🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

96. بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْقَائِمِ عَلَى صَلَاةِ الْقَاعِدِ وَكَيْفِيَّةِ صَلَاةِ الصَّحِيحِ خَلْفَ الْجَالِسِ
باب: بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے مقابلے میں کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے والے کی فضیلت، بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے (امام کے پیچھے) تندرست شخص کا نماز ادا کرنے کا طریقہ۔
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1543 ترقیم الرسالہ : -- 1561
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَنْدَوَيْهِ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا أَبُو أُسَامَةَ ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلاةِ الْقَائِمِ، وَصَلاةُ النَّائِمِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلاةِ الْقَاعِدِ" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: بیٹھ کر نماز ادا کرنا کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے کے مقابلے میں (اجر و ثواب کے حوالے سے) نصف حیثیت رکھتا ہے اور لیٹ کر نماز ادا کرنا بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے مقابلے (اجر و ثواب کے حوالے سے) نصف حیثیت رکھتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1561]
ترقیم العلمیہ: 1543
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1115، 1116، 1117، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 979، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2513، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1190، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1659، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 951، 952، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 371، 372، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1223، 1231، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1561، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20133»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1544 ترقیم الرسالہ : -- 1562
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: صُرِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ظَهْرِ فَرَسٍ بِالْمَدِينَةِ عَلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ، فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ، فَقَعَدَ فِي بَيْتٍ لِعَائِشَةَ فَأَتَيْنَاهُ نَعُودُهُ، فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي قَاعِدًا تَطَوُّعًا فَقُمْنَا خَلْفَهُ، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ يُصَلِّي صَلاةً مَكْتُوبَةً فَقُمْنَا خَلْفَهُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ، قَالَ:" ائْتَمُّوا بِالإِمَامِ مَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا، وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَلا تَفْعَلُوا كَمَا يَفْعَلُ فَارِسُ لِعُظَمَائِهَا" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں گھوڑے پر سوار تھے، تو کھجور کے تنے کی وجہ سے زخمی ہو گئے، جس کے نتیجے میں آپ کے پاؤں پر چوٹ آئی، آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں قیام پذیر ہوئے، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لیے آئے، آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نوافل ادا کرتے ہوئے پایا، ہم نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز ادا کی، پھر جب ہم (اگلی مرتبہ) آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ اس وقت فرض نماز ادا کر رہے تھے، ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے، تو آپ نے ہمیں اشارہ کیا کہ ہم بیٹھ جائیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی، تو ارشاد فرمایا: امام کی پیروی کرو، جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے، تو تم بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو اور جب وہ کھڑا ہو کر نماز ادا کرے، تو تم کھڑے ہو کر نماز ادا کرو، تم اس طرح رویہ اختیار نہ کرو، جو اہل فارس اپنے بڑوں کے لیے اختیار کرتے ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1562]
ترقیم العلمیہ: 1544
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1487، 1615، 2660، 2661، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2112، 2114، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2848، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 602، 3863، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3082، 3485، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 5154، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1562، 1563، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14425»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1545 ترقیم الرسالہ : -- 1563
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، بِهَذَا وَلَمْ يَقُلْ" تَطَوُّعًا".
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں لفظ ’نفل‘ مذکور نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1563]
ترقیم العلمیہ: 1545
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1487، 1615، 2660، 2661، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2112، 2114، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2848، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 602، 3863، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3082، 3485، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 5154، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1562، 1563، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14425»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1546 ترقیم الرسالہ : -- 1564
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبَّاسِ الْبَغَوِيُّ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ ، ثنا أَبُو عَامِرٍ ، ثنا خَالِدُ بْنُ إِيَاسَ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ جَالِسًا فَلَمَّا انْصَرَفَ وَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ قُلْتُ لَهُمْ: إِنِّي لا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقُومَ فَإِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تُصَلُّوا بِصَلاتِي فَاجْلِسُوا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ، فَإِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا" .
ابراہیم بن عبید بیان کرتے ہیں: میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو انہیں اپنے ساتھیوں کو بیٹھ کر نماز پڑھاتے ہوئے پایا، جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا، انہوں نے فرمایا: میں اصل میں کھڑا نہیں ہو سکتا، جب تم نے میری اقتداء میں نماز پڑھنی ہو، تو بیٹھ کر ادا کرو، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے: امام ڈھال ہے، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے، تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا اور جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے، تو تم بھی بیٹھ کر نماز ادا کرنا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1564]
ترقیم العلمیہ: 1546
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1564، ((وعبد بن حميد فى المنتخب من مسنده))، 1152، وأورده ابن حجر فى ((المطالب العالية))، 413، 413، 630»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں