🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. بَابٌ مِنَ الشَّهَادَاتِ
باب: گواہی کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4519 ترقیم الرسالہ : -- 4600
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَدَّ شَهَادَةِ الْخَائِنِ، وَالْخَائِنَةِ، وَذِي الْغِمْرِ عَلَى أَخِيهِ، وَرَدَّ شَهَادَةَ الْقَانِعِ لأَهْلِ الْبَيْتِ، وَأَجَازَهَا عَلَى غَيْرِهِمْ" .
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیانت کرنے والے مرد، خیانت کرنے والی عورت، اپنے بھائی سے کینہ رکھنے والے شخص اور گھر میں ملازم کی گواہی کو مسترد کر دیا تھا، البتہ وہ اپنے گھروالوں کے علاوہ دوسروں کے حق میں گواہی دے سکتے ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابٌ فِي الْأَقْضِيَةِ وَالْأَحْكَامِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4600]
ترقیم العلمیہ: 4519
تخریج الحدیث: «ضعيف، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 3600، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2366، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4600، 4601، 4604، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6813»
«قال البيهقي: لا يصح من هذا شيء عن النبي صلى الله عليه وسلم، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 364)»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4520 ترقیم الرسالہ : -- 4601
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عِيسَى بْنُ أَبِي حَرْبٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، نَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، عَنْ آدَمَ بْنِ فَائِدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ، وَلا خَائِنَةٍ، وَلا مَحْدُودٍ فِي الإِسْلامِ، وَلا مَحْدُودَةٍ، وَلا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ" .
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیانت کرنے والے مرد، خیانت کرنے والی عورت، حد میں سزا یافتہ مرد، حد میں سزا یافتہ عورت، اپنے بھائی کے خلاف کینہ رکھنے والے کی گواہی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابٌ فِي الْأَقْضِيَةِ وَالْأَحْكَامِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4601]
ترقیم العلمیہ: 4520
تخریج الحدیث: «ضعيف، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 3600، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2366، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4600، 4601، 4604، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6813»
«قال البيهقي: لا يصح من هذا شيء عن النبي صلى الله عليه وسلم، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 364)»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4521 ترقیم الرسالہ : -- 4602
نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ الْوَكِيلُ ، نَا أَبُو بَدْرٍ ، وَعَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالا: نَا حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ ، نَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقُرَشِيُّ ، نَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ، وَلا خَائِنَةٍ، وَلا مَجْلُودٍ حَدًّا، وَلا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ، وَلا الْقَانِعِ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ لَهُمْ" ، يَزِيدُ هَذَا، ضَعِيفٌ لا يُحْتَجُّ بِهِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ روایت نقل کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیانت کرنے والے مرد، خیانت کرنے والی عورت، حد میں سزا یافتہ مرد، اپنے بھائی کے خلاف کینہ رکھنے والے شخص اور گھر کے ملازم کی گھروالوں کے خلاف گواہی درست نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابٌ فِي الْأَقْضِيَةِ وَالْأَحْكَامِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4602]
ترقیم العلمیہ: 4521
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2298، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20636، 20923، 20924، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4602، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 4866»
«قال ابن حجر: فيه يزيد بن زياد الشامي وهو ضعيف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 364)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4522 ترقیم الرسالہ : -- 4603
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ خَلَفٍ الدِّمَشْقِيُّ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ، فَقَالَ:" أَلا لا تَجُوزُ شَهَادَةُ الْخَائِنِ وَلا الْخَائِنَةِ، وَلا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ، وَلا الْمَوْقُوفِ عَلَى حَدٍّ" ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ مَتْرُوكٌ، وَعَبْدُ الأَعْلَى، ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: یاد رکھنا کہ خیانت کرنے والے مرد، خیانت کرنے والی عورت، اپنے بھائی کے خلاف کینہ رکھنے والے شخص اور جس شخص پر حد جاری ہوئی ہو، ان کی گواہی درست نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابٌ فِي الْأَقْضِيَةِ وَالْأَحْكَامِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4603]
ترقیم العلمیہ: 4522
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20637، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4603»
«قال ابن حجر: فيه عبد الأعلى وهو ضعيف وشيخه يحيى بن سعيد الفارسي ضعيف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 364)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4523 ترقیم الرسالہ : -- 4604
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا يَحْيَى بْنُ الضُّرَيْسِ ، أَخْبَرَنِي الْمُثَنَّى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ، وَلا خَائِنَةٍ، وَلا مَوْقُوفٍ عَلَى حَدٍّ، وَلا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ" .
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیانت کرنے والے مرد، خیانت کرنے والی عورت، جس شخص پر حد جاری ہوئی ہو اور جو شخص اپنے بھائی کے خلاف کینہ رکھتے ہوئے اس کے خلاف گواہی دے، ان کی گواہی درست نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابٌ فِي الْأَقْضِيَةِ وَالْأَحْكَامِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4604]
ترقیم العلمیہ: 4523
تخریج الحدیث: «ضعيف، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 3600، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2366، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4600، 4601، 4604، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6813»
«قال البيهقي: لا يصح من هذا شيء عن النبي صلى الله عليه وسلم، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 364)»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4524 ترقیم الرسالہ : -- 4605
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُبَشِّرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ، نَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَالِدًا، يَذْكُرُ عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: كَانَ شُرَيْحٌ،" يُجِيزُ شَهَادَةَ كُلِّ مِلَّةٍ عَلَى مِلَّتِهَا، وَلا يُجِيزُ شَهَادَةَ الْيَهُودِيِّ عَلَى النَّصْرَانِيِّ، وَلا النَّصْرَانِيِّ عَلَى الْيَهُودِيِّ، إِلا الْمُسْلِمِينَ فَإِنَّهُ كَانَ يُجِيزُ شَهَادَتَهُمْ عَلَى الْمِلَلِ كُلِّهَا" .
شعبی بیان کرتے ہیں کہ قاضی شریح کسی مذہب سے تعلق رکھنے والے شخص کی گواہی اسی مذہب سے تعلق رکھنے والے شخص کے خلاف قبول کر لیتے تھے، وہ عیسائی کے خلاف یہودی کی، یا یہودی کے خلاف عیسائی کی گواہی کو قبول نہیں کرتے تھے۔ البتہ مسلمانوں کا مسئلہ مختلف تھا، کیونکہ وہ کسی بھی مسلمان کی گواہی دوسرے تمام مذاہب کے خلاف قبول کر لیتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابٌ فِي الْأَقْضِيَةِ وَالْأَحْكَامِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4605]
ترقیم العلمیہ: 4524
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20694، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4605»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4525 ترقیم الرسالہ : -- 4606
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا أَبُو قَبِيصَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، نَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو ، نَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" شَيْئَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُمَا: كِتَابُ اللَّهِ وَسُنَّتِي، وَلَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، تم ان کے (مل جانے کے) بعد گمراہ نہیں ہو گے: اللہ کی کتاب اور میری سنت، یہ دونوں الگ نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ یہ حوض پر مجھ تک پہنچ جائیں گے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابٌ فِي الْأَقْضِيَةِ وَالْأَحْكَامِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4606]
ترقیم العلمیہ: 4525
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 318، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20396، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4606، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 8993»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4526 ترقیم الرسالہ : -- 4607
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ مَرْوَانَ ، نَا جُنَادَةُ بْنُ مَرْوَانَ ، نَا أَبِي ، نَا شَعْوَذُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، قَالَ: قَالَ كَعْبُ بْنُ عَاصِمٍ الأَشْعَرِيُّ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَجَارَنِي عَلَى أُمَّتِي مِنْ ثَلاثٍ: لا يَجُوعُوا، وَلا يَسْتَجْمِعُوا عَلَى ضَلالٍ، وَلا تُسْتَبَاحُ بَيْضَةُ الْمُسْلِمِينَ" .
سیدنا کعب بن عاصم اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے میری امت کے حوالے سے مجھے تین چیزوں کی پناہ عطا کر دی ہے: وہ لوگ بھوکے نہیں رہیں گے، وہ لوگ گمراہی پر متفق نہیں ہوں گے اور وہ لوگ سرے سے ختم نہیں ہوں گے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابٌ فِي الْأَقْضِيَةِ وَالْأَحْكَامِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4607]
ترقیم العلمیہ: 4526
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4607، انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4527 ترقیم الرسالہ : -- 4608
حَدَّثَنَا أَبِي ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي سَمِينَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَأْرَبِيُّ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ ، عَنْ سُمَيِّ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ شُمَيْرٍ ، عَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" مَا يَحْمِي مِنَ الأَرَاكِ؟، قَالَ: مَا لا تَنَالُهُ أَخْفَافُ الإِبِلِ" .
سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں پیلو کے درخت میں سے کیا چیز چنوں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ چیز جہاں اونٹ کے پاؤں نہ پہنچ سکیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابٌ فِي الْأَقْضِيَةِ وَالْأَحْكَامِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4608]
ترقیم العلمیہ: 4527
تخریج الحدیث: «ضعيف، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4499، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 1282،والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5732، 5733، 5734، 5735، 5736، 5737، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3064، 3066، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1380، 1380 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2650، 2653، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2475، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3077، 4520، 4521، 4608، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 33704»
«قال ابن عدي: محمد بن قيس أحاديثه مظلمة منكرة، الكامل في الضعفاء: (7 / 471)»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4528 ترقیم الرسالہ : -- 4609
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ الْمُحْرِمِ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ السَّمُرِيُّ، نَا مَرْوَانُ بْنُ جَعْفَرٍ السَّمُرِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ الْمُغِيرَةِ بْنَ شُعْبَةَ ، وَمَصْقَلَةَ بْنَ هُبَيْرَةَ الشَّيْبَانِيَّ، تَنَازَعَا بِالْكُوفَةِ فَفَخَرَ الْمُغِيرَةُ بِمَكَانِهِ مِنْ مُعَاوِيَةَ عَلَى مَصْقَلَةَ، فَقَالَ لَهُ مَصْقَلَةُ: وَاللَّهِ لأَنَا أَعْظَمُ عَلَيْهِ حَقًّا مِنْكَ، قَالَ لَهُ الْمُغِيرَةُ" وَلِمَ؟"، قَالَ لَهُ مَصْقَلَةُ: لأَنِّي فَارَقْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلامُ فِي الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ وَوُجُوهِ أَهْلِ الْعِرَاقِ، وَلَحِقْتُ بِمُعَاوِيَةَ فَضَرَبْتُ مَعَهُ بِسَيْفِي، وَاسْتَعْمَلَنِي عَلَى الْبَحْرَيْنِ فَأَعْتَقْتُ لَهُ بَنِي سَامَةَ بْنِ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبٍ بَعْدَ مَا مُلِكَتْ رِقَابُهُمْ وَأُبِيحَتْ حُرْمَتُهُمْ، وَأَنْتَ مُقِيمٌ بِالطَّائِفِ تُنَاغِي نِسَاءَكَ، وَتُرَشِّحُ أَطْفَالَكَ طَوِيلُ اللِّسَانِ قَصِيرُ الْيَدِ، تُلْقِي بِالْمَوَدَّةِ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ حَتَّى إِذَا اسْتَقَامَتِ الأُمُورُ غَلَبْتَنَا غَلَبَةً، فَقَالَ لَهُ الْمُغِيرَةُ:" وَاللَّهِ يَا مَصْقَلَةُ مَا زِلْتَ مُنْذُ الْيَوْمِ تُكْثِرُ الْحَزَّ وَتُحْطِي الْمَفَاصِلَ، أَمَّا تَرْكُكَ عَلِيًّا فَقَدْ فَعَلْتَ فَلَمْ تُؤْنِسْ أَهْلَ الشَّامِ، وَلَمْ تُوحِشْ أَهْلَ الْعِرَاقِ، وَأَمَّا قَوْلُكَ فِي عِتْقِ بَنِي سَامَةَ بْنِ لُؤَيٍّ، فَإِنَّمَا أَعْتَقَهُمْ ثِقَةُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِكَ، أَمَا وَاللَّهِ مَا صَبَرْتَ لَهُمْ نَفْسَكَ وَلا أَعْتَقْتَهُمْ مِنْ مَالِكَ، وَأَمَّا مَقَامِي بِالطَّائِفِ فَقَدْ أَبْلانِي اللَّهُ تَعَالَى فِي الْخَفْضِ مَا لَمْ يُبْلِكَ فِي الظَّعْنِ، وَلِلَّهِ تَعَالَى عَلَيْنَا، فَإِنْ أَنْتَ عَادَيْتَنَا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ وَرَائِكَ" .
مروان جعفر بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ ایک مرتبہ کوفہ میں سیدنا مغیرہ بن شعبہ اور مصقلہ بن ہبیرہ کے درمیان اختلاف ہو گیا تو مغیرہ نے مصقلہ کے سامنے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے قریب ہونے کے حوالے سے فخر کا اظہار کیا۔ تو مصقلہ نے ان سے کہا: اللہ کی قسم! میں اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہوں کہ وہ مجھ سے زیادہ قریب ہوں۔ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: وہ کیوں؟ مصقلہ نے ان سے کہا: اس کی وجہ یہ ہے کہ میں سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو مہاجرین اور انصار اور عراق کے بڑے لوگوں کے درمیان چھوڑ کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مل گیا تھا اور ان کے ساتھ تلوار چلاتا رہا تھا اور انہوں نے مجھے گورنر مقرر کیا تھا تو میں نے ان کے لیے بنو سامہ بن لوئی کو آزاد کیا تھا، حالانکہ میں ان کی گردنوں کا مالک بن چکا تھا اور ان کی عزتیں میرے لیے حلال ہو چکی تھیں، جبکہ تم طائف میں ٹھہرے ہوئے تھے اور اپنی بیویوں کے ساتھ خوش ہو رہے تھے اور اپنے بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، تمہاری زبان دراز تھی، تم کنجوس تھے، تمہیں رشتے داری کی پروا نہیں تھی لیکن جب معاملہ ٹھیک ہو گیا تو اس وقت تم ہم پر غالب آ گئے۔ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اللہ کی قسم! اے مصقلہ! تم آج یہی باتیں کیے جا رہے ہو، جہاں تک تمہارا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑنے کا تعلق ہے، تو تم نے ایسا کیا ہے، تو تم نے یہ عمل اہل شام سے محبت کی وجہ سے نہیں کیا بلکہ اہل عراق کے ساتھ نفرت کی وجہ سے کیا ہے۔ جہاں تک تم نے یہ کہا کہ تم نے بنو سامہ بن لوئی کو آزاد کیا ہے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ایک قابل اعتماد ساتھی نے تم پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں آزاد کیا ہے۔ اللہ کی قسم! تم نے اپنے آپ کو ان کے ساتھ متعلق نہیں کیا اور نہ ہی انہیں اپنے مال میں سے آزاد کیا تھا۔ جہاں تک میرا طائف میں رہنے کا معاملہ ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے گھر بار کی آزمائش میں مبتلا کیا، جس میں تمہیں مبتلا نہیں کیا، جو بیویوں کے بارے میں ہوتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے، اگر تم نے ہمارے ساتھ دشمنی کی تو اللہ تعالیٰ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابٌ فِي الْأَقْضِيَةِ وَالْأَحْكَامِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4609]
ترقیم العلمیہ: 4528
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4609، انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں