🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

149. بَابُ مَا يَقَعُ لَهُ إِيلَاءُ الْيَمِينِ
باب: وہ صورتیں جن میں شوہر کی قسم ایلاء (جماع سے روکنے کی قسم) شمار ہوتی ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1919 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3096
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ:" كَانَ لا يَرَى الإِيلاءَ إِلا بِيَمِينٍ" .
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ایلاء صرف قسم کے ساتھ معتبر ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3096]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، و «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1920 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3097
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لامْرَأَتِهِ، وَانْطَلَقَتْ إِلَى أَهْلِهَا مُغَاضِبَةً: وَاللَّهِ لا آتِيكِ حَتَّى تَأْتِينِي، قَالَ: إِنْ مَضَتِ الأَرْبَعَةُ الأَشْهُرِ، فَلا إِيلاءَ عَلَيْهِ" .
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر مرد بیوی سے کہے: اللہ کی قسم میں تیرے پاس نہ آؤں گا جب تک تو نہ آ جائے، اور عورت ناراض ہو کر چلی جائے، تو چار ماہ گزرنے پر ایلاء نہیں ہو گا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3097]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1921 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3098
نا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، قَالَ: أنا خُصَيْفٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فِي الرَّجُلِ يَغْضَبُ عَلَى امْرَأَتِهِ فَلا يَقْرَبُهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ، قَالَ: " لا يَقَعُ عَلَيْهِ إِيلاءٌ إِلا أَنْ يَكُونَ حَلَفَ، أَوْ قَالَ: لا أَقْرَبُكِ، وَمَا كَانَ مِنْ غَضَبٍ مِنْ قِبَلِ الْمَرْأَةِ فَإِنَّهُ لا يَقَعُ فِيهِ الإِيلاءُ" .
حضرت سعید بن جبير رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اگر کوئی شخص بیوی پر غصہ کرے اور چار مہینے تک اس کے قریب نہ جائے، تو ایلاء واقع نہیں ہوتا، جب تک کہ قسم نہ کھائے یا صاف کہہ دے کہ میں تیرے قریب نہیں آؤں گا، اور اگر عورت کی جانب سے غصہ ہو تو ایلاء نہیں ہوتا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3098]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1921، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11622، 11623»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1922 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3099
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لامْرَأَتِهِ، وَاللَّهِ لا أَقْرَبُهَا اللَّيْلَةَ، فَتَرَكَهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ، قَالَ: إِنْ تَرَكَهَا لِيَمِينِهِ فَهُوَ إِيلاءٌ" .
حضرت حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اگر کسی مرد نے اپنی بیوی سے کہا: اللہ کی قسم میں آج رات تیرے پاس نہیں آؤں گا۔ اور پھر اسے چار مہینے چھوڑ دیا، تو اگر وہ اپنی قسم کی وجہ سے چھوڑے تو یہ ایلاء ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3099]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1922، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18645، 18647»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1923 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3100
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِيمَنْ آلَى، ثُمَّ طَلَّقَ قَالَ: " يَهْدِمُ الطَّلاقُ الإِيلاءَ" .
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جس شخص نے ایلاء کیا اور پھر طلاق دے دی تو طلاق ایلاء کو ختم کر دیتی ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3100]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1923، 1924، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11696، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18939، 18943، 18944»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1924 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3101
نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: " الطَّلاقُ يَهْدِمُ الإِيلاءَ" ، وَقَالَ الشَّعْبِيُّ:" يَسْتَبِقَانِ كَأَنَّهُمَا فَرَسَا رِهَانٍ".
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ طلاق ایلاء کو ختم کر دیتی ہے، اور حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا کہ دونوں ایک دوسرے پر سبقت کرتے ہیں جیسے دو دوڑنے والے گھوڑے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3101]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1923، 1924، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11696، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18939، 18943، 18944»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1925 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3102
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " يَهْدِمُ الطَّلاقُ الإِيلاءَ، وَلَكِنَّهُمَا كَفَرَسَيْ رِهَانٍ، فَأَيُّهُمَا سَبَقَ أُخِذَ بِهِ، وَإِنْ وَقَفَا جَمِيعًا أُخِذَ بِهِمَا" .
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ طلاق ایلاء کو ختم کر دیتی ہے، مگر وہ دونوں ایسے ہیں جیسے دو گھوڑے مقابلے میں ہوں، جو پہلے پہنچے اس پر عمل ہو گا، اور اگر دونوں ایک ساتھ ہوں تو دونوں کا اعتبار ہو گا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3102]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1925، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11696، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18940»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1926 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3103
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مِثْلَ قَوْلِ الشَّعْبِيِّ.
حضرت حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ بھی حضرت شعبی رحمہ اللہ کی طرح فرماتے تھے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3103]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1926، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18941»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1927 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3104
نا نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جَرِيحٍ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: " إِذَا آلَى ثُمَّ طَلَّقَ فَهُمَا كَفَرَسَيْ رِهَانٍ" .
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اگر کوئی شخص ایلاء کرے پھر طلاق دے تو یہ دونوں ایسے ہیں جیسے دو دوڑتے گھوڑے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3104]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1927، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11697»
وضاحت: وضآحت: إسماعیل بن عیاش: اگر اپنے شامی شیوخ سے روایت کریں تو ثقہ، لیکن جب غیر شامی (یعنی مکی، عراقی) سے روایت کریں، تو ضعیف قرار دیے جاتے ہیں۔
ابن جریج: ثقہ، مگر مدلس ہیں، اور یہاں عن سے روایت ہے۔
عمن حدثه: یہ مجہول راوی ہے، اس کا تعیین نہیں ہے۔
? لہٰذا سند میں دو علتیں ہیں:
إسماعیل بن عیاش کا غیر شامی راوی سے روایت کرنا۔
ابن جریج کا عنعنہ اور مجہول راوی۔

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1928 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3105
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كَانَ يَقُولُ" يَسْتَبِقَانِ"، وَابْنُ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ: يَهْدِمُ الطَّلاقُ الإِيلاءَ قَالَ هُشَيْمٌ: الْقَوْلُ عَلَى مَا قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: دونوں سبقت کرتے ہیں۔ اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: طلاق ایلاء کو ختم کر دیتی ہے۔ اور ہشیم نے کہا: قول اسی پر ہے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3105]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1928، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18945»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں