🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. باب الفطرة - ذكر إثبات الألف بين الأشياء الثلاثة التي ذكرناها-
فطرت کا بیان - اس بیان کا ذکر جس میں ان تین چیزوں کے درمیان الف (الفِ وصل) ثابت کرنے کا بیان ہے جن کا ہم نے ذکر کیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 129
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سُهِيَلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، أَوْ يُنَصِّرَانِهِ، أَوْ يُمَجِّسَانِهِ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفطْرَةِ" أَرَادَ بِهِ: عَلَى الْفطْرَةِ الَّتِي فَطَرَهُ الِلَّهِ عَلَيْهَا جَلَّ وَعَلا يَوْمَ أَخْرَجَهُمْ مِنْ صُلْبِ آدَمَ، لِقَوْلِهِ جَلَّ وَعَلا: فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ سورة الروم آية 30، يَقُولُ: لا تَبْدِيلَ لِتِلْكَ الْخِلْقَةِ الَّتِي خَلَقَهُمْ لَهَا، إِمَّا لِجَنَّةٍ، وَإِمَّا لِنَارٍ، حَيْثُ أَخْرَجَهُمْ مِنْ صُلْبِ آدَمَ، فَقَالَ: هَؤُلاءِ لِلْجَنَّةِ، وَهَؤُلاءِ لِلنَّارِ، أَلا تَرَى أَنَّ غُلامَ الْخَضِرِ قَالَ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" طَبَعَهُ الِلَّهِ يَوْمَ طَبَعَهُ كَافِرًا" وَهُوَ بَيْنَ أَبَوَيْنِ مُؤْمِنَيْنِ، فَأَعْلَمَ الِلَّهِ ذَلِكَ عَبْدَهُ الْخَضِرَ وَلَمْ يُعْلِمْ ذَلِكَ كَلِيمَهُ مُوسَى صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى مَا ذَكَرْنَا فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے: وہ اس فطرت پر پیدا ہوتا ہے جو فطرت اللہ تعالیٰ نے اس دن مقرر کی تھی، جب ان لوگوں کو سیدنا آدم علیہ السلام کی پشت سے نکالا تھا۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ﴾ [سورة الروم: 30] اللہ کی (مقرر کردہ) وہ فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ وہ یہ فرماتا ہے: اس خلقت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، جس کے لیے اس نے ان لوگوں کو پیدا کیا ہے، خواہ وہ جنت کے لیے ہو، خواہ وہ جہنم کے لیے ہو، اس وقت جب اس نے انہیں سیدنا آدم علیہ السلام کی پشت سے باہر نکالا تھا، اور یہ فرمایا تھا: یہ لوگ جنت کے لیے ہیں اور یہ لوگ جہنم کے لیے ہیں۔ کیا آپ نے غور نہیں کیا: سیدنا خضر علیہ السلام نے جس لڑکے کو قتل کر دیا تھا اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا: اللہ تعالیٰ نے اسے فطری طور پر کافر بنایا تھا۔ حالانکہ وہ مومن ماں باپ کے درمیان تھا، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے سیدنا خضر علیہ السلام کو اس بارے میں علم دیا، حالانکہ اس نے اپنے کلیم سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو اس بارے میں علم نہیں دیا۔ جیسا کہ ہم اپنی کتابوں میں دیگر مقامات پر اس کی وضاحت کر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 129]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1358، 1359، 1384، 1385، 4775، 6598، 6599، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2658، 2658، ومالك فى (الموطأ) برقم: 823، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 128، 129، 130، 131، 133، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1948،، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4714، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2138، 2138 م، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7302، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1143، 1146»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں