الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
كِتَاب الْإِمَارَةِ
امور حکومت کا بیان
The Book on Government
41. باب ثُبُوتِ الْجَنَّةِ لِلشَّهِيدِ:
باب: شہید کے لیے جنت کا ثابت ہونا۔
Chapter: Affirmation of Paradise for the Martyr
حدیث نمبر: 4913
Save to word اعراب
حدثنا سعيد بن عمرو الاشعثي ، وسويد بن سعيد ، واللفظ لسعيد، اخبرنا سفيان ، عن عمرو ، سمع جابرا ، يقول: قال رجل: اين انا يا رسول الله إن قتلت؟، قال: " في الجنة "، فالقى تمرات كن في يده ثم قاتل حتى قتل "، وفي حديث سويد، قال رجل: للنبي صلى الله عليه وسلم يوم احد.حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَاللَّفْظُ لِسَعِيد، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ: أَيْنَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ قُتِلْتُ؟، قَالَ: " فِي الْجَنَّةِ "، فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ كُنَّ فِي يَدِهِ ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلُ "، وَفِي حَدِيثِ سُوَيْدٍ، قَالَ رَجُلٌ: لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ.
‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! میں کہاں ہوں گا اگر مارا جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں۔ یہ سن کر اس نے چند کھجوریں جو اس کے ہاتھ میں تھیں (کھانے کے لیے) پھینک دیں اور لڑا یہاں تک کہ شہید ہوا، اور سوید کی روایت میں ہے کہ احد کے دن ایک شخص نے کہا۔
حدیث نمبر: 4914
Save to word اعراب
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا ابو اسامة ، عن زكرياء ، عن ابي إسحاق ، عن البراء ، قال: جاء رجل من بني النبيت إلى النبي صلى الله عليه وسلم. ح وحدثنا احمد بن جناب المصيصي ، حدثنا عيسى يعني ابن يونس ، عن زكرياء ، عن ابي إسحاق ، عن البراء ، قال: جاء رجل من بني النبيت قبيل من الانصار، فقال: اشهد ان لا إله إلا الله وانك عبده ورسوله، ثم تقدم فقاتل حتى قتل، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " عمل هذا يسيرا واجر كثيرا ".حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّبِيتِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّبِيتِ قَبِيلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَمِلَ هَذَا يَسِيرًا وَأُجِرَ كَثِيرًا ".
‏‏‏‏ سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک شخص بنی نبیت کا (جو انصار کا ایک قبیلہ ہے) آیا اور کہنے لگا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے پیغام پہنچانے والے ہیں، پھر آگے بڑھا اور لڑتا رہا یہاں تک کہ مارا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس نے عمل تھوڑا کیا پر ثواب بہت پایا۔
حدیث نمبر: 4915
Save to word اعراب
حدثنا ابو بكر بن النضر بن ابي النضر ، وهارون بن عبد الله ، ومحمد بن رافع ، وعبد بن حميد ، والفاظهم متقاربة، قالوا: حدثنا هاشم بن القاسم ، حدثنا سليمان وهو ابن المغيرة ، عن ثابت ، عن انس بن مالك ، قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم بسيسة عينا ينظر ما صنعت عير ابي سفيان، فجاء وما في البيت احد غيري وغير رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: لا ادري ما استثنى بعض نسائه، قال: فحدثه الحديث، قال: فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم، فتكلم فقال: " إن لنا طلبة فمن كان ظهره حاضرا، فليركب معنا "، فجعل رجال يستاذنونه في ظهرانهم في عل والمدينة، فقال: " لا، إلا من كان ظهره حاضرا "، فانطلق رسول الله صلى الله عليه وسلم واصحابه حتى سبقوا المشركين إلى بدر، وجاء المشركون، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا يقدمن احد منكم إلى شيء حتى اكون انا دونه "، فدنا المشركون، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " قوموا إلى جنة عرضها السموات والارض "، قال: يقول عمير بن الحمام الانصاري: يا رسول الله، جنة عرضها السموات والارض؟، قال: نعم، قال: بخ بخ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ما يحملك على قولك بخ بخ؟، قال: لا والله يا رسول الله إلا رجاءة ان اكون من اهلها، قال: " فإنك من اهلها "، فاخرج تمرات من قرنه فجعل ياكل منهن، ثم قال: لئن انا حييت حتى آكل تمراتي هذه إنها لحياة طويلة، قال: فرمى بما كان معه من التمر ثم قاتلهم حتى قتل.حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَال: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُسَيْسَةَ عَيْنًا يَنْظُرُ مَا صَنَعَتْ عِيرُ أَبِي سُفْيَانَ، فَجَاءَ وَمَا فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا أَدْرِي مَا اسْتَثْنَى بَعْضَ نِسَائِهِ، قَالَ: فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَكَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّ لَنَا طَلِبَةً فَمَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا، فَلْيَرْكَبْ مَعَنَا "، فَجَعَلَ رِجَالٌ يَسْتَأْذِنُونَهُ فِي ظُهْرَانِهِمْ فِي عُلْ وَالْمَدِينَةِ، فَقَالَ: " لَا، إِلَّا مَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا "، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى سَبَقُوا الْمُشْرِكِينَ إِلَى بَدْرٍ، وَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُقَدِّمَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَى شَيْءٍ حَتَّى أَكُونَ أَنَا دُونَهُ "، فَدَنَا الْمُشْرِكُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُومُوا إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ "، قَالَ: يَقُولُ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جَنَّةٌ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: بَخٍ بَخٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَحْمِلُكَ عَلَى قَوْلِكَ بَخٍ بَخٍ؟، قَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا رَجَاءَةَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِهَا، قَالَ: " فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِهَا "، فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرَنِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُنَّ، ثُمَّ قَالَ: لَئِنْ أَنَا حَيِيتُ حَتَّى آكُلَ تَمَرَاتِي هَذِهِ إِنَّهَا لَحَيَاةٌ طَوِيلَةٌ، قَالَ: فَرَمَى بِمَا كَانَ مَعَهُ مِنَ التَّمْرِ ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ.
‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسیسہ (ایک شخص کا نام ہے) کو جاسوس بنا کر بھیجا کہ وہ ابوسفیان کے قافلہ کی خبر لائے وہ لوٹ کر آیا اس وقت گھر میں میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی نہ تھا۔ راوی نے کہا: مجھے یاد نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بی بی کا سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا، پھر حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور فرمایا: ہمیں کام ہے تو جس کی سواری موجود ہو وہ سوار ہو ہمارے ساتھ۔ یہ سن کر چند آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگنے لگے اپنی سواریوں میں جانے کی جو مدینہ منورہ کی بلندی میں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں صرف وہ لوگ جائیں جن کی سواریاں موجود ہوں۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کے ساتھ یہاں تک کہ مشرکین سے پہلے بدر میں پہنچے اور مشرک بھی آ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں سے کوئی کسی چیز کی طرف نہ بڑھے جب تک میں اس کے آگے نہ ہوں۔پھر مشرک قریب پہنچے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اٹھو جنت میں جانے کے لیے جس کی چوڑائی تمام آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔سیدنا عمیرن حمام انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! جنت کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ اس نے کہا: واہ سبحان اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا کیوں کہتا ہے۔ وہ بولا کچھ نہیں یا رسول اللہ! میں نے اس امید سے کہا کہ جنت کے لوگوں سے میں بھی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تو جنت والوں میں سے ہے۔ یہ سن کر اس نے چند کھجوریں اپنے ترکش سے نکالیں اور ان کو کھانے لگا، پھر بولا اگر میں جیوں اپنی کھجوریں کھانے تک تو بڑی لمبی زندگی ہو اور جتنی کھجوریں باقی تھیں وہ پھینک دیں اور لڑا کافروں سے یہاں تک کہ شہید ہوا۔
حدیث نمبر: 4916
Save to word اعراب
حدثنا يحيي بن يحيي التميمي، وقتيبة بن سعيد، واللفظ ليحيى، قال قتيبة : حدثنا، وقال يحيى : اخبرنا جعفر بن سليمان ، عن ابي عمران الجوني ، عن ابي بكر بن عبد الله بن قيس ، عن ابيه ، قال: سمعت ابي وهو بحضرة العدو، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن ابواب الجنة تحت ظلال السيوف "، فقام رجل رث الهيئة، فقال: يا ابا موسى آنت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول هذا؟، قال: نعم، قال: فرجع إلى اصحابه، فقال: اقرا عليكم السلام، ثم كسر جفن سيفه فالقاه ثم مشى بسيفه إلى العدو فضرب به حتى قتل.حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ قُتَيْبَةُ : حَدَّثَنَا، وقَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي وَهُوَ بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ "، فَقَامَ رَجُلٌ رَثُّ الْهَيْئَةِ، فَقَالَ: يَا أَبَا مُوسَى آنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: أَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ، ثُمَّ كَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ فَأَلْقَاهُ ثُمَّ مَشَى بِسَيْفِهِ إِلَى الْعَدُوِّ فَضَرَبَ بِهِ حَتَّى قُتِلَ.
‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ سے روایت کیا، وہ دشمن کے سامنے تھے اور کہتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت کے دروازے تلواروں کے سایوں تلے ہیں۔ یہ سن کر ایک شخص اٹھا غریب میلا کچیلا اور کہنے لگا۔ اے ابوموسیٰ! تم نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا فرماتے تھے۔ انہوں نے کہا ہاں یہ سن کر وہ اپنے یاروں کی طرف گیا اور کہا: میں تم کو سلام کرتا ہوں اور اپنی تلوار کا نیام توڑ ڈالا، پھر تلوار لے کر دشمن کی طرف گیا اور مارا دشمن کو یہاں تک کہ شہید ہوا۔
حدیث نمبر: 4917
Save to word اعراب
حدثنا محمد بن حاتم ، حدثنا عفان ، حدثنا حماد ، اخبرنا ثابت ، عن انس بن مالك ، قال: جاء ناس إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقالوا: ان ابعث معنا رجالا يعلمونا القرآن والسنة، فبعث إليهم سبعين رجلا من الانصار يقال لهم القراء، فيهم خالي حرام يقرءون القرآن ويتدارسون بالليل يتعلمون، وكانوا بالنهار يجيئون بالماء فيضعونه في المسجد ويحتطبون، فيبيعونه ويشترون به الطعام لاهل الصفة وللفقراء، فبعثهم النبي صلى الله عليه وسلم إليهم فعرضوا لهم فقتلوهم قبل ان يبلغوا المكان، فقالوا: اللهم بلغ عنا نبينا انا قد لقيناك فرضينا عنك ورضيت عنا، قال: واتى رجل حراما خال انس من خلفه، فطعنه برمح حتى انفذه، فقال: حرام فزت ورب الكعبة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لاصحابه: " إن إخوانكم قد قتلوا وإنهم قالوا: اللهم بلغ عنا نبينا انا قد لقيناك فرضينا عنك ورضيت عنا ".حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: جَاءَ نَاسٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: أَنِ ابْعَثْ مَعَنَا رِجَالًا يُعَلِّمُونَا الْقُرْآنَ وَالسُّنَّةَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ سَبْعِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُمُ الْقُرَّاءُ، فِيهِمْ خَالِي حَرَامٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَتَدَارَسُونَ بِاللَّيْلِ يَتَعَلَّمُونَ، وَكَانُوا بِالنَّهَارِ يَجِيئُونَ بِالْمَاءِ فَيَضَعُونَهُ فِي الْمَسْجِدِ وَيَحْتَطِبُونَ، فَيَبِيعُونَهُ وَيَشْتَرُونَ بِهِ الطَّعَامَ لِأَهْلِ الصُّفَّةِ وَلِلْفُقَرَاءِ، فَبَعَثَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فَعَرَضُوا لَهُمْ فَقَتَلُوهُمْ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغُوا الْمَكَانَ، فَقَالُوا: اللَّهُمَّ بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ فَرَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا، قَالَ: وَأَتَى رَجُلٌ حَرَامًا خَالَ أَنَسٍ مِنْ خَلْفِهِ، فَطَعَنَهُ بِرُمْحٍ حَتَّى أَنْفَذَهُ، فَقَالَ: حَرَامٌ فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: " إِنَّ إِخْوَانَكُمْ قَدْ قُتِلُوا وَإِنَّهُمْ قَالُوا: اللَّهُمَّ بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ فَرَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا ".
‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے ہمارے ساتھ چند آدمی کردیجیئیے جو ہم کو قرآن اور حدیث سکھلا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ستر انصاری آدمیوں کو کر دیا جن کو قراء (قاری کی جمع یعنی قرآن پڑھنے والے) کہتے تھے، ان میں میرے ماموں حرام بھی تھے۔ وہ لوگ قرآن مجید پڑھا کرتے تھے اور رات کو قرآن مجید کی تحقیق کرتے سیکھتے اور دن کو پانی لا کر مسجد میِں رکھتے اور لکڑیاں اکٹھی کرتے پھر اس کو بیچتے اور کھانا خریدتے صفہ والوں اور فقیروں کے لیے۔ (صفہ مسجد میں ایک مقام تھا پٹا ہوا اس میں ستر آدمی رہتے تھے جو محض بے معاش اور متوکل تھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔ انہوں نے راستہ میں ان کا مقابلہ کیا اور ان کو قتل کیا (یعنی ان لوگوں کو جن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ کر دیا تھا) اپنے ٹھکانے پر پہنچنے سے پہلے۔ انہوں نے (مرتے وقت) کہا: یا اللہ! ہمارے نبی کو پہنچا دے کہ ہم تجھ سے مل گئے، اور راضی ہیں تجھ سے اور تو ہم سے راضی ہے۔ ایک شخص (کافروں میں سے) حرام کے پاس آیا (جو ماموں تھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے) اور برچھا مارا ان کے ایسا کہ پار ہو گیا۔ حرام نے کہا: میں مراد کو پہنچ گیا قسم ہے کعبہ کے مالک کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے فرمایا: تمہارے بھائی مارے گئے اور انہوں نے یہ کہا کہ یا اللہ! ہمارے نبی کو خبر کر دے کہ ہم تجھ سے مل گئے اور تجھ سے راضی ہیں اور تو ہم سے راضی ہے۔ (یہ خبر جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو خبر دی)۔
حدیث نمبر: 4918
Save to word اعراب
وحدثني محمد بن حاتم ، حدثنا بهز ، حدثنا سليمان بن المغيرة ، عن ثابت ، قال: قال انس : " عمي الذي سميت به لم يشهد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بدرا، قال: فشق عليه، قال: اول مشهد شهده رسول الله صلى الله عليه وسلم: غيبت عنه وإن اراني الله مشهدا فيما بعد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ليراني الله ما اصنع، قال: فهاب ان يقول غيرها، قال: فشهد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم احد، قال: فاستقبل سعد بن معاذ، فقال له انس: يا ابا عمر واين؟، فقال: واها لريح الجنة اجده دون احد، قال: فقاتلهم حتى قتل، قال: فوجد في جسده بضع وثمانون من بين ضربة وطعنة ورمية، قال: فقالت اخته عمتي الربيع بنت النضر: " فما عرفت اخي إلا ببنانه، ونزلت هذه الآية رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر وما بدلوا تبديلا سورة الاحزاب آية 23، قال: فكانوا يرون انها نزلت فيه وفي اصحابه ".وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ : " عَمِّيَ الَّذِي سُمِّيتُ بِهِ لَمْ يَشْهَدْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرًا، قَالَ: فَشَقَّ عَلَيْهِ، قَالَ: أَوَّلُ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غُيِّبْتُ عَنْهُ وَإِنْ أَرَانِيَ اللَّهُ مَشْهَدًا فِيمَا بَعْدُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَرَانِي اللَّهُ مَا أَصْنَعُ، قَالَ: فَهَابَ أَنْ يَقُولَ غَيْرَهَا، قَالَ: فَشَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، قَالَ: فَاسْتَقْبَلَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَقَالَ لَهُ أَنَسٌ: يَا أَبَا عَمْرٍ وَأَيْنَ؟، فَقَالَ: وَاهًا لِرِيحِ الْجَنَّةِ أَجِدُهُ دُونَ أُحُدٍ، قَالَ: فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ، قَالَ: فَوُجِدَ فِي جَسَدِهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ بَيْنِ ضَرْبَةٍ وَطَعْنَةٍ وَرَمْيَةٍ، قَالَ: فَقَالَتْ أُخْتُهُ عَمَّتِيَ الرُّبَيِّعُ بِنْتُ النَّضْرِ: " فَمَا عَرَفْتُ أَخِي إِلَّا بِبَنَانِهِ، وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلا سورة الأحزاب آية 23، قَالَ: فَكَانُوا يُرَوْنَ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ وَفِي أَصْحَابِهِ ".
‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے چچا جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا ہے (یعنی ان کا نام بھی انس تھا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کی لڑائی میں شریک نہیں ہوئے یہ امر ان پر بہت دشوار گزرا اور انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی لڑائی میں غائب رہا اب اگر اللہ تعالیٰ دوسری کوئی لڑائی میں مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کرے گا تو اللہ تعالیٰ دیکھے گا میں کیا کرتا ہوں اور ڈرے اس کے سوا اور کچھ کہنے سے (یعنی اور کچھ دعویٰ کرنے سے کہ میں ایسا کروں گا ویسا کروں گا کیونکہ شاید نہ ہو سکے اور جھوٹے ہوں) پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے احد کی لڑائی میں تو سعد بن معاذ ان کے سامنے آئے اور انہوں نے کہا: اے ابوعمرو (یہ کنیت تھی انس بن النضر بن ضمضم انصاری کی جو چچا تھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے) کہاں جاتے ہو؟ انہوں نے کہا: افسوس جنت کی ہوا احد کی طرف سے مجھے آ رہی ہے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر وہ لڑے کافروں سے یہاں تک کہ شہید ہوئے (لڑائی کے بعد دیکھا) تو ان کے بدن پر اسی سے زائد زخم تھے تلوار، برچھی اور تیر کے، ان کی بہن یعنی میری پھوپھی ربیع بنت نضر نے کہا: میں نے اپنے بھائی کو نہیں پہچانا مگر ان کی پوریں انگلیوں کی دیکھ کر (کیونکہ سارا بدن جسم زخموں سے چور چور ہو گیا تھا) اور یہ آیت «رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلاً» (الأحزاب: ۲۳) (یعنی وہ مرد جنہوں نے پورا کیا اپنا اقرار اللہ سے۔۔۔ بعض تو اپنا کام کر چکے اور بعض انتظار کر رہے ہیں) صحابہ کہتے تھے: ان کے اور ان کے ساتھیوں کے باب میں اتری۔

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.