سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
165. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَرْأَةِ تُسْلِمُ قَبْلَ زَوْجِهَا
باب: اُس عورت کا بیان جو اپنے شوہر سے پہلے مسلمان ہو جائے۔
ترقیم دار السلفیہ: 2107 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3284
نا هُشَيْمٌ ، أنا دَاوُدُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَدَّ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ، حَيْثُ أَسْلَمَ بَعْدَ إِسْلامِ زَيْنَبَ، فَرَدَّهَا عَلَيْهِ بِالنِّكَاحِ الأَوَّلِ" .
سیدنا رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم نے زینب رضی اللہ عنہا کو ابو العاص بن ربیع کے پاس پہلے نکاح پر واپس کر دیا جب اس نے اسلام قبول کر لیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3284]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2107، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 37294»
وضاحت: فائدہ:
✅ 1. اسلام قبول کرنے سے نکاح فوراً نہیں ٹوٹتا: اگر عورت اسلام لائے اور شوہر بعد میں مسلمان ہو جائے اور عدت کے دوران یا بعد میں اسلام لائے تو نکاح کو باقی رکھا جا سکتا ہے، بشرطیکہ: زوجین کی رضامندی ہو عورت کی عدت نہ گزر چکی ہو (بعض فقہاء کے ہاں)
✅ 2. "بالنکاح الأول" کا مفہوم: نیا عقد نہیں کیا گیا پہلا عقد ہی قائم رکھا گیا گویا اسلام لانے سے نکاح منفسخ نہیں ہوا، بلکہ معلق رہا، اس روایت سے احناف اور اہلِ حدیث کے مؤقف کو تقویت ملتی ہے۔
✅ 1. اسلام قبول کرنے سے نکاح فوراً نہیں ٹوٹتا: اگر عورت اسلام لائے اور شوہر بعد میں مسلمان ہو جائے اور عدت کے دوران یا بعد میں اسلام لائے تو نکاح کو باقی رکھا جا سکتا ہے، بشرطیکہ: زوجین کی رضامندی ہو عورت کی عدت نہ گزر چکی ہو (بعض فقہاء کے ہاں)
✅ 2. "بالنکاح الأول" کا مفہوم: نیا عقد نہیں کیا گیا پہلا عقد ہی قائم رکھا گیا گویا اسلام لانے سے نکاح منفسخ نہیں ہوا، بلکہ معلق رہا، اس روایت سے احناف اور اہلِ حدیث کے مؤقف کو تقویت ملتی ہے۔
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 2108 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3285
نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَحْتَ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ فَأَسْلَمَتْ قَبْلَهُ وَأُسِرَ، فَجِيءَ بِهِ أَسِيرًا فِي قَيْدٍ فَأَسْلَمَ،" فَكَانَا عَلَى نِكَاحِهِمَا" .
سیدنا عمرو بن دینار رحمہ اللہ نے کہا: ”زینب رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کیا اور ابو العاص قید ہو کر آیا اور اسلام لایا تو دونوں کا نکاح برقرار رہا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3285]
تخریج الحدیث: «مرسل، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
وضاحت: فائدہ: حدیث 2108 دراصل حدیث 2107 کی مؤید اور مزید واضح روایت ہے، جس میں سیدہ زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے شوہر ابو العاص بن الربیع کے اسلام قبول کرنے کے بعد نکاح کے برقرار رہنے کو بطور تاریخی و سیرتی واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ یہ روایت اسلامی فقہ میں اختلاف دین کی حالت میں نکاح کے احکام کا نہایت اہم استدلالی ذریعہ ہے۔
یہ روایت سنداً صحیح ہے، اور سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر مبنی واضح عملی مثال ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ: عورت اگر پہلے اسلام لائے اور شوہر بعد میں تو پہلا نکاح برقرار رہ سکتا ہے نیا نکاح یا مہر کی تجدید لازم نہیں، بشرطیکہ عورت دوسرے نکاح میں داخل نہ ہو۔
یہ روایت سنداً صحیح ہے، اور سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر مبنی واضح عملی مثال ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ: عورت اگر پہلے اسلام لائے اور شوہر بعد میں تو پہلا نکاح برقرار رہ سکتا ہے نیا نکاح یا مہر کی تجدید لازم نہیں، بشرطیکہ عورت دوسرے نکاح میں داخل نہ ہو۔
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 2109 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3286
نا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، نا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَدَّ زَيْنَبَ ابْنَتَهُ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بِنِكَاحٍ أَحْدَثَهُ" .
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نے اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم نے زینب رضی اللہ عنہا کو ابو العاص بن ربیع کے پاس نئے نکاح کے ساتھ واپس کیا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3286]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 6758، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1142، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2010، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2109، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14180، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3625، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7057، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12648، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 5264، والطبراني فى «الكبير» برقم: 456»
قال ابن عبدالبر: حجاج بن أرطاة لا يحتج بحديثه، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 208)
قال ابن عبدالبر: حجاج بن أرطاة لا يحتج بحديثه، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 208)
وضاحت: وضاحت: اس روایت میں دو باتیں قابلِ غور ہیں: یہ پچھلی دو روایات (2107 و 2108) سے مخالفت رکھتی ہے: وہاں نکاح پہلا ہی باقی رکھا گیا یہاں نیا نکاح کرایا گیا بتایا گیا۔ یہ روایت سنداً ضعیف ہے (بسبب حجاج بن أرطاة) اور پہلے سے صحیح سند کے ساتھ ثابت روایات کے مخالف بھی ہے اس لیے اسے راجح نہیں مانا جائے گا
راجح یہی ہے کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو ابو العاص کے اسلام لانے کے بعد بغیر نئے نکاح کے واپس کیا — پہلے نکاح کو ہی بحال رکھا۔
راجح یہی ہے کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو ابو العاص کے اسلام لانے کے بعد بغیر نئے نکاح کے واپس کیا — پہلے نکاح کو ہی بحال رکھا۔
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم دار السلفیہ: 2110 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3287
نا هُشَيْمٌ، نا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ: " لَمَّا انْصَرَفَ السَّبْعُونَ مِنَ الأَنْصَارِ مِنَ الْعَقَبَةِ، وَقَدْ أَسْلَمُوا، فَلَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ دَعَوْا نِسَاءَهُمْ إِلَى الإِسْلامِ، فَأَجَابُوهُمْ وَأَسْلَمْنَ، فَكَانُوا عَلَى نِكَاحِهِمُ الأَوَّلِ" .
ابو حبیرہ انصاری رحمہ اللہ نے کہا: ”جب عقبہ کے ستر انصاری مسلمان ہو کر مدینہ لوٹے تو اپنی عورتوں کو اسلام کی دعوت دی، وہ ایمان لے آئیں اور نکاح سابقہ برقرار رہا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3287]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، و «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
قال ابن حجر: اشعث بن سوار "فيه لين"
أبو هبيرة الأنصاري: مجہول الحال
قال ابن حجر: اشعث بن سوار "فيه لين"
أبو هبيرة الأنصاري: مجہول الحال
وضاحت: فائدہ: سند میں اشعث بن سوار اور ابو ہبیرہ کی وجہ سے ضعف موجود ہے لہٰذا یہ روایت سنداً ضعیف ہے مگر چونکہ یہ معروف اور متعدد صحیح روایات کی مؤید ہے، اس لیے قابل استشہاد ہے۔
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف