🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

128. بَابُ الرَّجُلِ يَجْعَلُ أَمْرَ امْرَأَتِهِ بِيَدِهَا
باب: شوہر کا بیوی کو اپنے معاملے میں خود مختار بنانے کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1613 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2791
نا نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَقَالَ: إِنِّي جَعَلْتُ أَمْرَ امْرَأَتِي بِيَدِهَا، فَطَلَّقَتْ نَفْسَهَا ثَلاثًا، فَقَالَ عُمَرُ لِعَبْدِ اللَّهِ: مَا تَرَى؟ قَالَ:" أَرَاهَا وَاحِدَةً، وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا، قَالَ عُمَرُ: وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ" .
حضرت مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا، تو اس نے خود کو تین طلاقیں دے دیں۔ عمر نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تمہاری کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا: میں ایک طلاق سمجھتا ہوں اور شوہر اس کا زیادہ حق دار ہے۔ عمر نے فرمایا: میری بھی یہی رائے ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2791]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1613، 1614، 1639، 1640، 1649، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15131، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18379، 18391، 18397، 18398، 18402، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 5440، والطبراني فى «الكبير» برقم: 9648، 9649، 9650، 9652، 9653، 9654، 9655»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1614 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2792
نا نا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لامْرَأَتِهِ: أَمْرُكِ بِيَدِكِ فَتُطَلِّقُ نَفْسَهَا ثَلاثًا , قَالَ:" إِنَّ عُمَرَ، وَعَبْدَ اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَى أَنَّهَا وَاحِدَةٌ، وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا" .
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت علقمہ رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر مرد بیوی سے کہے کہ معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے اور وہ اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دے تو سیدنا عمر اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما دونوں کا اتفاق تھا کہ یہ ایک طلاق ہے اور شوہر اس کا زیادہ حق دار ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2792]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1613، 1614، 1639، 1640، 1649، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15131، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18379، 18391، 18397، 18398، 18402، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 5440، والطبراني فى «الكبير» برقم: 9648، 9649، 9650، 9652، 9653، 9654، 9655»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1615 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2793
نا نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي الْحَلالِ الْعَتَكِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , إِنَّ رَجُلا جَعَلَ أَمْرَ امْرَأَتِهِ بِيَدِهَا؟ قَالَ:" فَأَمْرُهَا بِيَدِهَا" .
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اے امیرالمومنین! ایک شخص نے اپنی بیوی کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو معاملہ اب اس کے ہاتھ میں ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2793]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن موقوف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1615، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11902، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18381»

الحكم على الحديث: إسناده حسن موقوف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1616 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2794
نا نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي الْحَلالِ الْعَتَكِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، قَالَ فِي أَمْرُكِ بِيَدِكِ:" الْقَضَاءُ مَا قَضَتْ" .
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «امرك بيدك» (تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے) کا فیصلہ وہی ہے جو عورت نے کر لیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2794]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن موقوف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1616، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18382»

الحكم على الحديث: إسناده حسن موقوف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1617 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2795
نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فِي رَجُلٍ جَعَلَ أَمْرَ امْرَأَتِهِ بِيَدِهَا، فَرَدَّتْ إِلَيْهِ الأَمْرَ , قَالَ:" لَيْسَ بِشَيْءٍ، الْقَضَاءُ مَا قَضَتْ" .
سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر کسی مرد نے اپنی بیوی کو معاملہ سونپا اور بیوی نے معاملہ مرد کی طرف لوٹا دیا تو فرمایا: یہ کچھ نہیں، فیصلہ وہی ہے جو عورت نے کیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2795]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1617، 1618، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11903، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18386»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1618 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2796
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " الْقَضَاءُ مَا قَضَتْ" .
سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ فرماتے تھے: فیصلہ وہی ہے جو عورت نے کیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2796]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1617، 1618، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11903، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18386»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1619 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2797
نا نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " الْقَضَاءُ مَا قَضَتْ" .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ فرماتے تھے: فیصلہ وہی ہے جو عورت نے کیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2797]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح موقوف، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 2033، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1619، 1620، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15146، 20786، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11905، 11906، 11909، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18384، 18388»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح موقوف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1620 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2798
نا نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " إِذَا جَعَلَ الرَّجُلُ أَمْرَ امْرَأَتِهِ بِيَدِهَا فَطَلَّقَتْ نَفْسَهَا وَاحِدَةً فَهِيَ وَاحِدَةٌ، أَوِ اثْنَيْنِ فَثِنْتَيْنِ، أَوْ ثَلاثًا فَثَلاثٌ، إِلا أَنْ يُنَاكِرَهَا , وَيَقُولُ: لَمْ أَجْعَلِ الأَمْرَ إِلَيْكِ إِلا فِي وَاحِدَةٍ فَيَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ، وَإِنْ رَدَّتِ الأَمْرَ فَلَيْسَ بِشَيْءٍ، وَكَانَ يَقُولُ: الْقَضَاءُ مَا قَضَتْ" .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب مرد اپنی بیوی کو اختیار دے دے اور وہ ایک طلاق دے تو ایک ہی طلاق ہو گی، دو دے تو دو اور تین دے تو تین، الا یہ کہ مرد انکار کرے اور کہے کہ میں نے صرف ایک طلاق کا اختیار دیا تھا، تو پھر قسم اٹھائے، اور اگر عورت معاملہ لوٹا دے تو کچھ نہیں۔ اور وہ فرماتے تھے: فیصلہ وہی ہے جو عورت نے کیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2798]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح موقوف، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 2033، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1619، 1620، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15146، 20786، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11905، 11906، 11909، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18384، 18388»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح موقوف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1621 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2799
نا نا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: " إِذَا خَيَّرَ امْرَأَتَهُ فَطَلَّقَتْ نَفْسَهَا ثَلاثًا فَهِيَ وَاحِدَةٌ" .
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: جب مرد اپنی بیوی کو اختیار دے اور بیوی تین طلاقیں دے دے تو یہ ایک ہی طلاق شمار ہو گی۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2799]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح موقوف، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 2036، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1621، 1648، 1651، 1652، 1653، 1661،والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15143، 15144، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18380، 18402، 18404، 18405، 36952»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح موقوف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1622 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2800
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: إِذَا خَيَّرَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَلَمْ تَقُلْ شَيْئًا حَتَّى يَفْتَرِقَا , قَالَ:" سُكُوتُهَا رِضًى بِزَوْجِهَا، لَيْسَ لَهَا أَنْ تَخْتَارَ كُلَّمَا شَاءَتْ" .
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ فرمایا: اگر مرد بیوی کو اختیار دے اور بیوی خاموش رہے یہاں تک کہ دونوں جدا ہو جائیں تو اس کا سکوت اس کے شوہر پر رضامندی ہے، اب ہر وقت اختیار نہیں رکھے گی۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2800]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1622، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18419، 18436»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں