🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

73. بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر کے دوران دو نمازیں ایک ساتھ ادا کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1433 ترقیم الرسالہ : -- 1450
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْجُرْجَانِيُّ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، وَعَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَلا أُخْبِرُكُمْ عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ؟ قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" كَانَ إِذَا زَاغَتْ لَهُ الشَّمْسُ فِي مَنْزِلِهِ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ يَرْكَبَ، وَإِذَا لَمْ تَزِغْ لَهُ فِي مَنْزِلِهِ سَارَ حَتَّى إِذَا حَانَتِ الْعَصْرُ نزل، فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَإِذَا حَانَتْ لَهُ الْمَغْرِبُ فِي مَنْزِلِهِ جَمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ، وَإِذَا لَمْ تَحِنْ فِي مَنْزِلِهِ رَكِبَ حَتَّى إِذَا حَانَتِ الْعِشَاءُ نزل، فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا" . قَالَ الشَّيْخُ: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُسَيْنٌ، عَنْ كُرَيْبٍ وَحْدَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَرَوَاهُ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ حُسَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ حُسَيْنٍ، عَنْ كُرَيْبِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ، وَكُلُّهُمْ ثِقَاتٌ، فَاحْتَمَلَ أَنْ يَكُونَ ابْنُ جُرَيْجٍ سَمِعَهُ أَوَّلا مِنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ حُسَيْنٍ، كَقَوْلِ عَبْدِ الْمَجِيدِ عَنْهُ، ثُمَّ لَقِيَ ابْنُ جُرَيْجٍ حُسَيْنًا فَسَمِعَهُ مِنْهُ كَقَوْلِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَحَجَّاجٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ، وَاحْتَمَلَ أَنْ يَكُونَ حُسَيْنٌ سَمِعَهُ مِنْ عِكْرِمَةَ، وَمِنْ كُرَيْبٍ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَكَانَ يُحَدِّثُ بِهِ مَرَّةً عَنْهُمَا جَمِيعًا كَرِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْهُ، وَمَرَّةً عَنْ كُرَيْبٍ وَحْدَهُ كَقَوْلِ حَجَّاجٍ، وَابْنِ أَبِي رَوَّادٍ، وَمَرَّةً عَنْ عِكْرِمَةَ وَحْدَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ كَقَوْلِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ، وَتَصِحُّ الأَقَاوِيلُ كُلُّهَا. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
کریب بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا میں آپ لوگوں کو سفر کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز کے طریقے کے بارے میں بتاؤں؟ ہم نے جواب دیا: جی ہاں! تو انہوں نے بتایا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی رہائش گاہ میں موجود ہوتے تھے اور اس دوران سورج ڈھل جاتا تھا (یعنی دوپہر کا وقت ہو جاتا تھا)، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر روانہ ہونے سے پہلے ہی ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی (گھر میں) موجودگی کے وقت سورج نہیں ڈھلا ہوتا تھا (یعنی دوپہر نہیں ہوئی ہوتی تھی) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ ہونا ہوتا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہو جاتے تھے، پھر جب عصر کا وقت ہو جاتا تھا، تو اس وقت آپ سفر روک کر ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ادا کیا کرتے تھے، اسی طرح اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہائش گاہ میں مغرب کا وقت ہو جاتا، تو آپ مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے اور اگر مغرب کا وقت نہ ہوا ہوتا، تو آپ روانہ ہو جاتے اور عشاء کی نماز کے وقت میں ان دونوں نمازوں کو ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1450]
ترقیم العلمیہ: 1433
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 543، 562، 1174، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 705، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 480، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 967، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 588، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1596، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1210، 1211، 1214، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 187، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1069، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 475، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1450، 1451، 1452، 1453، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 1028، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1899»
«قال ابن حجر: في إسناده حسين بن عبد الله الهاشمي وهو ضعيف لكن له شواهد، تحفة الأح

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1434 ترقیم الرسالہ : -- 1451
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا الْمُحَارِبِيُّ ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، وَإِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ أَخَّرَهُمَا حَتَّى يُصَلِّيَهُمَا فِي وَقْتِ الْعَصْرِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا، جب سورج ڈھل جاتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے اور جب آپ سورج ڈھلنے سے پہلے روانہ ہوتے، تو آپ ان دونوں نمازوں کو موخر کر دیتے تھے اور یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں نمازوں کو عصر کی نماز کے وقت میں ادا کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1451]
ترقیم العلمیہ: 1434
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 543، 562، 1174، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 705، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 480، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 967، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 588، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1596، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1210، 1211، 1214، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 187، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1069، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 475، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1450، 1451، 1452، 1453، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 1028، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1899»
«قال ابن حجر: في إسناده حسين بن عبد الله الهاشمي وهو ضعيف لكن له شواهد، تحفة الأح

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1435 ترقیم الرسالہ : -- 1452
حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، ثنا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَدْرٍ الدُّورِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نزل مَنْزِلا فَزَالَتِ الشَّمْسُ لَمْ يَرْتَحِلْ حَتَّى يُصَلِّي الْعَصْرَ، وَإِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ الزَّوَالِ صَلَّى كُلَّ وَاحِدَةٍ لِوَقْتِهَا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جگہ پڑاؤ کرتے اور اس دوران سورج ڈھل چکا ہوتا، تو آپ روانہ نہیں ہوتے تھے، جب تک عصر کی نماز بھی ادا نہیں کر لیتے تھے اور اگر آپ زوال سے پہلے روانہ ہو چکے ہوتے، تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں نمازوں کو عصر کی نماز کے وقت میں ادا کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1452]
ترقیم العلمیہ: 1435
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 543، 562، 1174، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 705، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 480، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 967، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 588، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1596، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1210، 1211، 1214، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 187، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1069، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 475، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1450، 1451، 1452، 1453، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 1028، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1899»
«قال ابن حجر: في إسناده حسين بن عبد الله الهاشمي وهو ضعيف لكن له شواهد، تحفة الأح

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1436 ترقیم الرسالہ : -- 1453
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ السَّمِيعِ الْهَاشِمِيُّ ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ مَاهَانَ أَبُو الرَّبِيعِ ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ السَّلامِ ، ثنا مُوسَى بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ارْتَحَلَ حِينَ تَزِيغُ الشَّمْسُ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَإِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ ذَلِكَ أَخَّرَ ذَلِكَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج کے ڈھل جانے کے بعد روانہ ہونا ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ادا کرتے تھے اور اگر آپ نے اس سے پہلے روانہ ہونا ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز کو عصر کے وقت تک موخر کر دیتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1453]
ترقیم العلمیہ: 1436
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 543، 562، 1174، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 705، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 480، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 967، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 588، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1596، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1210، 1211، 1214، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 187، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1069، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 475، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1450، 1451، 1452، 1453، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 1028، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1899»
«قال ابن حجر: في إسناده حسين بن عبد الله الهاشمي وهو ضعيف لكن له شواهد، تحفة الأح

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1437 ترقیم الرسالہ : -- 1454
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا شَبَابَةُ ، ثنا اللَّيْثُ ، عَنْ عَقِيلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي السَّفَرِ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَدْخُلَ أَوَّلُ وَقْتِ الْعَصْرِ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سفر کے دوران ظہر اور عصر کی نماز کو ایک ساتھ ادا کرنا ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز کو موخر کر دیتے تھے، یہاں تک کہ عصر کا ابتدائی وقت آ جاتا (تو اس وقت میں دونوں نمازیں ایک ساتھ ادا کرتے تھے)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1454]
ترقیم العلمیہ: 1437
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1110، 1111، 1112، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 704، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 969، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1456، 1592، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 497، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1204، 1205، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1454، 1455، 1456، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12294»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1438 ترقیم الرسالہ : -- 1455
وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ غَيْلانَ ، ثنا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ عَقِيلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ أَنَسٍ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ سَارَ حَتَّى يَدْخُلَ وَقْتُ الْعَصْرِ فَيَنْزِلُ فَيَجْمَعُ بَيْنَهُمَا، وَإِذَا لَمْ يَرْتَحِلْ حَتَّى تَزِيغَ الشَّمْسُ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ ذَهَبَ" .
ابن شہاب، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج ڈھل جانے سے پہلے سفر پر روانہ ہونا ہوتا، تو آپ روانہ ہو جاتے، یہاں تک کہ جب عصر کا وقت شروع ہو جاتا، تو آپ پڑاؤ کر کے ان دونوں نمازوں کو ایک ساتھ ادا کرتے تھے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے تک روانہ نہ ہوئے ہوتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد روانہ ہوتے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1455]
ترقیم العلمیہ: 1438
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1110، 1111، 1112، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 704، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 969، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1456، 1592، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 497، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1204، 1205، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1454، 1455، 1456، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12294»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1439 ترقیم الرسالہ : -- 1456
ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، ثنا هَاشِمُ بْنُ يُونُسَ الْقَصَّارُ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، ثنا مُفَضَّلٌ ، واللَّيْثُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَقِيلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَدْخُلَ أَوَّلُ وَقْتِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کی نماز کو ایک ساتھ ادا کرنا ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز کو موخر کر دیتے تھے، یہاں تک کہ عصر کا ابتدائی وقت شروع ہو جاتا، پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں نمازوں کو ایک ساتھ ادا کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1456]
ترقیم العلمیہ: 1439
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1110، 1111، 1112، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 704، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 969، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1456، 1592، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 497، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1204، 1205، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1454، 1455، 1456، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12294»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1440 ترقیم الرسالہ : -- 1457
حَدَّثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، وَأَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، قَالا: نا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْعُذْرِيُّ ، بِبَيْرُوتَ، أَخْبَرَنِي أبِي ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ أَقْبَلَ مِنْ مَكَّةَ وَجَاءَهُ خَبَرُ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ فَأَسْرَعَ السَّيْرَ، فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ، قَالَ لَهُ إِنْسَانٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: الصَّلاةُ، فَسَكَتَ ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: الصَّلاةُ، فَسَكَتَ. فَقَالَ لِلَّذِي قَالَ لَهُ الصَّلاةُ: إِنَّهُ لَيَعْلَمُ مِنْ هَذَا عِلْمًا لا أَعْلَمُهُ، فَسَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ بَعْدَمَا غَابَ الشَّفَقُ سَاعَةً نزل فَأَقَامَ الصَّلاةَ، وَكَانَ لا يُنَادِي لِشَيْءٍ مِنَ الصَّلاةِ فِي السَّفَرِ، وَقَالَ النَّيْسَابُورِيُّ: بِشَيْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ فِي السَّفَرِ، فَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا جَمَعَ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بَعْدَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ سَاعَةً، وَكَانَ يُصَلِّي عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ أَيْنَ تَوَجَّهَتْ بِهِ السُّبْحَةُ فِي السَّفَرِ" ، وَيُخْبِرُهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ.
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مکہ تشریف لائے، انہیں ان کی اہلیہ صفیہ بنت ابوعبید کی بیماری کی اطلاع ملی، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سفر تیز کر دیا، جب سورج غروب ہو گیا، تو ان کے ساتھیوں میں سے کسی صاحب نے کہا: نماز کا وقت ہو چکا ہے، لیکن سیدنا عبداللہ خاموش رہے، ان کے جس ساتھی نے انہیں نماز کے لیے کہا تھا، اس نے یہ سوچا کہ ضرور ان کے پاس اس بارے میں کوئی ایسی معلومات ہوں گی، جس سے میں واقف نہیں ہوں، پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ چلتے رہے، یہاں تک کہ جب شفق غروب ہوئی، تو انہوں نے پڑاؤ کیا اور نماز کے لیے اقامت کہی، وہ سفر کے دوران نماز کے لیے اذان نہیں دیا کرتے تھے۔ یہاں پر نیشاپوری راوی نے ایک لفظ مختلف نقل کیا ہے، اس کے بعد کے الفاظ راویوں کے متفقہ ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ ادا کی، پھر انہوں نے یہ بات بتائی: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیزی سے سفر کرنا ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم شفق غروب ہو جانے کے تھوڑی دیر بعد مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ ادا کیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران اپنی سواری کی پشت پر ہی نماز ادا کر لیا کرتے تھے، خواہ سواری کا رخ کسی بھی سمت ہو۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان لوگوں کو بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کیا کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1457]
ترقیم العلمیہ: 1440
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 5600، 5602، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1457، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 6046، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 3963»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1441 ترقیم الرسالہ : -- 1458
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ ، ثنا عَمِّي ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَخِيهِ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ: أَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ خَبَرٌ مِنْ صَفِيَّةَ فَأَسْرَعَ السَّيْرَ، ثُمَّ ذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، وَقَالَ: بَعْدَ أَنْ غَابَ الشَّفَقُ بِسَاعَةٍ. عَنِ تَابَعَهُ ابْنُ وَهْبٍ.
سالم بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ان کی (اہلیہ) صفیہ کی بیماری کی اطلاع ملی، تو وہ تیزی سے سفر کرنے لگے، پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی کی مانند روایت نقل کی، جس میں یہ الفاظ ہیں: شفق غروب ہونے کے تھوڑی دیر بعد۔ ابن وہب نے ان کی متابعت کی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1458]
ترقیم العلمیہ: 1441
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1091، 1106، 1109، 1805، 3000، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 703، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 479، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 964، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 587، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1207، 1212، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 555، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1558، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 5595، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 628، 697، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1458، 1460، 1461، 1466، 1467، 1468، 1469، 1470، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4558»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1442 ترقیم الرسالہ : -- 1459
ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، ثنا الْمُنْذِرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا أبِي ، ثنا أبِي ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ارْتَحَلَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ جَمَعَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ، وَإِذَا مَدَّ لَهُ السَّيْرُ أَخَّرَ الظُّهْرَ وَعَجَّلَ الْعَصْرَ، ثُمَّ جَمَعَ بَيْنَهُمَا" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھل جانے کے وقت سفر کے لیے روانہ ہونے لگتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ادا کر لیا کرتے اور جب آپ اس سے پہلے روانہ ہونے لگتے، تو آپ ظہر کی نماز کو موخر کر دیتے تھے اور عصر کی نماز جلدی ادا کر لیتے تھے اور ان دونوں نمازوں کو ایک ساتھ ادا کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1459]
ترقیم العلمیہ: 1442
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف،وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1459»
«‏‏‏‏قال بدر الدین العیني: ولا يصح إسناده شيخ الدارقطني هو أبو العباس بن عقدة أحد الحفاظ لكنه شيعي، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (7 / 148)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں