سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
73. باب الجمع بين الصلاتين فى السفر
باب: سفر کے دوران دو نمازیں ایک ساتھ ادا کرنا
ترقیم العلمیہ : 1451 ترقیم الرسالہ : -- 1468
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، أَخْبَرَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ ، أَخْبَرَنِي أبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ جَابِرٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَهُوَ يُرِيدُ أَرْضًا لَهُ فَيَنْزِلُ مَنْزِلا، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ لَمَّا بِهَا فَلا أَظُنُّ أَنْ تُدْرِكَهَا، وَذَلِكَ بَعْدَ الْعَصْرِ، قَالَ: فَخَرَجَ مُسْرِعًا وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشِ فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ وَكَانَ عَهْدِي بِصَاحِبِي وَهُوَ مُحَافِظٌ عَلَى الصَّلاةِ، فَقُلْتُ:" الصَّلاةُ، فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيَّ وَمَضَى كَمَا هُوَ، حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ الشَّفَقِ نزل فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَقَامَ الصَّلاةَ وَقَدْ تَوَارَى الشَّفَقُ فَصَلَّى بِنَا الْعِشَاءَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَجَّلَ بِهِ أَمْرٌ صَنَعَ هَكَذَا" .
نافع بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ روانہ ہوا، وہ اپنی زمین کی طرف جا رہے تھے، انہوں نے راستے میں ایک جگہ پڑاؤ کیا، ایک شخص ان کے پاس آیا اور اس نے بتایا: (ان کی اہلیہ) صفیہ بنت ابوعبید کی حالت نازک ہے اور میرا یہ خیال ہے کہ آپ (ان کے انتقال سے پہلے) ان تک نہیں پہنچ سکیں گے، راوی کہتے ہیں: یہ عصر کے بعد کی بات ہے، راوی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تیزی سے وہاں سے نکلے، ان کے ساتھ قریش کا ایک شخص بھی تھا، ہم لوگ سفر کرتے ہوئے جا رہے تھے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، میرا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ گہرا تعلق تھا، وہ نماز بڑی باقاعدگی کے ساتھ ادا کرتے تھے، میں نے عرض کی: نماز کا وقت ہو گیا ہے، انہوں نے میری طرف توجہ نہیں کی اور چلتے رہے، جیسے پہلے جا رہے تھے، یہاں تک کہ جب شفق کا آخری وقت ہو گیا، تو انہوں نے پڑاؤ کیا اور مغرب کی نماز ادا کی، پھر انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی، تو اسی دوران شفق غروب ہو گئی، تو انہوں نے ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر ہمیں یہ بتایا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی معاملے میں جلدی کرنی ہوتی تھی، تو آپ اسی طرح کیا کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1468]
ترقیم العلمیہ: 1451
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1091، 1106، 1109، 1805، 3000، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 703، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 479، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 964، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 587، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1207، 1212، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 555، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1558، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 5595، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 628، 697، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1458، 1460، 1461، 1466، 1467، 1468، 1469، 1470، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4558»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 1468 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي