صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
34. باب فَضَائِلِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
باب: سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2485 ترقیم شاملہ: -- 6384
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ كُلُّهُمْ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ عُمَرَ مَرَّ بِحَسَّانَ وَهُوَ يُنْشِدُ الشِّعْرَ فِي الْمَسْجِدِ فَلَحَظَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: قَدْ كُنْتُ أُنْشِدُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَجِبْ عَنِّي اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ، قَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ ".
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے سعید (بن مسیب) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے (معلوم ہوا کہ اشعار جو اسلام کی تعریف اور کافروں کی برائی یا جہاد کی ترغیب میں ہو مسجد میں پڑھنا درست ہے)۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف (غصہ سے) دیکھا۔ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تو مسجد میں (اس وقت بھی) شعر پڑھتا تھا جب تم سے بہتر شخص (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) موجود تھے۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اے حسان! میری طرف سے جواب دے، اے اللہ اس کی روح القدس (جبرائیل علیہ السلام) سے مدد کر۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں میں نے سنا ہے یا اللہ تو جانتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6384]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف (غصہ سے) دیکھا۔ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تو مسجد میں (اس وقت بھی) شعر پڑھتا تھا جب تم سے بہتر شخص (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) موجود تھے۔ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ” «أَجِبْ عَنِّي، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ» ”اے حسان! میری طرف سے جواب دے، اے اللہ! اس کی روح القدس (جبرائیل علیہ السلام) سے مدد کر۔“”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، میں نے سنا ہے، یا اللہ! تو جانتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6384]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2485
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2485 ترقیم شاملہ: -- 6385
حَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ : أَنَّ حَسَّانَ ، قَالَ فِي حَلْقَةٍ فِيهِمْ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
معمر نے زہری سے، انہوں نے ابن مسیب سے روایت کی کہ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے ایک حلقے میں کہا جس میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ موجود تھے: ابوہریرہ! میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا؟ اس کے بعد اس کے مانند یوں بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6385]
حضرت ابن المسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے اس مجلس میں جس میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ موجود تھے، کہا: ”میں تم سے اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اللہ کے نام سے سوال کرتا ہوں، کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے؟“ آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6385]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2485
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2485 ترقیم شاملہ: -- 6386
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيَّ يَسْتَشْهِدُ أَبَا هُرَيْرَةَ : أَنْشُدُكَ اللَّهَ، هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: يَا حَسَّانُ، أَجِبْ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: نَعَمْ ".
زہری نے کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے بتایا کہ انہوں نے حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے گواہی طلب کر رہے تھے، (کہہ رہے تھے:) میں تمہارے سامنے اللہ کا نام لیتا ہوں! کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ”حسان! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جواب دو۔ اے اللہ! روح القدس کے ذریعے سے اس کی تائید فرما!“؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6386]
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے گواہی طلب کر رہے تھے: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”اے حسان! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جواب دے، «اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ» ”اے اللہ! اس کی روح القدس سے تائید فرما۔““ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6386]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2485
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2486 ترقیم شاملہ: -- 6387
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ: " اهْجُهُمْ أَوْ هَاجِهِمْ وَجِبْرِيلُ مَعَكَ ".
معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء بن عاذب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ان (کافروں) کی ہجو کرو، یا (فرمایا:) ہجو میں ان کا مقابلہ کرو، جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6387]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے سنا: ”ان کی ہجو یا مذمت کرو، جبریل بھی تیرے ساتھ ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6387]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2486
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2486 ترقیم شاملہ: -- 6388
حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ كلهم، عَنْ شُعْبَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
محمد بن جعفر غندر اور عبدالرحمان (بن مہدی) دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6388]
امام صاحب یہ روایت اپنے تین اور اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6388]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2486
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2487 ترقیم شاملہ: -- 6389
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ : " أَنَّ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ كَانَ مِمَّنْ كَثَّرَ عَلَى عَائِشَةَ فَسَبَبْتُهُ، فَقَالَتْ: يَا ابْنَ أُخْتِي دَعْهُ، فَإِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
ابواسامہ نے ہشام (بن عروہ) سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق بہت کچھ کہا تھا (تہمت لگانے والوں کے ساتھ شامل ہو گئے تھے)، میں نے ان کو برا بھلا کہا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”بھتیجے! ان کو کچھ نہ کہو، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کافروں کو جواب دیتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6389]
حضرت ہشام رحمہ اللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق بہت کچھ کہا تھا، میں نے ان کو برا بھلا کہا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: بھتیجے! ان کو کچھ نہ کہو، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کافروں کو جواب دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6389]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2487
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2487 ترقیم شاملہ: -- 6390
حَدَّثَنَاه عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
عبدہ نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6390]
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6390]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2487
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2488 ترقیم شاملہ: -- 6391
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: " دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ وَعِنْدَهَا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ، يُنْشِدُهَا شِعْرًا يُشَبِّبُ بِأَبْيَاتٍ لَهُ، فَقَالَ: حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ : لَكِنَّكَ لَسْتَ كَذَلِكَ، قَالَ مَسْرُوقٌ: فَقُلْتُ لَهَا: لِمَ تَأْذَنِينَ لَهُ يَدْخُلُ عَلَيْكِ وَقَدْ، قَالَ اللَّهُ: وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ سورة النور آية 11، فَقَالَتْ: فَأَيُّ عَذَابٍ أَشَدُّ مِنَ الْعَمَى؟ إِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ أَوْ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد بن جعفر نے شعبہ سے، انہوں نے سلیمان سے، انہوں نے ابوضحیٰ سے، انہوں نے مسروق سے روایت کی، کہا: کہ میں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تو ان کے پاس سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ بیٹھے اپنی غزل میں سے ایک شعر سنا رہے تھے جو چند بیتوں کی انہوں نے کہی تھی۔ وہ شعر یہ ہے: ”پاک ہیں اور عقل والی ان پہ کچھ تہمت نہیں۔ صبح کو اٹھتی ہیں بھوکی غافلوں کے گوشت سے“ (یعنی کسی کی غیبت نہیں کرتیں کیونکہ غیبت کرنا گویا اس کا گوشت کھانا ہے)۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا حسان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ لیکن تو ایسا نہیں ہے (یعنی تو لوگوں کی غیبت کرتا ہے)۔ مسروق نے کہا کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ حسان رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس کیوں آنے دیتی ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی شان میں فرمایا ہے کہ ”وہ شخص جس نے ان میں سے بڑی بات (یعنی ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے) کا بیڑا اٹھایا اس کے واسطے بڑا عذاب ہے۔“ (حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں شریک تھے جنہوں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حد لگائی)۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اس سے زیادہ عذاب کیا ہو گا کہ وہ نابینا ہو گیا ہے اور کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کافروں کی جوابدہی کرتا تھا یا ہجو کرتا تھا۔ (اس لیے اس کو اپنے پاس آنے کی اجازت دیتی ہوں) [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6391]
امام مسروق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے پاس حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ انہیں اپنا شعر سنا رہے تھے، اپنے شعروں کے آغاز میں انہوں نے شعر کہا: «حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَىٰ مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ» ”پاکدامن، عقلمند اور متین ہیں، ان پر کسی عیب کی الزام تراشی نہیں کی جا سکتی، وہ غافل عورتوں کی گوشت خوری سے بھوکی رہتی ہیں۔“ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں کہا: لیکن آپ تو ایسے نہیں ہیں، (غیبت کرتے ہیں)۔ مسروق کہتے ہیں، میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ اسے اپنے پاس آنے کی اجازت کیوں دیتی ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَالَّذِي تَوَلَّىٰ كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ [سورة النور: 11] ”ان میں سے جس نے اس میں (افک میں) زیادہ حصہ لیا، اس کے لیے بہت بڑا عذاب ہے“ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: اندھے ہونے سے بڑھ کر عذاب کون سا ہے؟ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتے تھے، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کافروں کی ہجو کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6391]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2488
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2488 ترقیم شاملہ: -- 6392
حَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: قَالَتْ: كَانَ يَذُبُّ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ حَصَانٌ رَزَانٌ.
ابن ابی عدی نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مدافعت کرتے تھے، انہوں نے (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مدح والا شعر) ”وہ پاکیزہ ہیں، عقل مند ہیں“ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6392]
امام صاحب یہ روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، اس میں «يُنَافِحُ» کی جگہ «يَذُبُّ» (دفاع کرنا ہے) اور «حَصَانٌ رَزَانٌ» (پاکدامن، عقلمند) کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6392]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2488
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2489 ترقیم شاملہ: -- 6393
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا يَحْيَي بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ حَسَّانُ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي فِي أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: كَيْفَ بِقَرَابَتِي مِنْهُ؟ قَالَ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لَأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعْرَةُ مِنَ الْخَمِيرِ، فَقَالَ حَسَّانُ: وَإِنَّ سَنَامَ الْمَجْدِ مِنْ آلِ هَاشِمٍ بَنُو بِنْتِ مَخْزُومٍ وَوَالِدُكَ الْعَبْدُ، قَصِيدَتَهُ هَذِهِ.
یحییٰ بن زکریا نے ہمیں ہشام بن عروہ سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! مجھے ابوسفیان (مغیرہ بن حارث بن عبدالمطلب) کی ہجو کرنے کی اجازت دیجیے، آپ نے فرمایا: ”اس کے ساتھ میری جو قرابت ہے اس کا کیا ہوگا؟“ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت عطا فرمائی! میں آپ کو ان میں سے اس طرح باہر نکال لوں گا جس طرح خمیر سے بال کو نکال لیا جاتا ہے، پھر حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے یہ قصیدہ کہا: اور آل ہاشم میں سے عظمت و مجد کی چوٹی پر وہ ہیں جو بنت مخزوم (فاطمہ بنت عمرو بن عابد بن عمران بن مخزوم) کی اولاد ہیں (ابوطالب، عبداللہ اور زبیر) اور تیرا باپ تو غلام (کنیز کا بیٹا) تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6393]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے ابوسفیان کے بارے میں اجازت دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے ساتھ جو میری رشتہ داری ہے، اس کا کیا کرو گے؟“ اس نے کہا: اس ذات کی قسم، جس نے آپ کو عزت بخشی، میں آپ کو ان سے اس طرح نکال لوں گا، جس طرح گندھے ہوئے آٹے سے بال نکال لیا جاتا ہے، پھر حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے یہ قصیدہ کہا، جس کا آغاز یوں ہے: بزرگی اور شرافت، آل ہاشم سے مخزوم کی اولاد کو حاصل ہے اور تیرا باپ تو غلام ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6393]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2489
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة