
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 522، 544، 545، 546، 3103، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 611، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 5، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 332، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1450، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 504، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 407، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 159، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1223، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 683، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 170، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1001، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24729»
«»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 989 ترقیم الرسالہ : -- 1002
حَدَّثَنَا الْقَاضِيَانِ: أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، وَأَبُو عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ قَالا: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، نا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، نا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ عِنْدِي جَزُورًا أُرِيدُ أَنْ أَنْحَرَهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ تَحْضُرَهَا، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْصَرَفْنَا فَنُحِرَتِ الْجَزُورُ وَصُنِعَ لَنَا مِنْهَا، وَطَعِمْنَا مِنْهَا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ، وَكُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَسِيرُ الرَّاكِبُ سِتَّةَ أَمْيَالٍ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں عصر کی نماز ادا کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم کر لی تو بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے پاس ایک اونٹ ہے میں اسے قربان کرنا چاہتا ہوں میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ بھی وہاں موجود ہوں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے ہم بھی چل پڑے، پھر اس اونٹ کو قربان کیا گیا پھر اسے ہمارے لیے تیار کیا گیا تو سورج غروب ہونے سے پہلے ہی ہم نے اس کا گوشت بھی کھا لیا (سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) ہم لوگ عصر کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ادا کرتے تھے اس کے بعد کوئی شخص چھ میل کا فاصلہ سورج غروب ہونے سے پہلے طے کر لیا کرتا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1002]
ترقیم العلمیہ: 989
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 624، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1516، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2117، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1002، 1003»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 990 ترقیم الرسالہ : -- 1003
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الْقَاضِي، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ، نا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ مُوسَى بْنَ سَعْدٍ الأَنْصَارِيَّ ، حَدَّثَهُ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَنْحَرَ جَزُورًا لَنَا فَنُحِبُّ أَنْ تَحْضُرَنَا، قَالَ: نَعَمْ"، فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ فَوَجَدْنَا الْجَزُورَ لَمْ تُنْحَرْ، فَنُحِرَتْ، ثُمَّ قُطِعَتْ، ثُمَّ طُبِخَ مِنْهَا فَأَكَلْنَا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی جب ہم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ہم اونٹ قربان کرنا چاہتے ہیں ہم یہ چاہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں تشریف لائیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے آپ کے ساتھ ہم بھی چلے گئے تو وہاں ہم نے یہ صورت حال پائی کہ اونٹ کو ابھی قربان نہیں کیا گیا تھا، پھر اسے قربان کیا گیا پھر اس کا گوشت بنایا گیا پھر اسے پکایا گیا تو سورج غروب ہونے سے پہلے ہم نے اسے کھا بھی لیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1003]
ترقیم العلمیہ: 990
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 624، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1516، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2117، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1002، 1003»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 991 ترقیم الرسالہ : -- 1004
حَدَّثَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ، ثنا الْحَسَّانِيُّ، نا وَكِيعٌ، نا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، قَالَ:" إِنَّمَا سُمِّيَتِ: الْعَصْرُ لأَنَّهَا تَعْصَرُ" .
ابوقلابہ کہتے ہیں: عصر کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ اسے نچوڑ لیا جاتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1004]
ترقیم العلمیہ: 991
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1004، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 3337، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 1155»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 992 ترقیم الرسالہ : -- 1005
حَدَّثَنَا الْقَاضِي أَبُو عُمَرَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، أَنَّ الْحَسَنَ، وَابْنَ سِيرِينَ، وَأَبَا قِلابَةَ" كَانُوا يُمْسُونَ بِالْعَصْرِ" .
خالد حذاء بیان کرتے ہیں: حسن بصری، ابن سیرین اور ابوقلابہ تاخیر سے عصر ادا کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1005]
ترقیم العلمیہ: 992
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1005، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 2087، 2088»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں