🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

35. بَابُ مَا يُجْزِيهِ مِنَ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْعَجْزِ عَنْ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ
باب: جو شخص (نماز میں) سورة فاتحہ نہ پڑھ سکتا ہو اس کے لیے کون سی دعا کو پڑھ لینا کافی ہوگا؟
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1181 ترقیم الرسالہ : -- 1195
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، ثنا أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ، قَالا: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مِسْعَرٍ . ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ ، وَأَبُو شَيْبَةَ ، قَالا: نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، ثنا مِسْعَرٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَنَّهُ لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا يُجْزِينِي مِنَ الْقُرْآنِ فَإِنِّي لا أَقْرَأُ، قَالَ:" قُلْ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ"، قَالَ: فَضَمَّ عَلَيْهَا بِيَدِهِ، وَقَالَ: هَذَا لِرَبِّي فَمَا لِي؟ قَالَ:" قُلِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي"، فَضَمَّ بِيَدِهِ الأُخْرَى وَقَامَ .
سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے اس بات کا تذکرہ کیا کہ وہ قرآن مجید کو یاد نہیں کر سکتا۔ ابن عیینہ نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ایسی چیز کی تعلیم دیں جو میرے لیے قرآن کی جگہ ہو کیونکہ میں قراءت نہیں کر سکتا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم یہ دعا پڑھو: ’اللہ تعالیٰ پاک ہے ہر طرح کی حمد اللہ کے لیے مخصوص ہے اور اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اللہ سب سے بڑا ہے اور اللہ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔‘ راوی بیان کرتے ہیں: اس نے اپنی انگلیاں بند کر کے (ان کلمات کو یاد کیا) اور پھر بولا: یہ تو میرے پروردگار کی تعریف کے لیے ہے میرے لیے (دعا کے طور پر) کیا ہو گا؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم یہ دعا مانگو: ’اے اللہ! تو میری مغفرت کر دے تو مجھ پر رحم کر مجھے ہدایت پر ثابت قدم رکھ تو مجھے رزق عطا کر اور تو مجھے عافیت نصیب کر۔‘ (راوی کہتے ہیں) تو اس نے دوسرے ہاتھ کی انگلیاں بند کر کے (ان کلمات کو یاد کیا) اور اٹھ کر (چل دیا)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1195]
ترقیم العلمیہ: 1181
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى" 211 وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 544 وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1808 والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 887 والنسائي فى ((المجتبيٰ)) برقم: 923، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 832، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 4046، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1195، 1196، 1197 وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19416 والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 734، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده" 524، قال ابن حجر: فيه إبراهيم السكسكي وهو من رجال البخاري ولكن عيب عليه إخراج حديثه وضعفه النسائي وقال ابن القطان ضعفه قوم فلم يأتوا بحجة التلخيص الحبير فى تخريج أحاديث الرافعي الكبير:426/1»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى" 211 وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 544 وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1808 والحاكم فى «مستدركه» برقم: 887 والنسائي فى «المجتبيٰ» برقم: 923
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1182 ترقیم الرسالہ : -- 1196
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَلَيْسَ، بِالنَّخَعِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، أَنَّ رَجُلا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَعَلَّمَ الْقُرْآنَ فَمَا يُجْزِينِي فِي صَلاتِي، قَالَ:" تَقُولُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ"، قَالَ: هَذَا لِلَّهِ فَمَا لِي؟ قَالَ:" تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَارْزُقْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي"، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا هَذَا فَقَدْ مَلأَ يَدَيْهِ مِنَ الْخَيْرِ وَقَبَضَ كَفَّيْهِ" .
سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں قرآن نہیں سیکھ سکتا تو نماز میں میرے لیے کیا پڑھنا کافی ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم یہ پڑھو: ’اللہ کی ذات پاک ہے تمام تعریفیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں اللہ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا، اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے اور اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔‘ اس شخص نے عرض کیا: یہ تو اللہ کے لیے ہے میرے لیے (دعا کے طور پر) کیا ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ پڑھو: ’اے اللہ! تو میری مغفرت کر دے! تو مجھ پر رحم کر! تو مجھے رزق عطا کر، تو مجھے ہدایت پر ثابت قدم رکھ تو مجھے عافیت نصیب کر۔‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس شخص نے اپنے دونوں ہاتھ بھلائی سے بھر لیے ہیں۔ (راوی کہتے ہیں) اس شخص نے اپنی دونوں مٹھیاں بند کر لی تھیں (یعنی انگلیوں پر ان کلمات کو گن کر ہاتھ بند کیا تھا)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1196]
ترقیم العلمیہ: 1182
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى" 211 وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 544 وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1808 والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 887 والنسائي فى ((المجتبيٰ)) برقم: 923، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 832، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 4046، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1195، 1196، 1197 وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19416 والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 734، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده" 524، قال ابن حجر: فيه إبراهيم السكسكي وهو من رجال البخاري ولكن عيب عليه إخراج حديثه وضعفه النسائي وقال ابن القطان ضعفه قوم فلم يأتوا بحجة التلخيص الحبير فى تخريج أحاديث الرافعي الكبير:426/1»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى" 211 وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 544 وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1808 والحاكم فى «مستدركه» برقم: 887 والنسائي فى «المجتبيٰ» برقم: 923
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1183 ترقیم الرسالہ : -- 1197
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَسَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، قَالا: نا وَكِيعٌ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالانِيِّ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّكْسَكِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لا أَسْتَطِيعُ أَنْ آخُذَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا عَلِّمْنِي مَا يُجْزِينِي مِنْهُ، قَالَ:" قُلْ: بِسْمِ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا لِلَّهِ فَمَا لِي؟ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں قرآن نہیں سیکھ سکتا آپ مجھے ایسی دعا کی تعلیم دیں جو میرے لیے اس کی جگہ کافی ہو۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ پڑھو: ’اللہ کے نام سے (برکت حاصل کرتے ہوئے میں اپنے کام کا آغاز کرتا ہوں) تمام تعریفیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اللہ سب سے بڑا ہے۔‘ اس شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو اللہ کے لیے ہے میرے لیے کیا ہو گا؟ (اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1197]
ترقیم العلمیہ: 1183
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى" 211 وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 544 وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1808 والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 887 والنسائي فى ((المجتبيٰ)) برقم: 923، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 832، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 4046، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1195، 1196، 1197 وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19416 والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 734، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده" 524، قال ابن حجر: فيه إبراهيم السكسكي وهو من رجال البخاري ولكن عيب عليه إخراج حديثه وضعفه النسائي وقال ابن القطان ضعفه قوم فلم يأتوا بحجة التلخيص الحبير فى تخريج أحاديث الرافعي الكبير:426/1»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى" 211 وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 544 وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1808 والحاكم فى «مستدركه» برقم: 887 والنسائي فى «المجتبيٰ» برقم: 923
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1184 ترقیم الرسالہ : -- 1198
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ الأَنْطَاكِيُّ ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، وَسُئِلَتْ عَنْ آيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ، فَقَالَتْ:" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الم {1} اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ {2} نزل عَلَيْكَ الْكِتَابَ إِلَى قَوْلِهِ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ إِلَى قَوْلِهِ آمَنَّا بِهِ سورة آل عمران آية 1ـ7، فَإِذَا رَأَيْتُمْ أُولَئِكَ فَهُمُ الَّذِينَ سَمَّاهُمُ اللَّهُ فَاحْذَرُوهُمْ" .
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو سنا، ان سے قرآن کی ایک آیت کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے یہ پڑھا: اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے آغاز کرتی ہوں، جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، الم، اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے، جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، وہ حی اور قیوم ہے، اس نے تم پر کتاب نازل کی ہے۔ یہ آیت یہاں تک ہے: وہ لوگ اس کی پیروی کرتے ہیں، جو اس میں متشابہ ہیں، تاکہ وہ فتنہ تلاش کریں اور اس کی تاویل تلاش کریں، حالانکہ اس کی تاویل کو صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور جن لوگوں کو علم میں رسوخ حاصل ہوتا ہے، وہ یہ کہتے ہیں: ہم اس پر ایمان لائے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو، تو یہ وہی لوگ ہوں گے، جن کا ذکر اللہ نے کیا ہے، تو تم ان سے بچو۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1198]
ترقیم العلمیہ: 1184
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4547، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 2665، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 73، 76، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4598، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2993، 2994، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 147، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 47، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 492، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1198، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24847»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں