🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. باب مِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
باب: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بزرگی کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2386 ترقیم شاملہ: -- 6179
حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ : " أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ جِئْتُ فَلَمْ أَجِدْكَ؟ قَالَ أَبِي: كَأَنَّهَا تَعْنِي الْمَوْتَ، قَالَ: فَإِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ ".
عباد بن موسیٰ نے کہا، ہمیں ابراہیم بن سعد نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے میرے والد نے محمد بن جبیر بن مطعم سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر آنا۔ وہ بولی کہ یا رسول اللہ! اگر میں آؤں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پاؤں (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو جائے تو)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو مجھے نہ پائے تو ابوبکر کے پاس آنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6179]
جبیر بن مطعم اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں، کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر آنا۔ وہ بولی کہ یا رسول اللہ! اگر میں آؤں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پاؤں (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو جائے تو)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تو مجھے نہ پائے تو ابوبکر کے پاس آنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6179]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2386
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2386 ترقیم شاملہ: -- 6180
وحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، أَنَّ أَبَاهُ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ فَأَمَرَهَا بِأَمْرٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ مُوسَى.
یعقوب بن ابراہیم نے کہا: ہمیں میرے والد نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے محمد بن جبیر بن مطعم نے خبر دی کہ انہیں ان کے والد حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور اس نے آپ سے کسی چیز کے بارے میں بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ کرنے (دوبارہ آنے) کو کہا۔ (آگے) عباد بن موسیٰ کی حدیث کے مانند (ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6180]
حضرت جبیر بن معطم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے کسی چیزکے بارے میں گفتگو کی تو آپ نے اسے کوئی حکم دیا،آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6180]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2386
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2387 ترقیم شاملہ: -- 6181
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ: " ادْعِي لِي أَبَا بَكْرٍ أَبَاكِ، وَأَخَاكِ، حَتَّى أَكْتُبَ كِتَابًا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ، وَيَقُولُ قَائِلٌ أَنَا أَوْلَى، وَيَأْبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ ".
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے (آخری) مرض کے دوران مجھ سے فرمایا: اپنے والد ابوبکر اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ایک تحریر لکھ دوں، مجھے یہ خوف ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے گا اور کہنے والا کہے گا: میں زیادہ حقدار ہوں جبکہ اللہ بھی ابوبکر کے سوا (کسی اور کی جانشینی) سے انکار فرماتا ہے اور مومن بھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6181]
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسےروایت ہے،کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا پنے(آخری) مرض کے دوران میں مجھ سے فرمایا؛"اپنے والد ابو بکر اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ایک تحریر لکھ دوں،مجھے یہ خوف ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے گا اور کہنے والا کہے گا:میں زیادہ حقدار ہوں جبکہ اللہ بھی ابو بکر کے سوا(کسی اور کی جانشینی) سے انکار فرماتا ہے اور مومن بھی۔" [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6181]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2387
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1028 ترقیم شاملہ: -- 6182
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا؟، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، قَالَ: فَمَنْ تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جَنَازَةً؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، قَالَ: فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، قَالَ: فَمَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: آج تم میں سے کس نے روزہ رکھا ہے؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج تم میں سے کون جنازے میں شامل ہوا؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج تم میں سے کس شخص نے کسی مسکین کو کھانا کھلایا؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے۔ آپ نے فرمایا: آج تم میں سے کس شخص نے کسی مریض کی عیادت کی ہے؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کسی آدمی میں یہ سب اوصاف اکٹھے ہوتے ہیں تو وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6182]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریا فت کیا:" آج تم میں سے کس نے روزہ رکھا ہے؟"حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں نے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر یا:"آج تم میں سے کون جنازے میں شامل ہوا۔؟"ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر یا:"آج تم میں سے کس شخص نے کسی مسکین کو کھا نا کھلا یا؟"حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:میں نے۔آپ نے فر یا:"آج تم میں سے کس شخص نے کسی مریض کی عیادت کی ہے۔؟حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر یا:"جس کسی آدمی میں یہ سب اوصاف اکٹھے ہو تے ہیں تو وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6182]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1028
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2388 ترقیم شاملہ: -- 6183
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أنهما سمعا أبا هريرة ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً لَهُ قَدْ حَمَلَ عَلَيْهَا الْتَفَتَتْ إِلَيْهِ الْبَقَرَةُ، فَقَالَتْ: إِنِّي لَمْ أُخْلَقْ لِهَذَا، وَلَكِنِّي إِنَّمَا خُلِقْتُ لِلْحَرْثِ، فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللَّهِ تَعَجُّبًا وَفَزَعًا أَبَقَرَةٌ تَكَلَّمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَإِنِّي أُومِنُ بِهِ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَا رَاعٍ فِي غَنَمِهِ عَدَا عَلَيْهِ الذِّئْبُ فَأَخَذَ مِنْهَا شَاةً، فَطَلَبَهُ الرَّاعِي حَتَّى اسْتَنْقَذَهَا مِنْهُ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ الذِّئْبُ، فَقَالَ لَهُ: مَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ يَوْمَ لَيْسَ لَهَا رَاعٍ غَيْرِي، فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَإِنِّي أُومِنُ بِذَلِكَ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ ".
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے سعد بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن (بن عوف) نے حدیث سنائی کہ ان دونوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص اپنی گائے کو ہانک رہا تھا، اس پر بوجھ لادا ہوا تھا۔ اس گائے نے منہ پیچھے کیا اور کہا: مجھے اس کام کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ کھیتی باڑی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ لوگوں نے تعجب اور حیرت سے کہا: سبحان اللہ! کیا گائے بولتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (کسی اور کو یقین ہو نہ ہو) میرا، ابوبکر کا اور عمر کا اس پر ایمان ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک چرواہا اپنی بکریوں میں (موجود) تھا کہ بھیڑیے نے اس پر حملہ کیا اور ایک بکری پکڑ لی، چرواہا اس کے پیچھے لگ گیا حتی کہ اس بکری کو بھیڑیے سے بچا لیا۔ اس (بھیڑیے) نے کہا: اس دن اسے کون بچائے گا جب درندوں (کے حملے) کا دن آئے گا اور میرے سوا اس کا چرواہا (مالک) کوئی نہ ہو گا؟ لوگوں نے کہا: سبحان اللہ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں اور ابوبکر اور عمر (بھی یقین رکھتے ہیں۔) [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6183]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر یا:" ایک شخص اپنی گا ئے کو ہانک رہاتھا اس پر بو جھ لادا ہوا تھا۔اس گائے نے منہ پیچھے کیا اور کہا: مجھے اس کا م کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ کھیتی باڑی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔"لوگوں نے تعجب اور حیرت سے کہا: سبحان اللہ! کیا گائے بولتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر یا:"(کسی اور کو یقین ہو نہ ہو)میرا ابو بکر کا اور عمر کا اس پر ایمان ہے۔"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر یا:" ایک چرواہااپنی بکریوں میں (مو جود)تھا کہ بھیڑیے نے اس پر حملہ کیا اور ایک بکری پکڑلی،چرواہا اس کے پیچھے لگ گیا حتی کہ اس بکری کو بھیڑیے سے بچا لیا۔اس(بھیڑیے) نے کہا: اس دن اسے کون بچا ئے گا جب درندوں (کے حملے) کا دن آئے گا اور میرے سوا اس کا چرواہا (مالک) کو ئی نہ ہو گا؟"لوگوں نے کہا: سبحان اللہ!تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر یا:"سو میں،ابوبکر،اورعمر(رضوان اللہ عنھم اجمعین)اس پر یقین رکھتے ہیں۔" [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6183]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2388
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2388 ترقیم شاملہ: -- 6184
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ قِصَّةَ الشَّاةِ وَالذِّئْبِ، وَلَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ الْبَقَرَةِ.
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ بکری اور بھیڑیے کا واقعہ بیان کیا اور گائے کا واقعہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6184]
امام صاحب کے ایک اوراستاد یہ حدیث بیان کرتے ہیں،اس میں بکری اور بھیڑیے کا واقعہ اور گائے کا واقعہ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6184]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2388
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2388 ترقیم شاملہ: -- 6185
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَفِي حَدِيثِهِمَا ذِكْرُ الْبَقَرَةِ وَالشَّاةِ مَعًا، وَقَالَا فِي حَدِيثِهِمَا: فَإِنِّي أُومِنُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ وَمَا هُمَا ثَمَّ.
سفیان بن عیینہ اور سفیان (ثوری) دونوں نے ابوزناد سے، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زہری سے یونس کی روایت کے ہم معنی روایت کی۔ ان دونوں کی حدیث میں گائے اور بکری دونوں کا ذکر ہے اور دونوں نے اپنی حدیث کے الفاظ کہے: میں اس پر یقین رکھتا ہوں اور ابوبکر اور عمر (بھی یقین رکھتے ہیں۔) اور وہ دونوں وہاں نہیں تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6185]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے،یونس کی طرح مذکورہ حدیث بیان کرتے ہیں،جس میں گائے اور بکری دونوں کا تذکرہ ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے،آپ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا:"سو میں،ابوبکر اورعمر(رضوان اللہ عنھم اجمعین) اس کو مانتے ہیں۔"اور وہ دونوں وہاں موجود نہیں تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6185]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2388
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2388 ترقیم شاملہ: -- 6186
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مِسْعَرٍ كِلَاهُمَا، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
شعبہ اور مسعر دونوں نے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6186]
یہی روایت امام صاحب اپنے اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6186]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2388
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں