🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. بَابُ دُعَاءِ الِاسْتِفْتَاحِ بَعْدَ التَّكْبِيرِ
باب: تکبیر کے بعد نماز کے آغاز کی دعا۔
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1122 ترقیم الرسالہ : -- 1137
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ ، ثنا الْمَاجِشُونُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ كَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ:" وَجَّهْتُ وَجْهِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنُ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لا يَغْفِرُ?لذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ"، وَإِذَا رَكَعَ قَالَ:" اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي"، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ"، فَإِذَا سَجَدَ قَالَ:" اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلْقَهُ، وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ"، وَإِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلاةِ قَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدَّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز کرتے تھے تو تکبیر کہنے کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے: میں نے اپنا رخ اس ذات کی طرف کر لیا جس نے آسمان و زمین کو ٹھیک طور پر پیدا کیا ہے اور میں مشرک نہیں ہوں میری نماز میری قربانی، میری زندگی، میری موت اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں، اے اللہ! تو بادشاہ ہے، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے تو میرا پروردگار ہے میں تیرا بندہ ہوں میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے، میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں تو میرے تمام گناہوں کو بخش دے، گناہوں کو تیرے علاوہ کوئی بخش نہیں سکتا، میں حاضر ہوں، تیری بارگاہ میں بھلائی اور سعادت سب تیرے دست قدرت میں ہے، اور برائی تیری طرف نہیں آ سکتی، میں تیری مدد سے سب کچھ کر سکتا ہوں، تیری طرف رجوع کرتا ہوں، تیری ذات برکت والی ہے، تو بلند و برتر ہے میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع میں جاتے تھے تو آپ یہ پڑھتے تھے: اے اللہ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا، میں تجھ پر ایمان لایا، میں تیرے سامنے جھک گیا، میری سماعت، میری بصارت، میرا مغز، میری ہڈیاں، میرے پٹھے (تیری بارگاہ میں جھک گئے)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: جس شخص نے اللہ کی حمد بیان کی، اللہ نے اس کی حمد کو سن لیا، اے ہمارے پروردگار ہر طرح کی حمد تیرے لیے مخصوص ہے، جو اتنی ہو جو آسمان و زمین کو بھر دے اور ان کے درمیان موجود جگہ کو بھر دے اور اس کے علاوہ جو تو چاہے اس حصے کو بھی بھر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدے میں جاتے تو یہ پڑھتے تھے: اے اللہ! میں نے تیری بارگاہ میں سجدہ کیا میں تجھ پر ایمان لایا تیرے لیے اسلام قبول کیا، میرا سر اس ذات کے لیے جھکا ہوا ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے، اسے صورت دی ہے اور اچھی صورت دی ہے، اسے سماعت اور بصارت سے نوازا ہے اللہ کی ذات برکت والی ہے جو سب سے بہترین خالق ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھنے کے بعد سلام پھیرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: اے اللہ! جو میں پہلے کر چکا ہوں جو بعد میں کروں گا جو خفیہ طور پر کروں گا جو اعلانیہ طور پر کیا، جو اسراف کیا، جس کے بارے میں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، تو ان سب کے بارے میں میری مغفرت کر دے تو آگے کرنے والا ہے تو پیچھے کرنے والا ہے، تیرے علاوہ کوئی اور معبود نہیں۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: نضر بن شمیل کے حوالے سے یہ بات پتہ چلی ہے جو علم لغت کے ماہرین میں سے ہیں وہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ، برائی تیری طرف نہیں جا سکتی۔ اس سے مراد یہ ہے برائی ایسی چیز نہیں ہے جس کے ذریعے تیرا قرب حاصل کیا جائے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1137]
ترقیم العلمیہ: 1122
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 393، 771، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 462، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 896، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 744، 760، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 266، 3421، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 864، 1054، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1137، 1138، 1294، 1295، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 728»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1123 ترقیم الرسالہ : -- 1138
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثنا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ الصَّلاةَ الْمَكْتُوبَةَ، قَالَ:" وَجَّهْتُ وَجْهِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنُ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لأَحْسَنِ الأَخْلاقِ لا يَهْدِينِي لأَحْسَنِهَا إِلا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ وَأَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ" . قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ فِي الصَّلاةِ الْمَكْتُوبَةِ ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کے آغاز میں یہ پڑھتے تھے: میں نے اپنا رخ اس ذات کی طرف کر لیا ہے، جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے میں نے (ہر غلط دین سے روگرداں ہوتے ہوئے) مسلمانوں کے طور پر اپنا (رخ اللہ کی طرف کیا ہے) اور میں مشرک نہیں ہوں، میری نماز، میری قربانی، میری زندگی، میری موت اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، جس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمان ہوں، اے اللہ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، تو پاک ہے، حمد تیرے لیے مخصوص ہے تو میرا پروردگار ہے میں تیرا بندہ ہوں میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے، میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں تو میرے تمام گناہوں کی بخشش کر دے، تیرے علاوہ کوئی اور گناہوں کی بخشش نہیں کر سکتا، اچھے اخلاق کی طرف تو ہی راہنمائی کر سکتا ہے، اور تو برے اخلاق کو مجھ سے دور کر دے مجھ سے برے اخلاق کو صرف تو ہی دور کر سکتا ہے، میں حاضر ہوں، بھلائی اور سعادت تیرے دست قدرت میں ہے، وہی شخص ہدایت یافتہ ہے جسے تو ہدایت نصیب کرے میں تیری مدد سے سب کچھ کرتا ہوں تیری طرف رجوع کرتا ہوں تو برکت والا ہے، بلند و برتر ہے، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔ راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز میں سجدے میں جاتے تھے اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1138]
ترقیم العلمیہ: 1123
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 393، 771، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 462، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 896، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 744، 760، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 266، 3421، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 864، 1054، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1137، 1138، 1294، 1295، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 728»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1124 ترقیم الرسالہ : -- 1139
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا سَلْمٌ الْبَغْدَادِيُّ ، ثنا أَبُو حَيْوَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، ثنا شُرَيْحُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو حَيْوَةَ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلاةَ، قَالَ:" إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ اهْدِنِي لأَحْسَنِ الأَخْلاقِ وَأَحْسَنِ الأَعْمَالِ لا يَهْدِي لأَحْسَنِهَا إِلا أَنْتَ، وَقِنِي سِيِّئَ الأَخْلاقِ وَالأَعْمَالِ لا يَقِي سَيِّئَهَا إِلا أَنْتَ" . قَالَ شُعَيْبٌ: قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ وَغَيْرُهُ مِنْ فُقَهَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ: إِنْ قُلْتَ أَنْتَ هَذَا الْقَوْلَ فَقُلْ: وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ الْكَرِيمِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز کرتے تو یہ پڑھتے تھے: بیشک میری نماز میری قربانی، میری زندگی، میری موت اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے، اور میں سب سے پہلے مسلمان ہوں، اے اللہ! اچھے اخلاق کی طرف اور اچھے اعمال کی طرف میری راہنمائی کر، اچھے اخلاق اور اچھے اعمال کی طرف صرف تو ہی راہنمائی کر سکتا ہے، برے اخلاق اور برے اعمال سے مجھے بچا لے ان سے صرف تو ہی بچا سکتا ہے۔ شعیب نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: محمد بن منکدر اور دیگر فقہاء نے مجھے یہ کہا: اگر تم یہ الفاظ بھی پڑھ لو تو بہتر ہو گا، اور میں مسلمان ہوں۔ روایت کے یہ الفاظ عبدالکریم نامی راوی کے ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1139]
ترقیم العلمیہ: 1124
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 895، برقم: 897، 1051، 1127، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 643، 717، 972، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2388، 2389، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1139، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 515، 516»
«قال البيهقي: واختلف عليه فيه وليس له إسناد قوي، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 202)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1125 ترقیم الرسالہ : -- 1140
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يُونُسَ بْنِ يَاسِينَ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَلِيٍّ الرِّفَاعِيُّ ، قَالَ إِسْحَاقُ وَكَانَ يشبه بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ اسْتَفْتَحَ صَلاتَهُ فَكَبَّرَ، قَالَ:" سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، رَبَّنَا وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلا إِلَهَ غَيْرُكَ - ثَلاثًا -، أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ"، قَالَ: ثُمَّ يَقْرَأُ .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت نوافل ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو نماز کے آغاز میں تکبیر کہنے کے بعد یہ پڑھتے تھے: تو پاک ہے اے اللہ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تیرا نام برکت والا ہے، تو بلند و برتر ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کلمات تین مرتبہ پڑھتے تھے: میں سماعت اور علم رکھنے والے اللہ کی مردود شیطان، اس کے وسوسوں اور چالوں سے پناہ مانگتا ہوں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1140]
ترقیم العلمیہ: 1125
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 467، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 898، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 974، 975، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 775، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 242، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1275، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 804، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2386، 2393، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1140، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11649»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1126 ترقیم الرسالہ : -- 1141
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى ، ثنا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ ، ثنا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلائِيُّ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلاةَ، قَالَ:" سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلا إِلَهَ غَيْرُكَ" . قَالَ أَبُو دَاوُدَ: لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَبْدِ السَّلامِ غَيْرُ طَلْقِ بْنِ غَنَّامٍ، وَلَيْسَ هَذَا الْحَدِيثُ بِالْقَوِيِّ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے آغاز میں یہ پڑھا کرتے تھے: تو پاک ہے اے اللہ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تیرا نام برکت والا ہے، تیری عزت و بزرگی بلند و برتر ہے، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ اور امام ابوداؤد نے یہ بات بیان کی ہے، عبدالسلام نامی راوی کے حوالے سے اس روایت کو صرف طلق بن غنام نے نقل کیا ہے، اور یہ حدیث مستند نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1141]
ترقیم العلمیہ: 1126
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 470، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 865، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 776، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 243، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 806، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2384، 2385، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1141، 1149، 1150، 1152، والبزار فى ((مسنده)) برقم:،، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 1173، 1174»
«قال الدارقطني: ليس هذا الحديث بالقوي، سنن الدارقطني: (2 / 60) برقم: (1141)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1127 ترقیم الرسالہ : -- 1142
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الأَحْوَلُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُمَرَ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ لِلصَّلاةِ، قَالَ:" سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلا إِلَهَ غَيْرُكَ"، وَإِذَا تَعَوَّذَ قَالَ:" أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ هَمْزِ الشَّيْطَانِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ" . رَفَعَهُ هَذَا الشَّيْخُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْمَحْفُوظُ، عَنْ عُمَرَ مِنْ قَوْلِهِ، كَذَلِكَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ 17، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالأَسْوَدِ، عَنْ عُمَرَ، كَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ مِنْ قَوْلِهِ، وَهُوَ الصَّوَابُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر بن خطاب کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے تکبیر کہہ دیتے تھے تو پھر یہ پڑھتے تھے: تو پاک ہے اے اللہ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تیرا نام برکت والا ہے، تیری بزرگی بلند و برتر ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ جب آپ تعوذ پڑھتے تھے تو یہ پڑھتے تھے: میں شیطان اس کے وسوسوں اور اس کی چالوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اس بزرگ نے اپنے والد کے حوالے سے نافع کے حوالے سے، سیدنا عبداللہ بن عمر کے حوالے سے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس روایت کو اسی طرح مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے تاہم زیادہ محفوظ روایت یہ ہے، یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ان کے اپنے قول کے طور پر نقل کی گئی ہے، اس کو ابراہیم نے علقمہ اور اسود کے حوالے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔ یحییٰ بن ایوب نے اپنی سند کے حوالے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پر نقل کیا ہے، یہی درست ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1142]
ترقیم العلمیہ: 1127
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 399، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 866، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 170، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2387، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1142، 1143، 1144، 1145، 1146، 1147، 1151، 1153، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 136»
«قال الدارقطني: المحفوظ أنه موقوف على عمر، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (5 / 292)»

الحكم على الحديث: موقوف صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1128 ترقیم الرسالہ : -- 1143
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، نا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ شَيْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا كَبَّرَ لِلصَّلاةِ، قَالَ:" سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلا إِلَهَ غَيْرُكَ" . هَذَا صَحِيحٌ عَنْ عُمَرَ قَوْلُهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نقل کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب نماز کے لیے تکبیر کہتے تو پھر یہ دعا پڑھتے تھے: تو پاک ہے اے اللہ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تیرا نام برکت والا ہے، تیری بزرگی بلند و برتر ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پر منقول ہونے کے حوالے سے یہ روایت مستند ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1143]
ترقیم العلمیہ: 1128
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 399، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 866، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 170، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2387، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1142، 1143، 1144، 1145، 1146، 1147، 1151، 1153، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 136»
«قال الدارقطني: المحفوظ أنه موقوف على عمر، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (5 / 292)»

الحكم على الحديث: موقوف صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1129 ترقیم الرسالہ : -- 1144
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَيْلانَ ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْجُنَيْدِ ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ثنا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلاةَ، قَالَ:" سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلا إِلَهَ غَيْرُكَ" .
اسود، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: جب وہ نماز کا آغاز کرتے تھے تو یہ پڑھتے تھے: تو پاک ہے اے اللہ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے تیرا نام برکت والا ہے تیری بزرگی بلند و برتر ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1144]
ترقیم العلمیہ: 1129
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 399، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 866، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 170، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2387، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1142، 1143، 1144، 1145، 1146، 1147، 1151، 1153، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 136»
«صح هذا عن عمر بن الخطاب روي عنه من وجوه كثيرة، فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (4 / 342)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1130 ترقیم الرسالہ : -- 1145
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَكِيلُ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّهُ انْطَلَقَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ فَرَأَيْتُهُ قَالَ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلاةَ:" سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلا إِلَهَ غَيْرُكَ" .
علقمہ بیان کرتے ہیں: وہ سیدنا عمر بن خطاب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جب دیکھا کہ انہوں نے نماز کا آغاز کیا تو یہ پڑھا: تو پاک ہے اے اللہ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے تیرا نام برکت والا ہے تیری بزرگی بلند و برتر ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1145]
ترقیم العلمیہ: 1130
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 399، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 866، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 170، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2387، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1142، 1143، 1144، 1145، 1146، 1147، 1151، 1153، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 136»
«صح هذا عن عمر بن الخطاب روي عنه من وجوه كثيرة، فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (4 / 342)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1131 ترقیم الرسالہ : -- 1146
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حِينَ افْتَتَحَ الصَّلاةَ كَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ، مِثْلَهُ.
اسود بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا جب انہوں نے نماز کا آغاز کیا تو تکبیر کہنے کے بعد یہ پڑھا: تو پاک ہے اے اللہ!۔ اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1146]
ترقیم العلمیہ: 1131
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 399، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 866، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 170، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2387، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1142، 1143، 1144، 1145، 1146، 1147، 1151، 1153، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 136»
«صح هذا عن عمر بن الخطاب روي عنه من وجوه كثيرة، فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (4 / 342)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں