🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

172. قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ} .
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا» کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 701 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 701
نا نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ تَزَوَّجَ ابْنَةَ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ فَأَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا، فَقَالَتْ لا تُطَلِّقْنِي، وَأَمْسِكْنِي وَاقْسِمْ لِي مَا بَدَا لَكَ أَنْ تُقْسِمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا سورة النساء آية 128، فَجَرَتِ السُّنَّةُ بِأَنَّ الرَّجُلَ إِذَا كَانَتْ عِنْدَهُ امْرَأَةٌ فَكَبُرَتْ وَكَرِهَهَا، فَأَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا، فَصَالَحَتْهُ عَلَى صُلْحٍ، فَلَهُ أَنْ يُمْسِكَهَا وَيَقْسِمَ لَهَا مَا شَاءَ" .
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے محمد بن مسلمہ کی بیٹی سے نکاح کیا، پھر اسے طلاق دینا چاہی، تو عورت نے کہا: مجھے طلاق نہ دو، مجھے اپنے نکاح میں رکھو اور میرے لیے جتنا چاہو نفقہ مقرر کر دو، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا﴾، تو سنت جاری ہوگئی کہ اگر کسی شخص کے نکاح میں عورت ہو اور وہ بوڑھی ہو جائے اور شوہر اسے ناپسند کرے اور طلاق دینا چاہے، تو اگر عورت صلح کر لے تو مرد اس کو رکھ سکتا ہے اور جو چاہے اس کے لیے مقرر کرے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 701]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 701، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14848»

الحكم على الحديث: سنده ضعيف لإرساله؛ لأن سعيد بن المسيب تابعي لم يشهد الحادثة، لكن الصواب فيه أنه عن سعيد، عن رافع بن خديج كما سيأتي، وهو صحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 702 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 702
نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أُنْزِلَتْ فِي سَوْدَةَ وَأَشْبَاهِهَا: وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا سورة النساء آية 128 قَالَ:" ذَلِكَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ قَدْ أَسَنَّتْ فَفَرِقَتْ أَنْ يُفَارِقَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَضَنَّتْ بِمَكَانِهَا مِنْهُ، وَعَرَفَتْ مِنْ حُبِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ، وَمَنْزِلَتِهَا مِنْهُ، فَوَهَبَتْ يَوْمَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ عَنْهَا، فَقَبِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد عروہ رحمہما اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ یہ آیت ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا﴾ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا اور ان جیسی خواتین کے بارے میں نازل ہوئی، کیونکہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا عمر رسیدہ ہو چکی تھیں اور انہیں اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے جدا نہ ہو جائیں، اور وہ اپنے مقام کو باقی رکھنا چاہتی تھیں، نیز انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت اور ان کے مقام و مرتبہ کو جان لیا تھا، چنانچہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے اپنا دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قبول فرما لیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 702]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 702، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13566، 14853»
قال الزیلعي: مرسل، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 216)

الحكم على الحديث: سنده ضعيف لإرساله، وهو صحيح لغيره كما سيأتي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں