صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
7. ذكر وصف المصطفى صلى الله عليه وسلم موسى وعيسى وإبراهيم صلوات الله عليهم حيث رآهم ليلة أسري به-
- اس کیفیت کا ذکر کہ نبی کریم ﷺ نے معراج کی رات حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور حضرت ابراہیم علیہم السلام کو جس حالت میں دیکھا۔
حدیث نمبر: 51
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي لَقِيتُ مُوسَى رَجِلَ الرَّأْسِ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَلَقِيتُ عِيسَى، فَرَجُلٌ أَحْمَرُ، كَأَنَّهُ خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ يَعْنِي مِنْ حَمَّامٍ وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيَمَ وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِهِ بِهِ، فَأُتِيتُ بِآنَاءَيْنِ: أَحَدُهُمَا خَمْرٌ، وَالآخَرُ لَبَنٌ، فَقِيلَ لِي: خُذْ أَيَّهُمَا شَئْتَ، فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ، فَقِيلَ لِي: هُدِيتَ الْفطْرَةِ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس رات مجھے معراج کروائی گئی، میری ملاقات سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے ہوئی، وہ ایک ایسے فرد تھے جن کے بال گھنگھریالے نہیں تھے، یوں لگتا تھا جیسے ان کا تعلق شنوءہ قبیلے سے ہو (یعنی وہ لمبے قد کے آدمی تھے)۔ میری ملاقات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے ہوئی، تو وہ سرخ رنگ کے مالک شخص تھے، یوں جیسے وہ ابھی حمام سے باہر آئے ہوں (یعنی ان کا جسم اور بال وغیرہ بھیگے ہوئے تھے)۔ میں نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو ان کی اولاد میں، میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھتا ہوں۔ میرے پاس دو برتن لائے گئے، جن میں ایک میں شراب تھی اور دوسرے میں دودھ تھا۔ مجھ سے کہا گیا: آپ ان دونوں میں سے جسے چاہیں پی لیں، میں نے دودھ کو لے لیا، تو مجھ سے کہا گیا: آپ کی فطرت کی طرف رہنمائی کی گئی ہے، اگر آپ شراب لے لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِسْرَاءِ/حدیث: 51]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3394، 3437، 4709، 5576، 5603، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 168، 168، 168، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 51، 52، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5673، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5147، 7592، 7596، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3130، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2133، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17425، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7904، 10797، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1920، والبزار فى (مسنده) برقم: 7727»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح. إسحاق بن إبراهيم: هو ابن عباد الصنعاني البربري، راوية عبد الرزاق، سمع تصانيفه في سنة عشر ومئتين باعتناء أبيه به، وكان حدثاً، وهو صدوق، مترجم في "السير" 13/"203"، وباقي السند على شرطهما.