صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
25. باب مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سَبَّهُ أَوْ دَعَا عَلَيْهِ وَلَيْسَ هُوَ أَهْلاً لِذَلِكَ كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً:
باب: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اور وہ لعنت کے لائق نہ تھا تو اس پر رحمت ہو گی۔
ترقیم عبدالباقی: 2601 ترقیم شاملہ: -- 6624
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي اتَّخَذْتُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ، فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ، فَاجْعَلْ ذَلِكَ كَفَّارَةً لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ابن شہاب کے بھتیجے نے اپنے چچا سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ (دعا کرتے ہوئے) فرما رہے تھے: ”اے اللہ! میں نے تیرے حضور پختہ عہد لیا ہے جس میں تو میرے ساتھ ہرگز خلاف ورزی نہیں فرمائے گا کہ کوئی بھی مومن جسے میں نے تکلیف پہنچائی ہو یا اسے برا بھلا کہا ہو یا اسے کوڑے سے مارا ہو، اسے تو قیامت کے دن اس کے لیے (گناہوں کا) کفارہ بنا دینا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6624]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: «اللَّهُمَّ إِنِّي اتَّخَذْتُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ، فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ، أَوْ جَلَدْتُهُ، فَاجْعَلْ ذَلِكَ لَهُ كَفَّارَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ”اے اللہ! میں نے تجھ سے عہد لیا جس کی تو میرے ساتھ خلاف ورزی نہیں فرمائے گا، جس مومن کو میں نے برا کہا ہے، یا اسے کوڑے لگائے ہیں، اس کو اس کے لیے قیامت کے دن کفارہ بنا دیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6624]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2601
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2602 ترقیم شاملہ: -- 6625
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، أَيُّ عَبْدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا ".
حجاج بن محمد نے کہا: ابن جریج نے کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا، آپ فرماتے تھے: ”میں ایک بشر ہی ہوں اور میں نے اپنے رب عزوجل سے یہ عہد لیا ہے کہ میں مسلمانوں میں سے جس بندے کو سب و شتم کروں تو یہ سب کچھ اس کے لیے پاکیزگی اور اجر (کا سبب) بن جائے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6625]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”میں بشر ہی تو ہوں اور میں نے اپنے رب عزوجل کے ساتھ یہ طے کیا ہے کہ جس مسلمان بندے کو میں برا بھلا کہوں، یا اس سے سخت کلامی کروں، یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی اور اجر بنے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6625]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2602
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2602 ترقیم شاملہ: -- 6626
حَدَّثَنِيهِ ابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ . ح وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
روح اور ابوعاصم دونوں نے ہمیں ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6626]
یہی روایت امام صاحب دو اور سندوں سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6626]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2602
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2603 ترقیم شاملہ: -- 6627
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: " كَانَتْ عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ يَتِيمَةٌ وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ، فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَتِيمَةَ، فَقَالَ: آنْتِ هِيَهْ لَقَدْ كَبِرْتِ لَا كَبِرَ سِنُّكِ، فَرَجَعَتِ الْيَتِيمَةُ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تَبْكِي، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: مَا لَكِ يَا بُنَيَّةُ؟ قَالَتْ: الْجَارِيَةُ دَعَا عَلَيَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَكْبَرَ سِنِّي، فَالْآنَ لَا يَكْبَرُ سِنِّي أَبَدًا، أَوْ قَالَتْ: قَرْنِي فَخَرَجَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مُسْتَعْجِلَةً تَلُوثُ خِمَارَهَا حَتَّى لَقِيَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟ فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَدَعَوْتَ عَلَى يَتِيمَتِي، قَالَ: وَمَا ذَاكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، قَالَتْ: زَعَمَتْ أَنَّكَ دَعَوْتَ أَنْ لَا يَكْبَرَ سِنُّهَا وَلَا يَكْبَرَ قَرْنُهَا، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ أَمَا تَعْلَمِينَ أَنَّ شَرْطِي عَلَى رَبِّي أَنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي، فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَرْضَى كَمَا يَرْضَى الْبَشَرُ، وَأَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ، فَأَيُّمَا أَحَدٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ مِنْ أُمَّتِي بِدَعْوَةٍ لَيْسَ لَهَا بِأَهْلٍ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ طَهُورًا، وَزَكَاةً، وَقُرْبَةً يُقَرِّبُهُ بِهَا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، وقَالَ أَبُو مَعْنٍ: يُتَيِّمَةٌ بِالتَّصْغِيرِ فِي الْمَوَاضِعِ الثَّلَاثَةِ مِنَ الْحَدِيثِ.
زہیر بن حرب اور ابومعن رقاشی نے ہمیں حدیث بیان کی۔ الفاظ زہیر کے ہیں۔ دونوں نے کہا: ہمیں عمر بن یونس نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عکرمہ بن عمار نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں اسحاق بن ابی طلحہ نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس ایک یتیم لڑکی تھی اور یہی (ام سلیم رضی اللہ عنہا) ام انس بھی کہلاتی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا تو فرمایا: ”تو وہی لڑکی ہے، تو بڑی ہو گئی ہے! تیری عمر (اس تیزی سے) بڑی نہ ہو۔“ وہ لڑکی روتی ہوئی واپس حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے پوچھا: بیٹی! تجھے کیا ہوا؟ اس نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے خلاف دعا فرمایا ہے کہ میری عمر زیادہ نہ ہو، اب میری عمر کسی صورت زیادہ نہ ہو گی، یا کہا: اب میرا زمانہ ہرگز زیادہ نہیں ہو گا، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا جلدی سے دوپٹہ لپیٹتے ہوئے نکلیں، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”ام سلیم! کیا بات ہے؟“ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے نبی! کیا آپ نے میری (پالی ہوئی) یتیم لڑکی کے خلاف دعا کی ہے؟ آپ نے پوچھا: ”یہ کیا بات ہے؟“ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ کہتی ہے: آپ نے دعا فرمائی ہے کہ اس کی عمر زیادہ نہ ہو، اور اس کا زمانہ لمبا نہ ہو، (حضرت انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے، پھر فرمایا: ”ام سلیم! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے اپنے رب سے پختہ عہد لیا ہے، میں نے کہا: میں ایک بشر ہی ہوں، جس طرح ایک بشر خوش ہوتا ہے، میں بھی خوش ہوتا ہوں اور جس طرح بشر ناراض ہوتے ہیں میں بھی ناراض ہوتا ہوں۔ تو میری امت میں سے کوئی بھی آدمی جس کے خلاف میں نے دعا کی اور وہ اس کا مستحق نہ تھا تو اس دعا کو قیامت کے دن اس کے لیے پاکیزگی، گناہوں سے صفائی اور ایسی قربت بنا دے جس کے ذریعے سے تو اسے اپنے قریب فرما لے۔“ ابومعن نے کہا: حدیث میں تینوں جگہ (یتیمہ کے بجائے) تصغیر کے ساتھ یتیمۃ (چھوٹی سی یتیم بچی کا لفظ) ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6627]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اُم سلیم رضی اللہ عنہا، جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں، کے پاس ایک یتیم بچی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یتیم بچی کو دیکھا تو فرمایا: ”تو وہی ہے (اتنی جلد جوان ہو گئی)؟ تو بڑی ہو گئی ہے، «لَا كَبِرَ سِنُّكِ» ”تیری عمر بڑی نہ ہو۔““ چنانچہ وہ یتیم بچی روتی ہوئی اُم سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس آئی تو اُم سلیم رضی اللہ عنہا نے پوچھا: تجھے کیا ہوا اے بیٹی؟ بچی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے خلاف دعا کی ہے کہ میری عمر بڑی نہ ہو، اس لیے اب کبھی میری عمر زیادہ نہیں ہو گی (یا کہا: میرا دور زیادہ نہ ہو گا)۔ چنانچہ حضرت اُم سلیم رضی اللہ عنہا جلدی جلدی اپنا دوپٹہ لپیٹتی ہوئی نکلیں حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”اے اُم سلیم! تمہیں کیا ہوا؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ نے میری یتیم بچی کے خلاف بددعا فرمائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا واقعہ ہے؟ اے اُم سلیم!“ انہوں نے عرض کیا: بچی کا گمان ہے کہ آپ نے دعا فرمائی ہے کہ اس کی عمر نہ بڑھے اور اس کا دور یا عہد زیادہ نہ ہو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے، پھر فرمایا: ”اے اُم سلیم! کیا تجھے معلوم نہیں ہے؟ میری اپنے رب کے ساتھ شرط ہے، میں نے اپنے رب سے عہد کیا ہے، میں نے عرض کیا: میں بشر ہی تو ہوں، جس طرح بشر راضی ہوتا ہے میں راضی ہوتا ہوں اور جس طرح بشر غصے میں آ جاتا ہے میں غصے میں آ جاتا ہوں، تو جس کے خلاف بھی میں اپنی امت میں سے ایسی دعا کروں جس کا وہ مستحق نہیں ہے، تو اسے اس کے لیے طہارت، پاکیزگی اور ایسی قربت بنا دے جس کے سبب تو اسے قیامت کے دن اپنا تقرب بخشے۔“ ابو معن کی روایت میں «يَتِيمَة» کا لفظ تینوں جگہ مصغر ہے یعنی «يُتَيْمَة» ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6627]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2603
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2604 ترقیم شاملہ: -- 6628
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الْقَصَّابِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " كُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَوَارَيْتُ خَلْفَ بَابٍ، قَالَ: فَجَاءَ فَحَطَأَنِي حَطْأَةً، وَقَالَ: اذْهَبْ وَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ: فَجِئْتُ، فَقُلْتُ: هُوَ يَأْكُلُ، قَالَ، ثُمَّ قَالَ لِيَ: اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ: فَجِئْتُ، فَقُلْتُ: هُوَ يَأْكُلُ، فَقَالَ: لَا أَشْبَعَ اللَّهُ بَطْنَهُ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: قُلْتُ لِأُمَيَّةَ: مَا حَطَأَنِي؟ قَالَ: قَفَدَنِي قَفْدَةً ".
محمد بن مثنیٰ عنزی اور ابن بشار نے ہمیں حدیث بیان کی۔ الفاظ ابن مثنیٰ کے ہیں۔ دونوں نے کہا: ہمیں امیہ بن خالد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابوحمزہ قصاب سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا، کہا: آپ آئے اور میرے دونوں شانوں کے درمیان اپنے کھلے ہاتھ سے ہلکی سی ضرب لگائی (مقصود پیار کا اظہار تھا) اور فرمایا: ”جاؤ، میرے لیے معاویہ کو بلا لاؤ۔“ میں نے آپ سے آ کر کہا: وہ کھانا کھا رہے ہیں۔ آپ نے دوبارہ مجھ سے فرمایا: ”جاؤ، معاویہ کو بلا لاؤ۔“ میں نے پھر آ کر کہا: وہ کھانا کھا رہے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6628]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر میرے کندھوں کے درمیان پیار سے تھپکی دی اور فرمایا: ”جاؤ اور میرے لیے معاویہ کو بلا لو۔“ تو میں نے آکر کہا: وہ کھانا کھا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور میری خاطر معاویہ کو بلا لاؤ۔“ تو میں نے واپس آکر کہا: وہ کھانا کھا رہا ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے۔“ ابن مثنیٰ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے استاد امیہ سے پوچھا: «حَطَأَنِي» کا کیا معنی ہے؟ اس نے کہا: «قَفَدَنِي قَفْدَةً» یعنی گدی پر دھول ماری۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6628]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2604
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2604 ترقیم شاملہ: -- 6629
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: كُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتَبَأْتُ مِنْهُ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
نضر بن شمیل نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوحمزہ نے خبر دی کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے: میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو میں آپ سے چھپ گیا۔ آگے اسی (سابقہ حدیث) کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6629]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور میں آپ سے چھپ گیا، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6629]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2604
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة