صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب النَّهْيِ عَنِ الإِصْرَارِ عَلَى الْيَمِينِ فِيمَا يَتَأَذَّى بِهِ أَهْلُ الْحَالِفِ مِمَّا لَيْسَ بِحَرَامٍ:
باب: جب قسم سے گھر والوں کا نقصان ہو تو قسم نہ توڑنا منع ہے بشرطیکہ وہ کام حرام نہ ہو۔
ترقیم عبدالباقی: 1655 ترقیم شاملہ: -- 4291
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاللَّهِ لَأَنْ يَلَجَّ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ أَنْ يُعْطِيَ كَفَّارَتَهُ الَّتِي فَرَضَ اللَّهُ ".
ہمام بن منبہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، پھر انہوں نے چند احادیث بیان کیں، ان میں سے یہ تھی: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم میں سے کسی کا اپنے گھر والوں کے بارے میں اپنی قسم پر اصرار کرنا اس کے لیے اللہ کے ہاں اس سے زیادہ گناہ کا باعث ہے کہ وہ اس قسم کے لیے اللہ کا مقرر کردہ کفارہ دے۔“ (اور اسے توڑ کر درست کام کرے اور گھر والوں کو آرام پہنچائے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4291]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم میں سے کسی ایک کا اپنے گھر والوں کے بارے میں قسم کھا کر اس پر جم جانا یا اصرار کرنا، اللہ کے ہاں اس کے لیے اس سے زیادہ گناہ کا سبب ہے کہ وہ اس کا وہ کفارہ ادا کرے جو اللہ نے فرض قرار دیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 4291]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1655
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة