🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

28. باب التَّدَاوِي بِالْعُودِ الْهِنْدِيِّ وَهُوَ الْكُسْتُ:
باب: عود ہندی کے ذریعے علاج کرنے کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 287 ترقیم شاملہ: -- 5762
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَر ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ أُخْتِ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ ، قَالَتْ: دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ، فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّهُ،
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، انہوں نے عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہا: میں اپنے بیٹے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی جس نے (ابھی تک) کھانا شروع نہیں کیا تھا، اس نے آپ پر پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی منگا کر اس پر بہا دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5762]
حضرت ام قیس بنت محصن، حضرت عکاشہ بن محصن کی ہمشیرہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، میں اپنے بیٹے کو لے کر، جو کھانا نہیں کھانے لگا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی، اس نے آپ پر بول کر دیا تو آپ نے پانی منگوا کر اس پر چھڑکا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5762]
ترقیم فوادعبدالباقی: 287
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2214 ترقیم شاملہ: -- 5763
قَالَتْ: وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ بِابْنٍ لِي قَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، فَقَالَ: " عَلَامَهْ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ يُسْعَطُ مِنَ الْعُذْرَةِ وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ ".
انہوں نے (ام قیس رضی اللہ عنہا) کہا: میں اپنے ایک بچے کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، میں نے اس کے گلے میں سوزش کی بنا پر اس کے حلق کو انگلی سے اوپر کی طرف دبایا تھا (تاکہ سوزش کی وجہ سے لٹکا ہوا حصہ اوپر ہو جائے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم انگلیوں کے دباؤ کے ذریعے سے اپنے بچوں کا گلا کیوں دباتی ہو؟ (آپ نے بچوں کے لیے اس تکلیف دہ طریقہ علاج کو ناپسند فرمایا۔) تم عود ہندی کا استعمال لازم کر لو۔ اس میں سات اقسام کی شفا ہے ان میں سے ایک نمونیا حلق کی سوزش کے لیے اس کو ناک کے راستے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور نمونیے کے لیے اسے منہ میں انڈیلا جاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5763]
اور میں آپ کے پاس اپنے بیٹے کو لے کر گئی، جس کے گلے کو میں نے تالو کے ورم کی بنا پر دبایا تھا تو آپ نے فرمایا: تم اس طرح اپنے بچوں کا گلا کیوں دباتی ہو، تم اس عود ہندی کو لازم پکڑو، اس میں سات چیزوں سے شفا ہے، ان میں سے ایک پسلیوں کے ورم اور نمونیا ہے، گلے کے ورم کی صورت میں ناک نتھنے سے اور پسلیوں کے ورم یا نمونیا، سے منہ کی ایک جانب سے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5763]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2214
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2214 ترقیم شاملہ: -- 5764
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، قال: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ ، وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ اللَّاتِي بَايَعْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ أُخْتُ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ أَحَدِ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ، وَقَدْ أَعْلَقَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، قَالَ يُونُسُ: أَعْلَقَتْ غَمَزَتْ فَهِيَ تَخَافُ أَنْ يَكُونَ بِهِ عُذْرَةٌ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَامَهْ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْإِعْلَاقِ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ يَعْنِي بِهِ الْكُسْتَ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ "،
یونس بن یزید نے کہا کہ ابن شہاب نے انہیں بتایا کہا: مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا۔ پہلے پہل ہجرت کرنے والی ان خواتین میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعت کی تھی۔ یہ بنو اسد بن خزیمہ کے فرد حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں۔ کہا: انہوں نے مجھے خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک بیٹے کو لے کر آئیں جو ابھی کھانا کھانے کی عمر کو نہیں پہنچا تھا، انہوں نے گلے کی سوزش کی بنا پر اس کے حلق کو انگلی سے دبایا تھا۔ یونس نے کہا حلق دبایا تھا۔ یعنی انگلی چبھوئی تھی (تاکہ فاسد خون نکل جائے) انہیں یہ خوف تھا کہ اس گلے کے اندر سوزش ہے۔ انہوں (ام قیس رضی اللہ عنہا) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس انگلی چبھونے والے طریقے سے تم اپنے بچوں کا گلا کیوں دباتی ہو؟ اس عود ہندی یعنی کست کا استعمال کرو کیونکہ اس میں سات اقسام کی شفا ہے ان میں سے ایک نمونیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5764]
حضرت ام قیس بنت محصن جو پہلی مہاجرات میں سے ہیں، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی اور عکاشہ بن محصن رضی اللہ تعالی عنہ کی ہمشیرہ ہیں، جو بنو اسد بن خزیمہ کے ایک فرد ہیں، وہ بیان کرتی ہیں، وہ اپنے بیٹے کو جو کھانا کھانے کی عمر کو نہیں پہنچا تھا، اور کوا گرنے کی بنا پر اس کے حلق کو دبا چکی تھی، لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، یونس کہتے ہیں، اس نے کوا گرنے کے اندیشہ کے پیش نظر، اس کا کوا اٹھایا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس طرح گلا دبا کر اپنی اولاد کو کیوں تکلیف پہنچاتی ہو؟ تم اس عود ہندی یعنی کست (کوٹ) کو لازم پکڑو، کیونکہ اس میں سات بیماریوں سے شفا ہے، ان میں سے پسلیوں کے ورم کی بیماری بھی ہے۔ اور بقول بعض نمونیا بھی ہے، ڈاکٹر خالد غزنوی نے ذات الجنب کا معنی پلورسی کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5764]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2214
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 287 ترقیم شاملہ: -- 5765
قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَأَخْبَرَتْنِي أَنَّ ابْنَهَا ذَاكَ بَالَ فِي حَجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ عَلَى بَوْلِهِ وَلَمْ يَغْسِلْهُ غَسْلًا.
عبیداللہ نے کہا: انہوں (ام قیس رضی اللہ عنہا) نے مجھ سے بیان کیا کہ ان کے اسی بچے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں پیشاب کر دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اس پر بہا دیا تھا اور اس کو زیادہ رگڑ کر نہیں دھویا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5765]
عبیداللہ کہتے ہیں، اس نے مجھے بتایا کہ اس کے اس بیٹے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں پیشاب کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر، اس کے بول پر چھڑک دیا اور اس کو اچھی طرح دھویا نہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5765]
ترقیم فوادعبدالباقی: 287
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں