سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
73. بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر کے دوران دو نمازیں ایک ساتھ ادا کرنا
ترقیم العلمیہ : 1443 ترقیم الرسالہ : -- 1460
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ وَاصِلٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ" . قَالَ سُفْيَانُ بَعْدُ فِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ: إِلَى رُبُعِ اللَّيْلِ، قَالَ ابْنُ صَاعِدٍ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ أَحَدُهُمْ فِي حَدِيثِهِ: إِلَى رُبُعِ اللَّيْلِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تیزی سے سفر کرنا ہوتا تھا، تو آپ مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ ادا کیا کرتے تھے، ایک راوی نے اس روایت میں ’ایک چوتھائی رات تک‘ کے الفاظ نقل کیے ہیں۔ ایک راوی نے بھی ’چوتھائی رات تک‘ کے الفاظ نقل کیے ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1460]
ترقیم العلمیہ: 1443
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1091، 1106، 1109، 1805، 3000، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 703، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 479، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 964، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 587، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1207، 1212، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 555، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1558، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 5595، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 628، 697، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1458، 1460، 1461، 1466، 1467، 1468، 1469، 1470، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4558»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 1444 ترقیم الرسالہ : -- 1461
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَاصِمٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مثل قَوْلِ النَّيْسَابُورِيِّ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1461]
ترقیم العلمیہ: 1444
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1091، 1106، 1109، 1805، 3000، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 703، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 479، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 964، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 587، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1207، 1212، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 555، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1558، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 5595، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 628، 697، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1458، 1460، 1461، 1466، 1467، 1468، 1469، 1470، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4558»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 1445 ترقیم الرسالہ : -- 1462
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ السُّلَمِيُّ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَعَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَإِنْ تَرَحَّلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَنْزِلَ لِلْعَصْرِ، وَفِي الْمَغْرِبِ مثل ذَلِكَ إِنْ غَابَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، فَإِنِ ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَنْزِلَ لِلْعِشَاءِ ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا" .
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ تبوک کے موقع پر (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روانہ ہونے سے پہلے سورج ڈھل چکا ہوتا، تو آپ ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے سے پہلے روانہ ہو جاتے، تو آپ ظہر کی نماز کو موخر کر دیتے تھے، یہاں تک کہ عصر کی نماز کے لیے پڑاؤ کرتے تھے، اسی طرح مغرب کی نماز ادا کیا کرتے تھے، اگر آپ کے روانہ ہونے سے پہلے سورج غروب ہو جاتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے اور اگر آپ سورج غروب ہونے سے پہلے روانہ ہوتے، تو آپ مغرب کی نماز کو موخر کر دیتے تھے، پھر عشاء کے لیے پڑاؤ کرتے تھے اور ان دونوں نمازوں کو ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1462]
ترقیم العلمیہ: 1445
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 706، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 478، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 966، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1458، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 586، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1576، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1206، 1208، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 553، 554، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1556، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1070، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1462، 1463، 1464، 1465، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 656، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22419»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 1446 ترقیم الرسالہ : -- 1463
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلانِسِيُّ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، ثنا اللَّيْثُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، بِهَذَا نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ: الْمُفَضَّلَ بْنَ فَضَالَةَ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس کی سند کچھ مختلف ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1463]
ترقیم العلمیہ: 1446
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 706، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 478، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 966، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1458، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 586، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1576، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1206، 1208، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 553، 554، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1556، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1070، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1462، 1463، 1464، 1465، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 656، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22419»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 1447 ترقیم الرسالہ : -- 1464
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَلْخِيُّ ، ثنا قُتَيْبَةُ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثنا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى الْعَصْرِ، حَتَّى يَجْمَعَهَا مَعَ الْعَصْرِ فَيُصَلِّيهِمَا جَمِيعًا، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ زَيْغِ الشَّمْسِ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ ثُمَّ سَارَ، وَكَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ، حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْعِشَاءِ، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ عَجَّلَ الْعِشَاءَ فَصَلاهَا مَعَ الْمَغْرِبِ" . قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَذَا لَمْ يَرْوِهِ إِلا قُتَيْبَةُ.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا (سفر کے دوران پڑاؤ سے) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے سے پہلے روانہ ہوتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز کو موخر کر دیتے، یہاں تک کہ عصر کے وقت میں ان دونوں نمازوں کو ایک ساتھ ادا کرتے تھے اور جب آپ سورج کے ڈھل جانے کے بعد روانہ ہوتے، تو آپ ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ادا کرتے تھے، پھر روانہ ہوتے تھے، اسی طرح جب آپ مغرب سے پہلے روانہ ہوتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز کو موخر کر دیتے تھے، یہاں تک کہ اسے عشاء کی نماز کے ساتھ ادا کرتے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورج غروب ہونے کے بعد روانہ ہوتے، تو پھر آپ عشاء کی نماز جلدی ادا کرتے اور اسے مغرب کے ساتھ ادا کر لیتے تھے۔ امام ابوداؤد نے یہ بات بیان کی ہے: اس روایت کو صرف قتادہ نے نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1464]
ترقیم العلمیہ: 1447
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 706، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 478، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 966، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1458، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 586، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1576، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1206، 1208، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 553، 554، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1556، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1070، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1462، 1463، 1464، 1465، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 656، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22419»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 1448 ترقیم الرسالہ : -- 1465
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَلْخِيُّ ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الأَعْيُنُ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثنا اللَّيْثُ ، بِهَذَا مِثْلَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1465]
ترقیم العلمیہ: 1448
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 706، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 478، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 966، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1458، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 586، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1576، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1206، 1208، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 553، 554، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1556، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1070، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1462، 1463، 1464، 1465، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 656، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22419»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 1449 ترقیم الرسالہ : -- 1466
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا وَكِيعٌ ، وَجَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، وَاللَّفْظُ لِوَكِيعٍ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" اسْتُصْرِخَ عَلَى صَفِيَّةَ وَهُوَ فِي سَفَرٍ فَسَارَ حَتَّى إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ، قِيلَ لَهُ: الصَّلاةُ، فَسَارَ حَتَّى إِذَا كَادَ يَغِيبُ الشَّفَقُ نزل فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى إِذَا غَابَ الشَّفَقُ صَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَابَتْهُ حَاجَةٌ صَنَعَ هَكَذَا" .
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ان کی اہلیہ صفیہ کی بیماری کی اطلاع ملی، وہ اس وقت سفر کی حالت میں تھے، انہوں نے رفتار تیز کر دی، جب سورج غروب ہو گیا، تو ان سے نماز کے لیے کہا گیا، لیکن وہ چلتے رہے، یہاں تک کہ جب شفق غروب ہونے کے قریب تھی، تو انہوں نے پڑاؤ کیا اور مغرب کی نماز ادا کی، پھر وہ انتظار کرتے رہے، یہاں تک کہ شفق غروب ہو گئی، تو انہوں نے عشاء کی نماز ادا کی، پھر انہوں نے ہمیں یہ بات بتائی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی کام ہوتا تھا، تو وہ اسی طرح کیا کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1466]
ترقیم العلمیہ: 1449
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1091، 1106، 1109، 1805، 3000، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 703، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 479، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 964، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 587، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1207، 1212، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 555، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1558، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 5595، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 628، 697، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1458، 1460، 1461، 1466، 1467، 1468، 1469، 1470، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4558»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 1450 ترقیم الرسالہ : -- 1467
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ، ثنا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بِهَذَا، وَقَالَ: حَتَّى إِذَا كَانَ قَبْلَ غَيْبُوبَةِ الشَّفَقِ نزل فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى غَابَ الشَّفَقُ فَصَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عُجِّلَ بِهِ صَنَعَ مثل الَّذِي صَنَعْتُ.
نافع سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اسی کی مانند روایت نقل کرتے ہیں، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: یہاں تک کہ شفق غروب ہونے سے پہلے انہوں نے پڑاؤ کیا اور مغرب کی نماز ادا کر لی اور پھر وہ انتظار کرتے رہے، یہاں تک کہ شفق غروب ہو گئی، تو انہوں نے عشاء کی نماز ادا کی، پھر انہوں نے یہ بتایا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیزی سے سفر کرنا ہوتا تھا، تو آپ اسی طرح کیا کرتے تھے، جیسے میں نے اب کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1467]
ترقیم العلمیہ: 1450
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1091، 1106، 1109، 1805، 3000، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 703، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 479، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 964، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 587، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1207، 1212، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 555، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1558، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 5595، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 628، 697، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1458، 1460، 1461، 1466، 1467، 1468، 1469، 1470، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4558»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 1451 ترقیم الرسالہ : -- 1468
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، أَخْبَرَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ ، أَخْبَرَنِي أبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ جَابِرٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَهُوَ يُرِيدُ أَرْضًا لَهُ فَيَنْزِلُ مَنْزِلا، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ لَمَّا بِهَا فَلا أَظُنُّ أَنْ تُدْرِكَهَا، وَذَلِكَ بَعْدَ الْعَصْرِ، قَالَ: فَخَرَجَ مُسْرِعًا وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشِ فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ وَكَانَ عَهْدِي بِصَاحِبِي وَهُوَ مُحَافِظٌ عَلَى الصَّلاةِ، فَقُلْتُ:" الصَّلاةُ، فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيَّ وَمَضَى كَمَا هُوَ، حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ الشَّفَقِ نزل فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَقَامَ الصَّلاةَ وَقَدْ تَوَارَى الشَّفَقُ فَصَلَّى بِنَا الْعِشَاءَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَجَّلَ بِهِ أَمْرٌ صَنَعَ هَكَذَا" .
نافع بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ روانہ ہوا، وہ اپنی زمین کی طرف جا رہے تھے، انہوں نے راستے میں ایک جگہ پڑاؤ کیا، ایک شخص ان کے پاس آیا اور اس نے بتایا: (ان کی اہلیہ) صفیہ بنت ابوعبید کی حالت نازک ہے اور میرا یہ خیال ہے کہ آپ (ان کے انتقال سے پہلے) ان تک نہیں پہنچ سکیں گے، راوی کہتے ہیں: یہ عصر کے بعد کی بات ہے، راوی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تیزی سے وہاں سے نکلے، ان کے ساتھ قریش کا ایک شخص بھی تھا، ہم لوگ سفر کرتے ہوئے جا رہے تھے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، میرا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ گہرا تعلق تھا، وہ نماز بڑی باقاعدگی کے ساتھ ادا کرتے تھے، میں نے عرض کی: نماز کا وقت ہو گیا ہے، انہوں نے میری طرف توجہ نہیں کی اور چلتے رہے، جیسے پہلے جا رہے تھے، یہاں تک کہ جب شفق کا آخری وقت ہو گیا، تو انہوں نے پڑاؤ کیا اور مغرب کی نماز ادا کی، پھر انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی، تو اسی دوران شفق غروب ہو گئی، تو انہوں نے ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر ہمیں یہ بتایا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی معاملے میں جلدی کرنی ہوتی تھی، تو آپ اسی طرح کیا کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1468]
ترقیم العلمیہ: 1451
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1091، 1106، 1109، 1805، 3000، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 703، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 479، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 964، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 587، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1207، 1212، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 555، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1558، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 5595، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 628، 697، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1458، 1460، 1461، 1466، 1467، 1468، 1469، 1470، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4558»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 1452 ترقیم الرسالہ : -- 1469
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جَابِرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1469]
ترقیم العلمیہ: 1452
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1091، 1106، 1109، 1805، 3000، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 703، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 479، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 964، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 587، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1207، 1212، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 555، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1558، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 5595، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 628، 697، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1458، 1460، 1461، 1466، 1467، 1468، 1469، 1470، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4558»
الحكم على الحديث: صحيح