صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
33. باب لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ وَلاَ هَامَةَ وَلاَ صَفَرَ وَلاَ نَوْءَ وَلاَ غُولَ وَلاَ يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ:
باب: بیماری لگ جانا اور بدشگونی، ہامہ، صفر، اور نوء غول یہ سب لغو ہیں، اور بیمار کو تندرست کے پاس نہ رکھیں۔
ترقیم عبدالباقی: 2220 ترقیم شاملہ: -- 5788
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي الطَّاهِرِ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، حِينَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ "، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ، فَيَجِيءُ الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيَدْخُلُ فِيهَا فَيُجْرِبُهَا كُلَّهَا، قَال: " فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ؟ ".
یونس نے کہا: ابن شہاب نے کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرض کا کسی دوسرے کو چمٹنا، ماہ صفر کی نحوست اور مقتول کی کھوپڑی سے الوکا نکلنا سب بے اصل ہیں“ تو ایک اعرابی (بدو) نے کہا: تو پھر اونٹوں کا یہ حال کیوں ہوتا ہے کہ وہ صحرا میں ایسے پھر رہے ہوتے ہیں جیسے ہرن (صحت مند چاق چوبند)، پھر ایک خارش زدہ اونٹ آتا ہے، ان میں شامل ہوتا ہے، اور ان سب کو خارش لگا دیتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پہلے اونٹ کو کس نے بیماری لگائی تھی؟“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5788]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عدویٰ، صفر اور ہامہ کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔“ تو ایک اعرابی نے کہا، اے اللہ کے رسول! تو کیا وجہ ہے، اونٹ، ریگستان میں، ہرن کی طرح چاق و چوبند ہوتے ہیں تو ایک خارشی اونٹ آ کر تمام کو خارشی کر دیتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پہلے کو کس نے بیماری لگائی؟“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5788]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2220
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2220 ترقیم شاملہ: -- 5789
وحدثني مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَغَيْرُهُ، أن أبا هريرة ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ "، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ،
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمن وغیرہ نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی سے کوئی مرض خود بخود نہیں چمٹتا، نہ بد فالی کی کوئی حقیقت ہے نہ صفر کی نحوست کی اور نہ کھوپڑی سے الو نکلنے کی۔“ تو ایک اعرابی کہنے لگا: یا رسول اللہ! (آگے) یونس کی حدیث کی مانند (ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5789]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عدوی، بدشگونی، صفر اور ہامہ کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔“ تو ایک اعرابی نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یعنی مذکورہ بالا سوال نقل کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5789]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2220
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2220 ترقیم شاملہ: -- 5790
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَدْوَى "، فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ، وَصَالِح، وَعَنْ شُعَيْبٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ ".
شعیب نے زہری سے روایت کی، کہا: مجھے سنان بن ابی سنان دؤلی نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مرض کسی دوسرے کو خود بخود نہیں چمٹتا۔“ تو ایک اعرابی کھڑا ہو گیا، پھر یونس اور صالح کی حدیث کی مانند بیان کیا اور شعیب سے روایت ہے، انہوں نے زہری سے روایت کی، کہا: مجھے سائب بن یزید بن اخت نمر نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ کسی سے خود بخود مرض چمٹتا ہے نہ صفر کی نحوست کوئی چیز ہے اور نہ کھوپڑی سے الو نکلنا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5790]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مرض متعدی نہیں ہے۔“ تو ایک اعرابی کھڑا ہوا، آگے مذکورہ بالا سوال ہے، اور سائب بن یزید، نَمِرَ کی بہن کے بیٹے بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عدویٰ، صفر اور ھامہ کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5790]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2220
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2221 ترقیم شاملہ: -- 5791
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال: " لَا عَدْوَى "، وَيُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ "، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُهُمَا كِلْتَيْهِمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَمَتَ أَبُو هُرَيْرَةَ بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ قَوْلِهِ: لَا عَدْوَى، وَأَقَامَ عَلَى أَنْ لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصح، قَالَ: فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ذُبَابٍ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ: قَدْ كُنْتُ أَسْمَعُكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ تُحَدِّثُنَا مَعَ هَذَا الْحَدِيثِ حَدِيثًا آخَرَ قَدْ سَكَتَّ عَنْهُ، كُنْتَ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَدْوَى "، فَأَبَى أَبُو هُرَيْرَةَ أَنْ يَعْرِفَ ذَلِكَ، وَقَالَ: " لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ "، فَمَا رَآهُ الْحَارِثُ فِي ذَلِكَ حَتَّى غَضِبَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَرَطَنَ بِالْحَبَشِيَّةِ، فَقَالَ لِلْحَارِثِ: أَتَدْرِي مَاذَا قُلْتُ؟، قَالَ: لَا، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قُلْتُ أَبَيْتُ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَلَعَمْرِي لَقَدْ كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا عَدْوَى "، فَلَا أَدْرِي أَنَسِيَ أَبُو هُرَيْرَة أَوْ نَسَخَ أَحَدُ الْقَوْلَيْنِ الْآخَرَ
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی سے کوئی مرض خود بخود نہیں چمٹتا“ اور وہ حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیمار اونٹوں والا صحت مند اونٹوں والے (چرواہے) کے پاس اونٹ نہ لے جائے۔“ ابوسلمہ نے کہا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ دونوں حدیثیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کرتے تھے، پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ”لاعدوی“ والی حدیث بیان کرنے سے رک گئے اور ”بیمار اونٹوں والا صحت مند اونٹوں والے کے پاس (اونٹ) نہ لائے۔“ والی حدیث پر قائم رہے۔ تو حارث بن ابی ذباب نے۔ وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے چچا کے بیٹے تھے۔ کہا: ابوہریرہ! میں تم سے سنا کرتا تھا، تم اس کے ساتھ ایک اور حدیث بیان کرتے تھے جسے بیان کرنے سے اب تم خاموش ہو گئے ہو۔ تم کہا کرتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی سے مرض خود بخود نہیں چمٹتا“ تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو پہنانے سے انکار کر دیا اور یہ حدیث بیان کی۔ ”بیمار اونٹوں والا صحت مند اونٹوں والے کے پاس (اونٹ) نہ لائے۔“ اس پر حارث نے اس معاملے میں ان کے ساتھ تکرار کی حتی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ غصے میں آگئے اور حبشی زبان میں ان کو نہ سمجھ میں آنے والی کوئی بات کہی، پھر حارث سے کہا: تمہیں پتہ چلا ہے کہ میں نے تم سے کیا کہا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: میں (اس سے) انکار کرتا ہوں۔ ابوسلمہ نے کہا: مجھے اپنی زندگی کی قسم! ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں یہ حدیث سنایا کرتے تھے۔ ”لاعدوی (کسی سے خود بخود کوئی بیماری نہیں لگتی)“ مجھے معلوم نہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھول گئے ہیں یا ایک بات نے دوسری کو منسوخ کر دیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5791]
ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مرض متعدی نہیں“ اور یہ بھی بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیمار جانوروں والا اپنے جانور تندرست جانوروں کے پاس نہ لے جائے۔“ ابو سلمہ بیان کرتے ہیں، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ، مذکورہ بالا دونوں حدیثیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے، پھر بعد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ ”لا عدوى“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5791]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2221
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2221 ترقیم شاملہ: -- 5792
. حدثني مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدٌ: حَدَّثَنِي، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنُونَ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا عَدْوَى " وَيُحَدِّثُ مَعَ ذَلِكَ " لَا يُورِدُ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ " بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ،
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے بتایا: انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مرض خود بخود دوسرے کو نہیں لگ جاتا۔“ اور اس کے ساتھ یہ بیان کرتے ”بیمار اونٹوں والا (اپنے اونٹ) صحت مند اونٹوں والے کے پاس نہ لائے۔“ یونس کی حدیث کے مانند۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5792]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ یہ روایت بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مرض متعدی نہیں“ اور اس کے ساتھ یہ بھی بیان کرتے ”بیمار اونٹوں کا مالک تندرست اونٹوں کے مالک کے ہاں اپنے اونٹ نہ لے جائے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5792]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2221
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2221 ترقیم شاملہ: -- 5793
حَدَّثَنَاه عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
شعیب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5793]
امام صاحب کو یہ روایت ایک اور استاد نے بھی سنائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5793]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2221
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2220 ترقیم شاملہ: -- 5794
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ بْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَلَا نَوْءَ وَلَا صَفَرَ ".
علاء کے والد (عبدالرحمن) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی سے خود بخود مرض کا لگ جانا، کھوپڑی سے الو کا نکلنا، ستارے کے غائب ہونے اور طلوع ہونے سے بارش برسنا اور صفر (کی نحوست) کی کوئی حقیقت نہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5794]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”متعدی بیماری، الو، صفر، اور پخھتر کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5794]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2220
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2222 ترقیم شاملہ: -- 5795
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحدثنا يَحْيَي بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا غُولَ ".
ابوخیثمہ (زہیر) نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی سے کوئی مرض لازمی طور پر نہیں چمٹ جاتا۔ نہ بد شگونی کوئی چیز ہے، نہ چھلاوے (غول بیابانی) کی کوئی حقیقت ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5795]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2222
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2222 ترقیم شاملہ: -- 5796
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ التُّسْتَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَدْوَى وَلَا غُولَ وَلَا صَفَرَ ".
یزید تستری نے کہا: ہمیں ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی سے کوئی مرض خود بخود نہیں چمٹتا، نہ چھلاوا کوئی چیز ہے، نہ صفر کی (نحوست) کوئی حقیقت ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5796]
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عدوی، غُول اور صفر کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5796]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2222
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2222 ترقیم شاملہ: -- 5797
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا غُولَ "، وَسَمِعْتُ أَبَا الزُّبَيْر ِ يَذْكُرُ أَنَّ جَابِرًا فَسَّرَ لَهُمْ قَوْلَهُ " وَلَا صَفَرَ "، فَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: الصَّفَرُ الْبَطْنُ، فَقِيلَ لِجَابِرٍ: كَيْفَ؟، قَالَ: كَانَ يُقَالُ دَوَابُّ الْبَطْنِ، قَالَ: وَلَمْ يُفَسِّرِ الْغُولَ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: هَذِهِ الْغُولُ الَّتِي تَغَوَّلُ.
ابن جریج نے کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کسی سے کوئی مرض خود بخود نہیں لگ جاتا، نہ صفر (کی نحوست) اور چھلاوا کوئی چیز ہے۔“ (ابن جریج نے کہا:) میں نے ابوزبیر کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے ان کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”(وَلَا صَفَر)“ کی وضاحت کی، ابوزبیر نے کہا: صفر پیٹ (کی بیماری) ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: کیسے؟ انہوں نے کہا: کہا جاتا تھا کہ اس سے پیٹ کے اندر بننے والے جانور مراد ہیں۔ کہا: انہوں نے غول کی تشریح نہیں کی، البتہ ابوزبیر نے کہا: یہ غول (وہی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے) جو رنگ بدلتا ہے (اور مسافروں کو راستے سے بھٹکا کر مار ڈالتا ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5797]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا، ”عدوی، صفر اور غول کچھ نہیں۔“ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ نے شاگردوں کو صفر کی یہ تفسیر بتائی کہ اس سے مراد پیٹ ہے تو جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا گیا، کیسے؟ انہوں نے کہا، پیٹ کے کیڑوں کو کہا جاتا ہے، انہوں نے غُول کی وضاحت نہیں کی، ابو زبیر نے کہا، یہ رنگ تبدیل کرنے والی چڑیل، جو مسافروں کو راہ سے بھڑکاتی ہے، جس سے وہ ہلاک ہو جاتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5797]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2222
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة