🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

255. الْآيَةُ (172) قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا» کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 967 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 967
نَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، قَالَ: نَا خُصَيْفٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ سورة الأعراف آية 172 قَالَ:" أَخَذَ مِنَ النَّبِيِّينَ كُلِّهِمْ قَبْلَ أَنْ يُخْلَقُوا"، قَالَ:" أَخَذَ النُّطَفَ مِنْ صُلْبِ آدَمَ , فَرَأَى مِنْهَا نُطْفَةً تَتَلأْلأُ، قَالَ: أَيْ رَبِّ، أَيُّ بَنِيَّ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ، قَالَ: أَيْ رَبِّ، كَمْ جَعَلْتَ لَهُ؟ , قَالَ: سِتِّينَ سَنَةً، قَالَ: أَقْلَلْتَ لَهُ، قَالَ: فَأَعْطِهِ مِنْ سِنِينِكَ، فَإِنِّي جَعَلْتُ لَكَ أَلْفَ سَنَةً، فَأَعْطَاهُ أَرْبَعِينَ سَنَةً، فَلَمَّا حَضَرَ أَجَلُ آدَمَ، قَالَ: رَبِّ أَلَيْسَ جَعَلْتَ لِي أَلْفَ سَنَةً، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَلَيْسَ قَدْ جَعَلْتَ مِنْ سِنِينِكَ أَرْبَعِينَ سَنَةً لِدَاوُدَ، فَعِنْدَ ذَلِكَ أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالْكِتَابِ وَالشُّهُودِ وَالْبَيِّنَةِ" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ﴾ کے بارے میں فرمایا: اللہ عزوجل نے تمام انبیاء سے ان کی پیدائش سے پہلے ہی عہد لیا۔ فرمایا: اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کی پشت سے نطفے نکالے، تو آدم علیہ السلام نے ان میں ایک چمکدار نطفہ دیکھا، کہنے لگے: اے میرے رب! یہ میرے بیٹوں میں سے کون ہے؟ اللہ عزوجل نے فرمایا: یہ تمہارا بیٹا داؤد ہے۔ آدم علیہ السلام نے کہا: اے رب! اس کے لیے کتنی عمر رکھی ہے؟ فرمایا: ساٹھ سال۔ کہا: اے رب! یہ تو تھوڑی ہے، میری عمر میں سے اسے دے دے، کیونکہ میں نے تیرے لیے ایک ہزار سال کی عمر رکھی ہے۔ تو آدم علیہ السلام نے اپنی عمر میں سے چالیس سال داؤد علیہ السلام کو عطا کر دیے۔ پھر جب آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت آیا تو کہنے لگے: اے رب! کیا تو نے میرے لیے ایک ہزار سال کی عمر نہیں رکھی تھی؟ اللہ عزوجل نے فرمایا: کیا تو نے داؤد کو اپنی عمر میں سے چالیس سال نہیں دیے تھے؟ تب اللہ عزوجل نے تحریر، گواہوں اور دلیل کا حکم جاری فرمایا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 967]
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى (مستدركه) برقم: 4194، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 967، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20582، 20583، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2306، 2757، 3588، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 2815، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 2710، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 34618، 37094»

الحكم على الحديث: سنده ضعيف لضعف خصيف بن عبد الرحمن الجزري من قبل حفظه، وقد صح مرفوعًا إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسلم - من حديث أبي هريرة رضي الله عنه كما سيأتي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 968 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 968
نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ شَيْبَةَ بْنِ نَصَّاحٍ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا خَلَقَ آدَمَ أَكْرَمَهُ كَرَامَةً لَمْ يُكْرِمْهَا أَحَدًا مِنْ خَلْقِهِ، أَرَاهُ مَنْ هُوَ كَائِنٌ مِنْ صُلْبِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِنْ يَكُنْ مِمَّا أَرَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ يَكُنْ , فَلا عَلَيْكَ أَنْ لا تَفْعَلَهُ" .
میں نے سعید بن المسیب رحمہ اللہ سے عزل یعنی جماع کے دوران منی کو باہر نکالنے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: جب اللہ عزوجل نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو ان کو ایسی عزت دی جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں دی، اور ان کو ان کی پشت سے قیامت تک پیدا ہونے والے تمام لوگوں کو دکھایا۔ پھر فرمایا: جو کچھ اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو دکھایا ہے، وہ ضرور ہو کر رہے گا، لہٰذا اگر تم عزل نہ بھی کرو تو کوئی حرج نہیں۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 968]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث: سنده فيه هشام بن سعد وتقدم الكلام عن روايته عن غير زيد بن أسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 969 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 969
نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: نَا رَبِيعَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ:" لا عَلَيْكُمُ أَنْ لا تَفْعَلُوا، إِنْ تَكُنْ مِمَّا أَخَذَ اللَّهُ مِنْهَا الْمِيثَاقَ، فَكَانَتْ عَلَى صَخْرَةٍ لَنُفِخُ فِيهَا الرُّوحُ" .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ سے عزل یعنی ہمبستری کے وقت منی کو باہر نکالنے کے بارے میں سوال کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں، اگر وہ چیز جس سے اللہ عزوجل نے میثاق لیا ہے ہو، تو اگر وہ کسی پتھر پر بھی ہو تو اللہ عزوجل اس میں روح پھونک دے گا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 969]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2229، 2542، 4138، 5210، 6603، 7409، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1438، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2206، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4191، 4193، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3327، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2170، 2171، 2172، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1138، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1926، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 969، 2217، 2218، 2219، 2220، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11237، والحميدي فى (مسنده) برقم: 763، 764، 765، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 16870، 16871، 37991، والطبراني فى (الصغير) برقم: 923»

الحكم على الحديث: سنده حسن لذاته لما تقدم عن حال عبد العزيز بن محمد، وهو صحيح لغيره لأنه قد توبع كما سيأتي، بل هو مخرج في "الصحيحين".
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں