🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. بَابُ قَضَاءِ الصَّوْمِ
روزوں کی قضاء کا باب
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2308 ترقیم الرسالہ : -- 2342
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، نا زُهَيْرٌ ، نا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، كَانَ يَقُولُ:" مَنْ أَدْرَكَهُ رَمَضَانُ وَعَلَيْهِ مِنْ رَمَضَانَ شَيْءٌ، فَلْيُطْعِمْ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا مَدًّا مِنْ حِنْطَةٍ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ فرماتے ہیں: ”جس شخص کو رمضان کا زمانہ نصیب ہو (اور وہ کسی وجہ سے روزے نہ رکھ سکے) اور اس کے ذمے رمضان کے کچھ حصے (یعنی اس کے کچھ روزے) کی ادائیگی لازم ہو، تو وہ ہر ایک روزے کے عوض ایک مسکین کو گندم کا ایک مد کھلا دے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2342]
ترقیم العلمیہ: 2308
تخریج الحدیث: «صحيح موقوف، وأخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2056، 2057، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 718، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1757، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8314، 8315، 8316، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2341، 2342، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 7624، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 4531»
«قال الدارقطني: المحفوظ وقفه على ابن عمر، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 398)»

الحكم على الحديث:
صحيح موقوف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2309 ترقیم الرسالہ : -- 2343
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثنا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فِي رَجُلٍ مَرِضَ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ صَحَّ وَلَمْ يَصُمْ حَتَّى أَدْرَكَهُ رَمَضَانُ آخَرُ، قَالَ:" يَصُومُ الَّذِي أَدْرَكَهُ وَيُطْعِمُ عَنِ الأَوَّلِ لِكُلِّ يَوْمٍ مَدًّا مِنْ حِنْطَةٍ لِكُلِّ مِسْكِينٍ، فَإِذَا فَرَغَ فِي هَذَا صَامَ، الَّذِي فَرَّطَ فِيهِ" . إِسْنَادٌ صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ.
عطاء بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک ایسے شخص کے بارے میں فرمایا تھا، جو رمضان میں بیمار ہوا تھا اور بعد میں تندرست ہو گیا تھا، اس نے (ابتدائی حصے میں) روزے نہیں رکھے تھے، یہاں تک کہ آخری حصے میں اسے روزے رکھنے کا موقع ملا، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا تھا: ”جس حصے میں وہ روزے رکھ سکتا ہے، وہ روزے رکھے اور ابتدائی جس حصے میں اس نے روزے نہیں رکھے، ہر ایک دن کے عوض گندم کا ایک صاع ایک مسکین کو دے گا اور جب وہ اس سے فارغ ہو گا، تو اس دن کا روزہ رکھے گا، جس دن کے بارے میں اس نے کوتاہی کی تھی۔“ اس کی سند صحیح موقوف ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2343]
ترقیم العلمیہ: 2309
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح موقوف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8309، 8310، 8311، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2343، 2344، 2345، 2346، 2348، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 7620، 7621»
«قال الدارقطني: رواه موقوفا على أبي هريرة من طرق ثم قال في كل منها هذا إسناد صحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 733)»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح موقوف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2310 ترقیم الرسالہ : -- 2344
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ السَّمْحِ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ زَمْعَةَ الرَّازِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ الْمُقْرِيُّ الرَّازِيُّ ، ثنا عُمَرُ بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فِيمَنْ فَرَّطَ فِي قَضَاءِ رَمَضَانَ حَتَّى أَدْرَكَهُ رَمَضَانُ آخَرُ، قَالَ:" يَصُومُ هَذَا مَعَ النَّاسِ وَيَصُومُ الَّذِي فَرَّطَ فِيهِ، وَيُطْعِمُ لِكُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا" . إِسْنَادٌ صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں: ”جو شخص رمضان کی قضاء کے بارے میں کوتاہی کرے، یہاں تک کہ اسے رمضان کا آخری حصہ مل جائے، وہ لوگوں کے ہمراہ روزہ رکھے گا اور پھر اس دن کے بھی روزے رکھے گا، جس دن کے بارے میں اس نے کوتاہی کی تھی اور ہر ایک دن کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلائے گا۔“ اس کی سند مستند ہے، لیکن یہ روایت موقوف ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2344]
ترقیم العلمیہ: 2310
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح موقوف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8309، 8310، 8311، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2343، 2344، 2345، 2346، 2348، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 7620، 7621»
«قال الدارقطني: رواه موقوفا على أبي هريرة من طرق ثم قال في كل منها هذا إسناد صحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 733)»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح موقوف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2311 ترقیم الرسالہ : -- 2345
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ الصَّيْرَفِيُّ ، ثنا بَكْرُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ مُكْرَمٍ الْفَزَارِيُّ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو إِسْحَاقَ الْجَلابُ ، ثنا عُمَرُ بْنُ مُوسَى بْنِ وَجِيهٍ ، ثنا الْحَكَمُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ أَفْطَرَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ مِنْ مَرِضَ، ثُمَّ صَحَّ وَلَمْ يَصُمْ حَتَّى أَدْرَكَهُ رَمَضَانُ آخَرُ، قَالَ:" يَصُومُ الَّذِي أَدْرَكَهُ، ثُمَّ يَصُومُ الشَّهْرَ الَّذِي أَفْطَرَ فِيهِ، وَيُطْعِمُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا" . إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، وَابْنُ وَجِيهٍ ضَعِيفَانِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے، جو رمضان کے مہینے میں بیماری کی وجہ سے روزے نہیں رکھ پاتا، پھر وہ بعد میں تندرست ہو جاتا ہے اور اس نے (رمضان کی قضاء کے) روزے نہیں رکھے، یہاں تک کہ اگلا رمضان آ گیا، اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو رمضان آ گیا ہے، وہ اس کے روزے رکھے گا، پھر اس کے بعد وہ ایک مہینہ وہ روزے رکھے گا، جو اس نے نہیں رکھے تھے اور ہر ایک دن کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلائے گا۔“ اس کے راوی ابراہیم بن نافع اور ابن وجیہ دونوں ضعیف ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2345]
ترقیم العلمیہ: 2311
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8309، 8310، 8311، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2343، 2344، 2345، 2346، 2348، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 7620، 7621»
«قال الدارقطني: إبراهيم بن نافع وابن وجيه ضعيفان، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 733)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2312 ترقیم الرسالہ : -- 2346
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، ثنا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ ، أنا رَقَبَةُ ، قَالَ: زَعَمَ عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَمْرَضُ فِي رَمَضَانَ فَلا يَصُومُ حَتَّى يَبْرَأَ أَوْ لا يَصُومُ حَتَّى يُدْرِكَهُ رَمَضَانُ آخَرُ، قَالَ:" يَصُومُ الَّذِي حَضَرَهُ وَيَصُومُ الآخَرَ، وَيُطْعِمُ كُلَّ لَيْلَةٍ مِسْكِينًا" . إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
عطاء بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں، جو رمضان کے مہینے میں بیمار ہو جائے اور روزے نہ رکھے، پھر وہ تندرست ہو جائے یا جو شخص کوئی روزہ رکھے، یہاں تک کہ اسے اگلا رمضان نصیب ہو جائے، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یہ اس رمضان کے روزے رکھے گا، جو آ گیا ہے اور دوسرے والے رمضان کے روزے (قضاء کے طور پر) رکھے گا اور ہر ایک دن کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلائے گا۔“ اس کی روایت مستند ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2346]
ترقیم العلمیہ: 2312
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح موقوف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8309، 8310، 8311، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2343، 2344، 2345، 2346، 2348، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 7620، 7621»
«قال الدارقطني: رواه موقوفا على أبي هريرة من طرق ثم قال في كل منها هذا إسناد صحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 733)»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح موقوف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2313 ترقیم الرسالہ : -- 2347
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" مَنْ فَرَّطَ فِي صِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ حَتَّى يُدْرِكَهُ رَمَضَانُ آخَرُ فَلْيَصُمْ هَذَا الَّذِي أَدْرَكَهُ، ثُمَّ لِيَصُمْ مَا فَاتَهُ، وَيُطْعِمُ مَعَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا" . خَالَفَهُ مُطَرِّفٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقَدْ تَقَدَّمَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جو شخص رمضان کے روزوں کے بارے میں کوتاہی کرے، یہاں تک کہ اگلا رمضان آ جائے، تو وہ شخص اس رمضان کے روزے رکھے گا، جو آ چکا ہے، پھر اس کے بعد وہ روزے رکھے گا، جو فوت ہو گئے تھے اور ہر ایک دن کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلائے گا۔“ ابواسحاق سے نقل کرنے میں مطرف نے اس کی مخالفت کی ہے اور یہ روایت پہلے گزر چکی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2347]
ترقیم العلمیہ: 2313
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8308، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2347»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2314 ترقیم الرسالہ : -- 2348
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أبِي، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا لَمْ يَصِحَّ بَيْنَ الرَّمَضَانَيْنِ صَامَ عَنْ هَذَا، وَأَطْعَمَ عَنِ الْمَاضِي، وَلا قَضَاءَ عَلَيْهِ، وَإِذَا صَحَّ وَلَمْ يَصُمْ حَتَّى أَدْرَكَهُ رَمَضَانُ آخَرُ، صَامَ هَذَا وَأَطْعَمَ عَنِ الْمَاضِي، فَإِذَا أَفْطَرَ قَضَاهُ" . هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب کوئی شخص دو رمضان کے درمیان تندرست نہ ہو، تو وہ موجودہ رمضان کے روزے رکھے گا (یعنی اس کی قضاء کے روزے) اور گزشتہ رمضان کی طرف سے کھانا کھلا دے گا اور اس شخص پر (گزشتہ رمضان کے روزوں کی) قضاء لازم نہیں ہو گی، لیکن جو شخص تندرست ہو اور وہ روزے نہ رکھے، یہاں تک کہ اگلا رمضان آ جائے، تو وہ موجودہ رمضان کے روزے رکھے گا، پھر سابقہ رمضان کے روزوں کی قضاء کے طور پر مسکینوں کو کھانا کھلائے گا اور جب اس کے اس مہینے کے روزے ختم ہو جائیں گے، تو پھر وہ سابقہ رمضان کے روزوں کی قضاء کرے گا۔“ اس کی سند مستند ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2348]
ترقیم العلمیہ: 2314
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح موقوف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8309، 8310، 8311، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2343، 2344، 2345، 2346، 2348، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 7620، 7621»
«قال الدارقطني: رواه موقوفا على أبي هريرة من طرق ثم قال في كل منها هذا إسناد صحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 733)»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح موقوف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2315 ترقیم الرسالہ : -- 2349
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، ثنا خَلادُ بْنُ أَسْلَمَ ، ثنا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ وَهُوَ زِيَادُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلا جَاءَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ نَذَرَ أَنْ يَصُومَ كُلَّ يَوْمِ أَرْبِعَاءَ فَأَتَى ذَلِكَ عَلَى يَوْمِ فِطْرٍ أَوْ أَضْحًى، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:" أَمَرَ اللَّهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ، وَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ النَّحْرِ" . إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
زیاد بن جبیر بیان کرتے ہیں: مجھے یاد ہے، ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا کہ اس نے یہ نذر مانی تھی کہ وہ ہر بدھ کو روزہ رکھے گا، تو یہ دن عید الفطر اور عید الاضحی کے دن آ گیا، تو اب (اسے کیا کرنا چاہیے)؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے نذر کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے۔“ اس کی سند مستند ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2349]
ترقیم العلمیہ: 2315
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1994، 6705، 6706، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1139، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2148، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2846، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8348، 20200، 20201، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2349، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4535»
«قال الدارقطني: إسناد صحيح، سنن الدارقطني: (3 / 181) برقم: (2349)»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں