صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب النَّهْيِ عَنِ التَّكَنِّي بِأَبِي الْقَاسِمِ وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الأَسْمَاءِ:
باب: ابوالقاسم کنیت رکھنے کی ممانعت اور اچھے ناموں کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2133 ترقیم شاملہ: -- 5596
وحدثني أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ . ح وحدثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ كِلَاهُمَا، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ وَلَا نُنْعِمُكَ عَيْنًا.
روح بن قاسم نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی، مگر انہوں نے یہ الفاظ نہیں کہے: (اور ہم تمہاری آنکھیں ٹھنڈی نہیں کریں گے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5596]
امام صاحب کو یہی روایت دو اور اساتذہ نے بھی سنائی، لیکن اس میں یہ ذکر نہیں کیا ”اور ہم تیری آنکھوں کو آسودگی نہیں بخشیں گے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5596]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2133
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2134 ترقیم شاملہ: -- 5597
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قال: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي "، قَالَ عَمْرٌو: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُ.
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، اور ابن نمیر نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے محمد بن سیرین سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو۔“ عمرو نے کہا (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے) کہا اور (میں نے سنا) نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5597]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5597]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2134
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2135 ترقیم شاملہ: -- 5598
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ نُمَيْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قال: لَمَّا قَدِمْتُ نَجْرَانَ سَأَلُونِي، فَقَالُوا: إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ يَا أُخْتَ هَارُونَ وَمُوسَى قَبْلَ عِيسَى بِكَذَا وَكَذَا، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهُ، عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَمُّونَ بِأَنْبِيَائِهِمْ وَالصَّالِحِينَ قَبْلَهُمْ ".
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب میں نجران میں آیا، تو وہاں کے (انصاری) لوگوں نے مجھ پر اعتراض کیا کہ تم پڑھتے ہو کہ (آیت) (اے ہارون کی بہن) (مریم: 28) (یعنی مریم علیہا السلام کو ہارون کی بہن کہا ہے) حالانکہ (سیدنا ہارون موسیٰ علیہ السلام کے بھائی تھے اور) موسیٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام سے اتنی مدت پہلے تھے (پھر مریم ہارون علیہا السلام کی بہن کیونکر ہو سکتی ہیں؟)، جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (یہ وہ ہارون تھوڑی ہیں جو موسیٰ کے بھائی تھے) بنی اسرائیل کی عادت تھی (جیسے اب سب کی عادت ہے) کہ وہ پیغمبروں اور اگلے نیکوں کے نام پر نام رکھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5598]
حضرت مغیرہ بن شعبہ علیہ السلام بیان کرتے ہیں، جب میں علاقہ نجران آیا، لوگوں نے مجھ سے سوال کیا اور کہا، تم پڑھتے ہو، ہارون کی بہن ﴿يَا اُختَ هٰارُونَ﴾ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5598]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2135
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة