صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
52. باب فَضْلِ الصَّحَابَةِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ:
باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تابعین اور تبع تابعین رحمها اللہ کی فضیلت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2532 ترقیم شاملہ: -- 6467
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرًا يُخْبِرُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: فِيكُمْ مَنْ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: فِيكُمْ مَنْ رَأَى مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ رَأَى مَنْ صَحِبَ مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ ".
عمرو (بن دینار) نے حضرت جابر (بن عبداللہ رضی اللہ عنہ) سے سنا، وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے خبر دیتے تھے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک زمانہ آئے گا کہ آدمیوں کے جھنڈ جہاد کریں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ کوئی تم میں سے وہ شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو؟ تو وہ لوگ کہیں گے کہ ہاں! تو ان کی فتح ہو جائے گی۔ پھر لوگوں کے گروہ جہاد کریں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ تم میں سے کوئی وہ ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کو دیکھا ہو (یعنی تابعین میں سے کوئی ہے؟) لوگ کہیں گے کہ ہاں! پھر ان کی فتح ہو جائے گی۔ پھر آدمیوں کے لشکر جہاد کریں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ تم میں سے کوئی وہ ہے جس نے صحابی کے دیکھنے والے کو دیکھا ہو (یعنی تبع تابعین میں سے)؟ تو لوگ کہیں گے کہ ہاں۔ پھر ان کی فتح ہو جائے گی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6467]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:" ایک زمانہ آئے گا کہ آدمیوں کے جھنڈ جہاد کریں گے تو ان سے پوچھیں گے کہ کوئی تم میں سے وہ شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو؟ تو وہ لوگ کہیں گے کہ ہاں! تو ان کی فتح ہو جائے گی۔ پھر لوگوں سے کچھ گروہ جہاد کے لیے نکلیں گے تو تو ان سے پوچھا جائے گا،کیا تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو دیکھنے والی شخصیت موجود ہے؟تو وہ جواب دیں گے،ہاں،سو انہیں فتح مل جائےگی،پھر کچھ لوگ جہاد کے لیے نکلیں گے،ان سے پوچھاجائےگا،کیا تم میں رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھیوں کو دیکھنے والوں کو دیکھنے والی شخصیت موجود ہے؟سو وہ کہیں گے،ہاں تو انہیں فتح نصیب ہوگی۔" [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6467]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2532
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2532 ترقیم شاملہ: -- 6468
حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: زَعَمَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُبْعَثُ مِنْهُمُ الْبَعْثُ، فَيَقُولُونَ: انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ فِيكُمْ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُوجَدُ الرَّجُلُ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ، ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّانِي، فَيَقُولُونَ: هَلْ فِيهِمْ مَنْ رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ، ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّالِثُ، فَيُقَالُ: انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ مَنْ رَأَى مَنْ رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ثُمَّ يَكُونُ الْبَعْثُ الرَّابِعُ، فَيُقَالُ: انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ أَحَدًا رَأَى مَنْ رَأَى أَحَدًا رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُوجَدُ الرَّجُلُ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو یقین تھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں سے کوئی لشکر بھیجا جائے گا تو لوگ کہیں گے: دیکھو، کیا تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کوئی فرد ہے؟ تو ایک شخص مل جائے گا، چنانچہ اس کی وجہ سے انہیں فتح مل جائے گی، پھر ایک اور لشکر بھیجا جائے گا تو لوگ (آپس میں) کہیں گے: کیا ان میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھا ہو؟ تو انہیں اس (شخص) کی بنا پر فتح حاصل ہو جائے گی، پھر تیسرا لشکر بھیجا جائے گا تو کہا جائے گا: دیکھو، کیا ان میں کوئی ایسا دیکھتے ہو جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھنے والوں کو دیکھا ہو؟ پھر چوتھا لشکر بھیجا جائے گا تو کہا جائے گا: دیکھو، کیا ان میں کوئی ایسا شخص دیکھتے ہو جس نے کسی ایسے آدمی کو دیکھا ہو جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھنے والوں میں سے کسی کو دیکھا ہو؟ تو وہ آدمی مل جائے گا اور اس کی وجہ سے انہیں فتح مل جائے گی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6468]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں سے کوئی لشکر بھیجاجائے گا تو لوگ کہیں گے:دیکھو،کیا تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کوئی فرد ہے؟تو ایک شخص مل جائے گا،چنانچہ اس کی وجہ سے انھیں فتح مل جائے گی،پھر ایک اور لشکر بھیجا جائے گا تو لوگ(آپس میں) کہیں گے:کیا ان میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھا ہو؟تو انھیں اس(شخص) کی بنا پر فتح حاصل ہوجائےگی،پھر تیسرا لشکر بھیجاجائے گا تو کہا جائے گا:دیکھو،کیا ان میں کوئی ایسا دیکھتے ہو جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھنے والوں کو دیکھا ہو؟پھر چوتھا لشکر بھیجاجائے گاتو کہا جائے گا:دیکھو،کیا ان میں کوئی ایسا شخص دیکھتے ہو جس نے کسی ایسے آدمی کو دیکھا ہو جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھنے والوں میں سے کسی کو دیکھا ہو؟تو وہ آدمی مل جائے گا اور اس کی وجہ سے انھیں فتح مل جائے گی۔" [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6468]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2532
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2533 ترقیم شاملہ: -- 6469
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِينَ يَلُونِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ "، لَمْ يَذْكُرْ هَنَّادٌ: الْقَرْنَ، فِي حَدِيثِهِ، وقَالَ قُتَيْبَةُ: ثُمَّ يَجِيءُ أَقْوَامٌ.
قتیبہ بن سعید اور ہناد بن سری نے کہا: ہمیں ابواحوص نے منصور سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابراہیم بن یزید سے، انہوں نے عبیدہ سلیمانی سے، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے بہترین اس دور کے لوگ ہیں جو میرے ساتھ ہیں (صحابہ)، پھر وہ ہیں جو ان کے ساتھ (کے دور میں) ہوں گے (تابعین)، پھر وہ جو ان کے ساتھ (کے دور میں) ہوں گے (تبع تابعین)، پھر ایسے لوگ آئیں گے کہ ان کی گواہی ان کی قسم سے پہلے ہو گی اور ان کی قسم ان کی گواہی سے پہلے ہو گی۔“ ہناد نے اپنی حدیث میں قرن (دور) کا ذکر نہیں کیا۔ اور قتیبہ نے کہا: ”پھر ایسی اقوام آئیں گی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6469]
حضرت عبداللہ(بن مسعود) رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میری اُمت کا بہترین گروہ وہ ہے جو مجھ سے متصل ہے،پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہوں گے،پھر وہ لوگ جو ان سے متصل ہوں گے،پھر ایسے لوگ آئیں گے،جو قسم سے پہلے شہادت دیں گے اور شہادت سے پہلے قسم۔"ہناد نے اپنی روایت میں قرن کالفظ بیان نہیں کیا اور قتیبہ کی روایت میں،قوم کی جگہ اقوام کا لفظ ہے۔قرن ایک دور کاطبقہ یاگروہ یاجماعت۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6469]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2533
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2533 ترقیم شاملہ: -- 6470
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَبْدُرُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ، وَتَبْدُرُ يَمِينُهُ شَهَادَتَهُ "، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: كَانُوا يَنْهَوْنَنَا وَنَحْنُ غِلْمَانٌ عَنِ الْعَهْدِ وَالشَّهَادَاتِ.
جریر نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: لوگوں میں سب سے بہتر کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”میرے دور کے لوگ پھر وہ جو ان کے ساتھ (کے دور میں) ہوں گے، پھر وہ جو ان کے ساتھ ہوں گے، پھر ایک ایسی قوم آئے گی کہ ان کی شہادت ان کی قسم سے جلدی ہو گی اور ان کی قسم ان کی شہادت سے جلدی ہو گی۔“ ابراہیم (نخعی) نے کہا: جس وقت ہم کم عمر تھے (تو بڑی عمر کے) لوگ ہمیں قسم کھانے اور شہادت دینے سے منع کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6470]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا:لوگوں میں سب سے بہتر کون ہیں؟آپ نے فرمایا:"میرے دور کے لوگ پھر وہ جو ان کے ساتھ(کے دور میں) ہوں گے،پھر وہ جو ان کے ساتھ ہوں گے،پھر ایک ایسی قوم آئے گی کہ ان کی شہادت ان کی قسم سے جلدی ہوگی اور ان کی قسم انکی شہادت سے جلدی ہوگی۔"ابراہیم(نخعی) نے کہا:جس وقت ہم کم عمر تھے(تو بڑی عمرکے) لوگ ہمیں قسم کھانے اور شہادت دینے سے منع کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6470]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2533
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2533 ترقیم شاملہ: -- 6471
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِإِسْنَادِ أَبِي الْأَحْوَصِ، وَجَرِيرٍ، بِمَعْنَى حَدِيثِهِمَا، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
شعبہ اور سفیان دونوں نے منصور سے ابواحوص اور جریر کی سند کے ساتھ انہی دونوں کی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی، دونوں کی حدیث میں ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا“ (کے الفاظ) نہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6471]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سےمذکورہ بالا روایت کے ہم معنی روایت بیان کرتےہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6471]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2533
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2533 ترقیم شاملہ: -- 6472
وحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، فَلَا أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ، أَوْ فِي الرَّابِعَةِ، قَالَ: ثُمَّ يَتَخَلَّفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ، وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ ".
ابن عون نے ابراہیم سے، انہوں نے عبیدہ سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”لوگوں میں سے بہترین میرے دور کے لوگ (صحابہ رضی اللہ عنہم) ہیں، پھر وہ جو ان کے ساتھ (کے دور کے) ہوں گے (تابعین)، پھر وہ جو ان کے ساتھ (کے دور کے) ہوں گے (تبع تابعین)۔“ (عبیدہ سلیمانی نے کہا:) مجھے یاد نہیں (کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) تیسری بار کہا یا چوتھی بار: ”پھر ان کے جانشین ایسے لوگ ہوں گے کہ ان میں سے کسی ایک کی گواہی قسم سے پہلے ہو گی اور اس کی قسم اس کی گواہی سے پہلے ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6472]
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں،آپ نے فرمایا:"بہترین لوگ میرے ساتھی ہیں،پھر جو ان سے ملے ہوں گے،پھر جو ان سے ملے ہوں گے،"مجھے معلوم نہیں ہے،آپ نے یہ تیسری دفعہ فرمایا،یاچوتھی دفعہ،"پھر ان کے بعد ناخلف لوگ نائب ہوں گے،ان کی شہادت قسم سے سبقت لے جائےگی اور ان کی قسم،شہادت سے پہلے ہوگی۔" [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6472]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2533
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2534 ترقیم شاملہ: -- 6473
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ . ح وحَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا، قَالَ: ثُمَّ يَخْلُفُ قَوْمٌ يُحِبُّونَ السَّمَانَةَ يَشْهَدُونَ قَبْلَ أَنْ يُسْتَشْهَدُوا ".
ہشیم نے ابوبشر سے، انہوں نے عبداللہ بن شقیق سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے بہترین لوگ اس زمانے کے ہیں جن میں میری بعثت ہوئی ہے، پھر وہ لوگ ہیں جو ان کے ساتھ (کے دور کے) ہیں۔“ اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ آپ نے تیسرے زمانے کا ذکر کیا تھا یا نہیں، فرمایا: ”پھر ایک ایسی قوم آئے گی جو موٹا ہونا پسند کریں گے، وہ شہادت طلب کیے جانے سے پہلے شہادت دیں گے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6473]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میری امت کے بہترین لوگ اس زمانے کے ہیں جن میں میری بعثت ہوئی ہے،پھر وہ لوگ ہیں جو ان کے ساتھ(کے دور کے) ہیں۔"اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ آپ نے تیسرے زمانے کا ذکر کیاتھا یا نہیں،فرمایا؛" پھر ایک ایسی قوم آئے گی جو موٹا ہونا پسند کریں گے،وہ شہادت طلب کیے جانے سے پہلے شہادت دیں گے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6473]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2534
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2534 ترقیم شاملہ: -- 6474
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَلَا أَدْرِي مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً.
شعبہ اور ابوعوانہ دونوں نے ابوبشر سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی، مگر شعبہ کی حدیث میں ہے: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نہیں جانتا (کہ آپ نے) دو بار (کہا) یا تین بار۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6474]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت اپنےمختلف اساتذہ کی سندوں سےبیان کرتے ہیں،صرف شعبہ کی روایت میں یہ ہے،ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں،مجھے معلوم نہیں،آپ نے دو دفعہ ذکر کیا،یا تین دفعہ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6474]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2534
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2535 ترقیم شاملہ: -- 6475
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا، عَنْ غُنْدَرٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ ، حَدَّثَنِي زَهْدَمُ بْنُ مُضَرِّبٍ ، سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ خَيْرَكُمْ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ "، قَالَ عِمْرَانُ: فَلَا أَدْرِي، أَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَعْدَ قَرْنِهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، ثُمَّ يَكُونُ بَعْدَهُمْ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ، وَيَنْذِرُونَ وَلَا يُوفُونَ وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ابوجمرہ سے سنا، انہوں نے کہا: مجھے زہدم بن مضرب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سب سے اچھے میرے دور کے لوگ ہیں، پھر وہ جو ان کے ساتھ ہیں، پھر وہ جو ان کے ساتھ ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے ساتھ ہیں۔“ حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے یاد نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور کے بعد دو بار فرمایا یا تین بار؟ (پھر آپ نے فرمایا:) ”پھر ان کے بعد وہ لوگ ہوں گے کہ وہ گواہی دیں گے جبکہ ان سے گواہی مطلوب نہیں ہو گی اور خیانت کریں گے جبکہ ان کو امانت دار نہیں بنایا جائے گا (جس مال کی ذمہ داری ان کے پاس نہیں ہو گی اس میں بھی خیانت کے راستے نکالیں گے)، وہ نذر مانیں گے لیکن اپنی نذریں پوری نہیں کریں گے اور ان میں موٹاپا ظاہر ہو جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6475]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تم میں سب سے اچھے میرے دور کے لوگ ہیں،پھر وہ جو ان کے ساتھ ہیں۔پھر وہ جو ان کے ساتھ ہیں،پھر وہ لوگ جو ان کے ساتھ ہیں،"حضرت عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:مجھے یاد نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور کے بعد دوبار فرمایا یا تین بار؟(پھر آپ نے فرمایا:)"پھر ان کے بعد وہ لوگ ہوں گے کہ وہ گواہی دیں گے جبکہ ان سے گواہی مطلوب نہیں ہوگی اورخیانت کریں جبکہ ان کو امانت دار نہیں بنایا جائے گا(جس مال کی ذمہ داری ان کے پاس نہیں ہوگی اس میں بھی خیانت کے راستے نکالیں گے)،وہ نذر مانیں گے لیکن اپنی نذریں پوری نہیں کریں گے اور ان میں موٹاپا ظاہر ہوجائے گا۔" [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6475]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2535
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2535 ترقیم شاملہ: -- 6476
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ كُلُّهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِمْ، قَالَ: لَا أَدْرِي أَذَكَرَ بَعْدَ قَرْنِهِ قَرْنَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، وَفِي حَدِيثِ شَبَابَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ زَهْدَمَ بْنَ مُضَرِّبٍ، وَجَاءَنِي فِي حَاجَةٍ عَلَى فَرَسٍ، فَحَدَّثَنِي أَنَّهُ سَمِعَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، وَفِي حَدِيثِ يَحْيَي، وَشَبَابَةَ: يَنْذُرُونَ وَلَا يَفُونَ، وَفِي حَدِيثِ بَهْزٍ: يُوفُونَ كَمَا، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ.
یحییٰ بن سعید، بہز اور شبابہ سب نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور ان سب کی حدیث میں ہے (حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے) کہا: مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے کے بعد دو زمانوں کا ذکر کیا یا تین کا، شبابہ کی حدیث میں ہے کہ (ابوجمرہ نے) کہا: میں نے زہدم بن مضرب سے سنا، وہ گھوڑے پر سوار ہو کر میرے پاس ایک کام کے لیے آئے تھے، انہوں نے مجھے حدیث سنائی کہ انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سنا، نیز یحییٰ (بن سعید) اور شبابہ کی حدیث میں ہے: ”وہ نذریں مانیں گے لیکن وفا نہیں کریں گے۔“ اور بہز کی حدیث میں اسی طرح ہے جس طرح ابن جعفر کی حدیث میں ہے: ”وہ (اپنی نذریں) پوری نہیں کریں گے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6476]
امام صاحب یہی روایت اپنے تین اساتذہ کی سندوں سے شعبہ ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں،اس حدیث میں ہے،میں نہیں جانتا،آپ نے اپنی قرن کے بعد دو قرنوں(جماعتوں) کاتذکرہ فرمایا یا تین کا،شبابہ کہتے ہیں،میں نے یہ حدیث زہدم بن مضرب سے سنی،جبکہ وہ ایک ضرورت کے تحت گھوڑے پر سوار ہوکرآیاتھا،یحییٰ اور شبابہ کی روایت میں ہے،"وہ نذر مانیں گے اورپوری نہیں کریں گے اور بہز کی روایت میں "يَفُونَ"کی جگہ "يُوفَونَ" ہے جیسا کہ ابن جعفر کی روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6476]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2535
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة