سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
2. بَابُ كَيْفَ يُكْتَبُ الْحَبْسُ
باب: کس طرح کوئی چیز وقف کی جائے گی؟
ترقیم العلمیہ : 4340 ترقیم الرسالہ : -- 4420
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ ، أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ الْحَمَّالُ ، وَإِنَّمَا سُمِّيَ بِالْحَمَّالِ، لأَنَّهُ حَمَلَ رَجُلا فِي طَرِيقِ مَكَّةَ عَلَى ظَهْرِهِ فَانْقَطَعَ بِهِ فِيمَا يُقَالُ، نَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند روایت منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَحْبَاسِ/حدیث: 4420]
ترقیم العلمیہ: 4340
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
ترقیم العلمیہ : 4341 ترقیم الرسالہ : -- 4421
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، نَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، نَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا نزلت لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92، أَوْ مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا سورة البقرة آية 245، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" حَائِطِي فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ تَعَالَى، وَلَوِ اسْتَطَعْتُ أَنْ أُسِرَّهُ لَمْ أُعْلِنْهُ، قَالَ: اجْعَلْهُ فِي فُقَرَاءِ أَهْلِ بَيْتِكَ، وَأَقَارِبِكَ" ،.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ”تم لوگ اس وقت تک نیکی تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اس چیز کو خرچ نہیں کرتے جو تمہیں پسند ہے۔“ (راوی کو شک ہے کہ شاید اس آیت کا تذکرہ ہے:) ”کون شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے۔“ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! فلاں جگہ میں میرا ایک باغ ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے لیے صدقہ ہے اگر میں اسے پوشیدہ طور پر دے سکتا ہوتا اس کا اعلان نہ کرتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے اپنے خاندان اور قریبی رشتے داروں میں سے غریب لوگوں کو دے دو۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَحْبَاسِ/حدیث: 4421]
ترقیم العلمیہ: 4341
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1461، 2318، 2752، 2769، 4554، 4555، 5611، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 998،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1762، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2455، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3632، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6396، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1689، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2997، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1695والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4421، 4422، 4423، 4424، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12327، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21334، 31431»
ترقیم العلمیہ : 4342 ترقیم الرسالہ : -- 4422
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى صَاعِقَةُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، نَا أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، مِثْلَهُ. وَزَادَ فِيهِ: قَالَ: فَجَعَلَهَا لأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ، وَكَانَا أَقْرَبَ إِلَيْهِ مِنِّي.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے وہ سیدنا ابی بن کعب، سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے نام کر دیا، کیونکہ یہ دونوں حضرات میرے مقابلے میں سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے زیادہ قریبی عزیز تھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَحْبَاسِ/حدیث: 4422]
ترقیم العلمیہ: 4342
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1461، 2318، 2752، 2769، 4554، 4555، 5611، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 998،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1762، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2455، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3632، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6396، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1689، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2997، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1695والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4421، 4422، 4423، 4424، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12327، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21334، 31431»
ترقیم العلمیہ : 4343 ترقیم الرسالہ : -- 4423
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَبُو يَحْيَى ، نَا الأَنْصَارِيُّ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، نَحْوَ حَدِيثِ ثُمَامَةَ وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، قَالَ: قَالَ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسٍ.
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَحْبَاسِ/حدیث: 4423]
ترقیم العلمیہ: 4343
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1461، 2318، 2752، 2769، 4554، 4555، 5611، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 998،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1762، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2455، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3632، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6396، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1689، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2997، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1695والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4421، 4422، 4423، 4424، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12327، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21334، 31431»
ترقیم العلمیہ : 4344 ترقیم الرسالہ : -- 4424
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ زَنْجُوَيْهِ ، نَا عَفَّانُ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا نزلت لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنَّ رَبَّنَا يَسْأَلُنَا مِنْ أَمْوَالِنَا، وَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ أَرْضِي بِئْرَ حَاءَ لِلَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْعَلْهَا فِي قَرَابَتِكَ" ، فَقَسَمَهَا بَيْنَ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ”تم اس وقت تک نیکی تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اس چیز کو خرچ نہیں کرتے جو تمہیں پسند ہے۔“ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارے پروردگار نے ہم سے ہمارا مال مانگا ہے، میں آپ کو گواہ بنا کر یہ بات کہہ رہا ہوں کہ بیرحاء میں موجود اپنی زمین کو میں اللہ کے نام کرتا ہوں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے اپنے قریبی رشتے داروں کو دے دو۔“ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے وہ زمین سیدنا حسان بن ثابت اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما میں تقسیم کر دی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَحْبَاسِ/حدیث: 4424]
ترقیم العلمیہ: 4344
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1461، 2318، 2752، 2769، 4554، 4555، 5611، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 998،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1762، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2455، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3632، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6396، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1689، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2997، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1695والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4421، 4422، 4423، 4424، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12327، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21334، 31431»
ترقیم العلمیہ : 4345 ترقیم الرسالہ : -- 4425
نَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ ، قَالا: نَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلانِيُّ ، بِعَسْقَلانَ، نَا رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" مَا مِنْ مَالِي شَيْءٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الْمِائَةِ وَسْقٍ الَّتِي أَطْعَمْتَنِيهَا مِنْ خَيْبَرَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَاحْبِسْ أَصْلَهَا وَاجْعَلْ ثَمَرَهَا صَدَقَةً، قَالَ: فَكَتَبَ عُمَرُ هَذَا الْكِتَابَ: مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي ثَمْغٍ وَالْمِائَةِ الْوَسْقِ الَّتِي أَطْعَمَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَرْضِ خَيْبَرَ، إِنِّي حَبَسْتُ أَصْلَهَا وَجَعَلْتُ ثَمَرَتَهَا صَدَقَةً لِذِي الْقُرْبَى، وَالْيَتَامَى، وَالْمَسَاكِينِ، وَابْنِ السَّبِيلِ وَالْمُقِيمِ عَلَيْهَا أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا لا جُنَاحَ، وَلا يُبَاعُ، وَلا يُوهَبُ، وَلا يُورَثُ، مَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ، جَعَلَ ذَلِكَ إِلَى ابْنَتِهِ حَفْصَةَ، فَإِذَا مَاتَتْ، فَإِلَى ذِي الرَّأْيِ مِنْ أَهْلِهَا" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرے نزدیک سب سے بہترین مال وہ زمین ہے، جس کی پیداوار ایک سو وسق ہے، جو آپ نے مجھے خیبر میں عطا کی ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اصل زمین کو اپنے پاس رکھو اور اس کے پھل کو صدقہ کر دو۔“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ تحریر لکھوائی: ”یہ عمر بن خطاب کی طرف سے ہے، جو ’شمغ‘ کی زمین کے بارے میں ہے اور ان ایک سو وسق کے بارے میں ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا کیے تھے، جو خیبر میں ہیں۔ میں اس کی اصل کو اپنے پاس رکھوں گا اور اس کے پھل کو صدقہ کر دوں گا، جو قریبی رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور اس کی نگرانی کرنے والے کو ملے گا۔ تو نگرانی کرنے والا خود بھی اس میں سے کھا سکتا ہے اور اپنے کسی دوست کو بھی کھلا سکتا ہے، اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا، البتہ اس زمین کو فروخت نہیں کیا جا سکے گا، ہبہ نہیں کیا جا سکے گا، وراثت میں تقسیم نہیں ہو گی، جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو یہ وصیت کی تھی، پھر اگر ان کا انتقال ہو جاتا، تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے خاندان میں سے کسی اور صاحب رائے شخص کی طرف یہ وصیت منتقل ہو جاتی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَحْبَاسِ/حدیث: 4425]
ترقیم العلمیہ: 4345
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
ترقیم العلمیہ : 4346 ترقیم الرسالہ : -- 4426
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلافُ ، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ" أَرَادَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ الَّذِي بِثَمْغٍ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: احْبِسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلْ ثَمَرَهَا".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی زمین صدقہ کرنے کا ارادہ کیا، جو شمغ میں موجود تھی، اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اصل زمین اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو اللہ کی راہ میں دے دو۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَحْبَاسِ/حدیث: 4426]
ترقیم العلمیہ: 4346
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
ترقیم العلمیہ : 4347 ترقیم الرسالہ : -- 4427
قُرِئَ عَلَى أَبِي مُحَمَّدِ بْنُ يَحْيَى بْنِ صَاعِدٍ ، قِيلَ لَهُ: وَفِي كِتَابِكَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ بِشْرٍ الأَزْدِيِّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ الْجَحْدَرِيُّ ، نَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنِّي اسْتَفَدْتُ مَالا وَهُوَ نَفِيسٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِ، قَالَ: تَصَدَّقْ بِأَصْلِهَا لا يُبَاعُ، وَلا يُوهَبُ، وَلا يُورَثُ، وَلَكِنْ يُنْفَقُ ثَمَرَتُهُ، قَالَ: فَتَصَدَّقَ بِهِ، فَصَدَقْتُهُ كُتِبَتْ عَلَى ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالضَّيْفِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، وَالْمَسَاكِينِ، وَذِي الْقُرْبَى، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهُ أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ وَيُطْعِمَ صَدِيقَهُ غَيْرَ مَأْثُومٍ فِيهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے ایک زمین ملی ہے، جو بہترین ہے، میں یہ چاہتا ہوں کہ اسے صدقہ کر دوں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اس کو اس طرح صدقہ کرو کہ اصل زمین کو فروخت نہ کیا جا سکے، ہبہ نہ کیا جا سکے، وراثت میں تقسیم نہ کیا جا سکے اور اس کے پھل کو (اللہ کی راہ میں) خرچ کر دیا جائے۔“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اسی طرح صدقہ کیا اور انہوں نے اس کے صدقہ کرنے کی تحریر میں یہ بات لکھوائی کہ یہ اللہ کی راہ میں (یعنی مجاہدین کو)، مہمانوں کو، مسافروں کو، غریبوں کو اور قریبی رشتے داروں کو دیا جا سکے گا۔ جو شخص اس زمین کا نگران ہو گا، اگر وہ مناسب طریقے سے اس میں سے کھا لیتا ہے یا اپنے کسی دوست کو کھلا دیتا ہے، تو اس پر کوئی حرج اور کوئی گناہ نہیں ہو گا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَحْبَاسِ/حدیث: 4427]
ترقیم العلمیہ: 4347
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
«قال الدارقطني: وهو حديث ص