🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

278. بَابُ مَا أَحْرَزَهُ الْمُشْرِكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ يُفِيئُهُ اللَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ
باب: جو مال مشرکین مسلمانوں سے چھین لیں پھر اللہ مسلمانوں کو واپس دلوا دے
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2797 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3973
نا نا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، أَبَقَ غُلامٌ لَهُ، فَأَتَى الْعَدُوَّ، فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَرُدَّ عَلَيْهِ، وَاقْتَحَمَ بِهِ فَرَسُهُ فِي جَرْفٍ، فَأَتَى الْعَدُوَّ، فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَرُدَّ عَلَيْهِ" .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نے بھاگ کر دشمن کے پاس پناہ لی، پھر مسلمان غالب آ گئے، اور وہ غلام واپس کر دیا گیا، اور اس کے ساتھ گھوڑا ایک گڑھے میں گرا، پھر بھی واپس ملا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3973]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3068، 3069، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1146، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4845، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2698، 2699، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2847، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2797، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18313، 18314، 18315، 18316، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9353، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 34037، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 5288»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2798 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3974
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي السِّلاحِ، أَوِ الْعَبْدِ، أَوِ الْمَتَاعِ، يُصِيبُهُ الْعَدُوُّ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ يُفِيئُهُ اللَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَيُقِيمُ الرَّجُلُ الْبَيِّنَةَ عَلَى الشَّيْءِ، قَالَ:" إِنْ أَدْرَكَهُ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ فَهُوَ رَدٌّ عَلَيْهِ، وَإِنْ قُسِمَ فَلا شَيْءَ لَهُ وَصَارَ فِي غَنِيمَةِ الْمُسْلِمِينَ" .
عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر دشمن مسلمانوں کا اسلحہ، غلام یا مال لے جائے، پھر اللہ مسلمانوں کو غالب کر دے، اور آدمی اپنے مال پر گواہی دے، تو اگر تقسیم سے پہلے مل جائے تو واپس کر دیا جائے، اگر تقسیم ہو چکی ہو تو مالِ غنیمت میں شامل ہو جاتا ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3974]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2799 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3975
نا نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ ، كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِيمَا أَحْرَزَ الْمُشْرِكُونَ، ثُمَّ ظَهَرَ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِمْ بَعْدُ، قَالَ: " مَنْ وَجَدَ مَالَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ يُقْسَمْ" .
رجاء بن حیوہ رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا، کہ اگر کسی مشرک نے کسی مسلمان کا مال قبضے میں لے لیا ہو، اور پھر مسلمان غالب آ جائیں، تو جو شخص اپنا مال بعینہ پائے، وہ اس کا حق دار ہے جب تک مال تقسیم نہ ہو۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3975]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2799، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18322، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4199، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9354، 9359، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 34032، 34033، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 5284، 5285، 5290»
روي عن الشعبي عن عمر وعن رجاء بن حيوة عن عمر مرسلا وكلاهما لم يدرك عمر ولا قارب ذلك، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 434)

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2800 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3976
نا نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: " إِذَا أَصَابَ الْمُشْرِكُونَ شَيْئًا لأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ ظُهِرَ عَلَيْهِمْ، فَهُوَ لِصَاحِبِهِ مَا لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا قُسِمَ فَلا حَقَّ لَهُ فِيهِ" .
سلمان بن ربیعہ رحمہ اللہ نے فرمایا: جب مشرکین مسلمانوں کا کوئی مال لے لیں، پھر مسلمان غالب آئیں، تو اگر مال تقسیم سے پہلے مل جائے تو مالک کا ہے، اور اگر تقسیم ہو جائے، تو اس میں اس کا کوئی حق نہیں۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3976]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2800، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 34038»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2801 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3977
نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، مِثْلَهُ.
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر کسی مسلمان کا مال دشمن نے لیا ہو، اور مسلمان غالب آ جائیں، تو مال اگر تقسیم سے پہلے مل جائے تو مالک کو واپس ملتا ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3977]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2801، 2802، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 34041، 34044»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2802 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3978
نا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: " إِذَا أَسَرَ الْعَدُوُّ مَمْلُوكًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَظَفِرَ الْمُسْلِمُونَ، فَأَصَابُوا الْمَمْلُوكَ، قَالَ: إِنْ وَجَدَهُ مَوْلاهُ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ فِي الْقَسْمِ فَمَوْلاهُ أَحَقُّ بِهِ" .
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر دشمن نے مسلمان کا غلام پکڑ لیا ہو، پھر مسلمان غالب آئیں، تو اگر تقسیم سے پہلے اس کا مالک آ جائے، تو وہ غلام اس کا حق ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3978]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2801، 2802، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 34041، 34044»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2803 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3979
نا نا عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: نا أَبُو حَرِيزٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: أَعَانَ أَهْلُ مَاهَ أَهْلَ جَلُولاءَ عَلَى الْعَرَبِ، وَأَصَابُوا سَبَايَا مِنْ سَبَايَا الْعَرَبِ، وَرَقِيقًا، وَمَتَاعًا، ثُمَّ إِنَّ السَّائِبَ بْنَ الأَقْرَعِ عَامِلَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ غَزَاهُمْ، فَفَتَحَ مَاهَ، فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ فِي سَبَايَا الْمُسْلِمِينَ وَرَقِيقِهِمْ، وَمَتَاعِهِمْ قَدِ اشْتَرَاهُ التُّجَّارُ مِنْ أَهْلِ مَاهَ، وَفِي رَجُلٍ أَصَابَ كَنْزًا بِأَرْضٍ بَيْضَاءَ، فَكَتَبَ عُمَرُ :" أَنَّ الْمُسْلِمَ أَخُو الْمُسْلِمِ لا يَخُونُهُ وَلا يَخْذُلُهُ، فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَصَابَ رَقِيقَهُ وَمَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ، وَإِنْ أَصَابَهُ فِي أَيْدِي التُّجَّارِ بَعْدَمَا اقْتُسِمَ فَلا سَبِيلَ إِلَيْهِ، وَأَيُّمَا حُرٍّ اشْتَرَاهُ التُّجَّارُ فَإِنَّهُ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ رُءُوسُ أَمْوَالِهِمْ، وَأَنَّ الْحُرَّ لا يُبَاعُ وَلا يُشْتَرَى، وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَصَابَ كَنْزًا عَادِيًا قَبْلَ أَنْ تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا، فَإِنَّهُ يُؤْخَذُ مِنْهُ خُمُسُهُ وَسَائِرُهُ بَيْنَهُمْ، وَهُوَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، وَإِنْ أَصَابَهُ بَعْدَ مَا وَضَعَتِ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا فَخُذْ خُمُسَهُ وَسَائِرُهُ لَهُ خَاصَّةً" .
شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: اہلِ ماہ نے عربوں پر حملہ کیا، ان کے غلام اور سامان کو قیدی بنایا، پھر سیدنا سائب بن الاقرع نے ان پر حملہ کیا، اور عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جو مسلمان اپنا مال بعینہ پائے، وہ اس کا زیادہ حق دار ہے، اگر تاجروں کے ہاتھ سے بعد تقسیم ملے تو کوئی حق نہیں، اور جو تاجر کسی آزاد مسلمان کو خریدے، تو ان کی رقم لوٹائی جائے، کیونکہ آزاد آدمی نہ بیچا جا سکتا ہے اور نہ خریدا، اور جو مال جنگ ختم ہونے سے پہلے حاصل ہو، اس کا خمس نکالا جائے، اور باقی مال تقسیم ہو، اور جو مال جنگ کے بعد حاصل ہو، وہ مالک کا ہوگا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3979]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف۔ وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2803، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18324»
قال إبن حجر: أبو حريز عبد الله بن الحسين الكوفيضعيف، أبو حريز صدوق يخطئ الشعبي نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے قول نقل کیا، مگر سماع کی صراحت نہیں کی۔

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف ۔ وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں