صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
7. باب الدُّخَانِ:
باب: دھوئیں کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2798 ترقیم شاملہ: -- 7066
أخبرنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ جُلُوسًا وَهُوَ مُضْطَجِعٌ بَيْنَنَا، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ: إِنَّ قَاصًّا عِنْدَ أَبْوَابِ كِنْدَةَ يَقُصُّ وَيَزْعُمُ أَنَّ آيَةَ الدُّخَانِ تَجِيءُ، فَتَأْخُذُ بِأَنْفَاسِ الْكُفَّارِ وَيَأْخُذُ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَجَلَسَ وَهُوَ غَضْبَانُ: يَا أَيَّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّهَ مَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ شَيْئًا، فَلْيَقُلْ بِمَا يَعْلَمُ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُ أَعْلَمُ، فَإِنَّهُ أَعْلَمُ لِأَحَدِكُمْ، أَنْ يَقُولَ: لِمَا لَا يَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ سورة ص آية 86 إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى مِنَ النَّاسِ إِدْبَارًا، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ سَبْعٌ كَسَبْعِ يُوسُفَ "، قَالَ: فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى أَكَلُوا الْجُلُودَ وَالْمَيْتَةَ مِنَ الْجُوعِ، وَيَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ أَحَدُهُمْ، فَيَرَى كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ، فَأَتَاهُ أَبُو سُفْيَانَ، فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ: إِنَّكَ جِئْتَ تَأْمُرُ بِطَاعَةِ اللَّهِ وَبِصِلَةِ الرَّحِمِ، وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ {10} يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ {11} سورة الدخان آية 10-11 إِلَى قَوْلِهِ إِنَّكُمْ عَائِدُونَ سورة الدخان آية 15 قَالَ أَفَيُكْشَفُ عَذَابُ الْآخِرَةِ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ سورة الدخان آية 16 فَالْبَطْشَةُ يَوْمَ بَدْرٍ، وَقَدْ مَضَتْ آيَةُ الدُّخَانِ وَالْبَطْشَةُ وَاللِّزَامُ وَآيَةُ الرُّومِ ".
منصور نے ابوضحیٰ (مسلم بن صحیح) سے، انہوں نے مسروق سے روایت کی، کہا: ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ہمارے درمیان (اپنے بستر یا بچھونے پر) لیٹے ہوئے تھے تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا: ابوعبدالرحمان! ابواب کندہ (کوفہ کا ایک محلہ) میں ایک قصہ گو (واعظ) آیا ہوا ہے، وہ وعظ کر رہا ہے اور یہ کہتا ہے کہ دھوئیں والی (اللہ کی) نشانی آئے گی اور (یہ دھواں) کافروں کی روحیں قبض کر لے گا اور مومنوں کو یہ زکام جیسی کیفیت سے دو چار کرے گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اور وہ غصے کے عالم میں اٹھ کر بیٹھ گئے، لوگو! اللہ سے ڈرو، تم میں سے جو شخص کوئی چیز جانتا ہو، وہ اتنی ہی بیان کرے جتنی جانتا ہو اور جو نہیں جانتا، وہ کہے: اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ بے شک وہ (اللہ تعالیٰ) تم میں سے اس کو (بھی) زیادہ جاننے والا ہے۔ جو اس بات کے بارے میں جو وہ نہیں جانتا، یہ کہتا ہے: اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ اللہ عزوجل نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: «قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ» ”کہہ دیجیے: میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ ہی بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کی دین سے روگردانی دیکھی تو آپ نے (دعا کرتے ہوئے) فرمایا: «اَللَّهُمَّ سَبْعًا كَسَبْعِ يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَام» ”اے اللہ! (ان پر) یوسف علیہ السلام کے سات سالوں جیسے سات سال (بھیج دے۔)“ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو انہیں (قحط کے) ایک سال نے آ لیا جس نے ہر چیز کا صاف کرایا، یہاں تک کہ ان (مشرک) لوگوں نے بھوک سے چمڑے اور مردار تک کھائے۔ ان میں سے کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھتا تو اسے دھوئیں کے جیسی ایک چیز چھائی ہوئی نظر آتی۔ چنانچہ ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ آئے ہیں، اللہ کی اطاعت اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں، آپ کی قوم (قحط اور بھوک سے) ہلاک ہو رہی ہے۔ ان کے لیے اللہ سے دعا کریں۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: «فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشَى النَّاسَ هَٰذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ» سے لے کر «إِنَّكُمْ عَائِدُونَ» تک ”آپ اس دن کا انتظار کریں جب آسمان ایک نظر آنے والے دھوئیں کو لے آئے گا۔ (اور وہ) لوگوں کو ڈھانپ لے گا۔ یہ دردناک عذاب ہوگا۔“ سے لے کر ”بے شک تم (کفر میں) لوٹ جانے والے ہو۔“ تک۔ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: کیا آخرت کا عذاب ہٹایا جائے گا؟ «يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَىٰ إِنَّا مُنْتَقِمُونَ» ”جس دن ہم تم پر بڑی گرفت کریں گے (اس دن) ہم انتقام لینے والے ہوں گے۔“ وہ گرفت بدر کے دن تھی۔ اب تک دھوئیں کی نشانی گرفت اور چمٹ جانے والا عذاب (بدر میں شکست فاش اور قتل) اور روم (کی فتح) کی نشانی (سب) آکر گذر چکی ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7066]
امام مسروق بیان کرتے ہیں، ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ہمارے درمیان (اپنے بستر یا بچھونے پر) لیٹے ہوئے تھے تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا: ابو عبدالرحمان! ابوابِ کندہ (کوفہ کا ایک محلہ) میں ایک قصہ گو (واعظ) آیا ہوا ہے، وہ وعظ کر رہا ہے اور یہ کہتا ہے کہ دھوئیں والی (اللہ کی) نشانی آئے گی اور (یہ دھواں) کافروں کی روحیں قبض کر لے گا اور مومنوں کو یہ زکام جیسی کیفیت سے دو چار کرے گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اور وہ غصے کے عالم میں اٹھ کر بیٹھ گئے: لوگو! اللہ سے ڈرو، تم میں سے جو شخص کوئی چیز جانتا ہو، وہ اتنی ہی بیان کرے جتنی جانتا ہو اور جو نہیں جانتا، وہ کہے: اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ بے شک وہ (اللہ تعالیٰ) تم میں سے اس کو (بھی) زیادہ جاننے والا ہے جو اس بات کے بارے میں جو وہ نہیں جانتا، یہ کہتا ہے: اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ اللہ عزوجل نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ﴿قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴾ [سورة ص: 86] ”کہہ دیجئے: میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ ہی بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کی دین سے روگردانی دیکھی تو آپ نے (دعا کرتے ہوئے) فرمایا: «اللَّهُمَّ سَبْعًا كَسَبْعِ يُوسُفَ» ”اے اللہ! (ان پر) یوسف علیہ السلام کے سات سالوں جیسے سات سال (بھیج دے)۔“ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تو انہیں (قحط کے) ایک سال نے آ لیا جس نے ہر چیز کا صفایا کر دیا، یہاں تک کہ ان (مشرک) لوگوں نے بھوک سے چمڑے اور مردار تک کھائے۔ ان میں سے کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھتا تو اسے دھوئیں کے جیسی ایک چیز چھائی ہوئی نظر آتی۔ چنانچہ ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ آئے ہیں، اللہ کی اطاعت اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں، آپ کی قوم (قحط اور بھوک سے) ہلاک ہو رہی ہے۔ ان کے لیے اللہ سے دعا کریں۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: ﴿فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ * يَغْشَى النَّاسَ * هَٰذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ * رَّبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ * أَنَّىٰ لَهُمُ الذِّكْرَىٰ وَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مُّبِينٌ * ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَقَالُوا مُعَلَّمٌ مَّجْنُونٌ * إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلًا ۚ إِنَّكُمْ عَائِدُونَ﴾ [سورة الدخان: 10 - 15] ”آپ اس دن کا انتظار کریں جب آسمان ایک نظر آنے والے دھوئیں کو لے آئے گا۔ جو لوگوں پر چھا جائے گا، جو المناک عذاب ہوگا، (کہیں گے) اے ہمارے رب! ہم سے اس عذاب کو دور کر دے، ہم ایمان لے آئیں گے، اس وقت انہیں نصیحت کہاں کارگر ہوگی، حالانکہ ان کے پاس رسول مبین (کھول کر بیان کرنے والا) آ چکا ہے، پھر انہوں نے اس سے منہ موڑا اور کہنے لگے، یہ تو سکھایا پڑھایا دیوانہ ہے۔ ہم تھوڑی دیر عذاب ہٹا دیں گے، مگر تم پھر وہی کرو گے جو پہلے کرتے رہے۔“ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آخرت کا عذاب ہٹا دیا جائے گا؟ ﴿يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَىٰ إِنَّا مُنتَقِمُونَ﴾ [سورة الدخان: 16] ”جس دن ہم سخت گرفت کریں گے، پھر انتقام لے کر رہیں گے۔“ سو پکڑے سے مراد بدر کا دن ہے، دھوئیں والی نشانی گزر چکی ہے، اسی طرح پکڑ، لزام (قتل و قید) اور روم کی فتح گزر چکی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7066]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2798
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2798 ترقیم شاملہ: -- 7067
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كُلُّهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: جَاءَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: تَرَكْتُ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلًا يُفَسِّرُ الْقُرْآنَ بِرَأْيِهِ يُفَسِّرُ هَذِهِ الْآيَةَ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ سورة الدخان آية 10، قَالَ: يَأْتِي النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ دُخَانٌ، فَيَأْخُذُ بِأَنْفَاسِهِمْ حَتَّى يَأْخُذَهُمْ مِنْهُ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَنْ عَلِمَ عِلْمًا فَلْيَقُلْ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ، أَنْ يَقُولَ: لِمَا لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ اللَّهُ أَعْلَمُ، إِنَّمَا كَانَ هَذَا أَنَّ قُرَيْشًا لَمَّا اسْتَعْصَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا عَلَيْهِمْ بِسِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ، فَأَصَابَهُمْ قَحْطٌ وَجَهْدٌ حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ، فَيَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ مِنَ الْجَهْدِ وَحَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرِ اللَّهَ لِمُضَرَ، فَإِنَّهُمْ قَدْ هَلَكُوا، فَقَالَ: لِمُضَرَ إِنَّكَ لَجَرِيءٌ، قَالَ: فَدَعَا اللَّهَ لَهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ سورة الدخان آية 15، قَالَ: فَمُطِرُوا فَلَمَّا أَصَابَتْهُمُ الرَّفَاهِيَةُ، قَالَ: عَادُوا إِلَى مَا كَانُوا عَلَيْهِ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ {10} يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ {11} سورة الدخان آية 10-11 يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ سورة الدخان آية 16، قَالَ: يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ ".
ابومعاویہ، وکیع، اور جریر نے اعمش سے، انہوں نے مسلم بن صحیح سے اور انہوں نے مسروق سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میں مسجد میں ایک ایسے شخص کو چھوڑ کر آ رہا ہوں جو اپنی رائے سے قرآن مجید کی تفسیر کرتا ہے وہ (قرآن کی) آیت: «يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ» ”جب آسمان سے واضح دھواں اٹھے گا“ کی تفسیر کرتا ہے، کہتا ہے: ”قیامت کے دن لوگوں کے پاس ایک دھواں آئے گا جو لوگوں کی سانسوں کو گرفت میں لے لے گا، یہاں تک کہ لوگوں کو زکام جیسی کیفیت (جس میں سانس لینا مشکل ہو جاتی ہے) درپیش ہوگی، تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جس کے پاس علم ہو وہ اس کے مطابق بات کہے اور جو نہ جانتا ہو، وہ کہے: اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ یہ بات انسان کے فہم (دین) کا حصہ ہے۔ کہ جس بات کو وہ نہیں جانتا اس کے بارے میں کہے: اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ اس (دھوئیں) کی حقیقت یہ تھی کہ قریش نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سخت نافرمانی سے کام لیا تو آپ نے ان کے خلاف یوسف علیہ السلام (کے زمانے والے) قحط کے سالوں جیسی قحط سالی کی دعا کی۔ انہیں قحط اور تنگ دستی نے آ لیا یہاں تک کہ (ان میں سے) کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھنے لگتا تو بھوک کی شدت سے اسے اپنے اور آسمان کے درمیان دھواں سا چھایا ہوا نظر آتا یہاں تک کہ ان لوگوں نے (بھوک کی شدت سے) ہڈیاں تک کھائیں، چنانچہ (ان میں سے) ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی: اللہ کے رسول! آپ (قبیلہ) مضر کے لیے بخشش طلب فرمائیں۔ وہ ہلاکت کا شکار ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مُضَرَ؟ إِنَّكَ جَرِيءٌ» ”مضر کے لیے؟ تو بہت جرأت والا ہے (کہ اللہ سے شرک اور اس کے رسول سے بغض کے باوجود درخواست کر رہا ہے کہ میں تمہارے لیے اللہ سے دعا کروں)“ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پھر بھی) ان کے حق میں دعا فرما دی۔ اس پر اللہ عزوجل نے (آیت) نازل فرمائی: «إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ» ”ہم (تم سے) تھوڑے عرصے کے لیے عذاب ہٹا دیتے ہیں۔ تم (پھر کفر ہی میں) لوٹنے والے ہو۔“ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: پھر ان پر بارش برسائی گئی۔ انہیں خوشحالی مل گئی، کہا: (تو پھر) وہ اپنی اسی روش پر لوٹ گئے جس سے پہلے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ حصہ) نازل فرمایا: «فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشَى النَّاسَ هَٰذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ» ”آپ انتظار کیجیے جب آسمان ظاہر دھواں لے آئے گا۔ جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا، یہ دردناک عذاب ہوگا۔“ (پھر یہ آیت نازل فرمائی) «يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَىٰ إِنَّا مُنْتَقِمُونَ» ”جس دن ہم بڑی گرفت میں لیں گے، ہم انتقام لینے والے ہوں گے۔“ کہا: یعنی جنگ بدر کو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7067]
امام مسروق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میں مسجد میں ایک ایسے شخص کو چھوڑ کر آرہا ہوں جو اپنی رائے سے قرآن مجید کی تفسیر کرتا ہے، وہ (قرآن کی) آیت: ﴿فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ﴾ [سورة الدخان: 10] کی تفسیر کرتا ہے، کہتا ہے: قیامت کے دن لوگوں کے پاس ایک دھواں آئے گا جو لوگوں کی سانسوں کو گرفت میں لے لے گا، یہاں تک کہ لوگوں کو زکام جیسی کیفیت (جس میں سانس لینی مشکل ہو جاتی ہے) درپیش ہوگی، تو حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے کہا: جس کے پاس علم ہو وہ اس کے مطابق بات کہے اور جو نہ جانتا ہو، وہ کہے: «اللهُ أَعْلَمُ» ”اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔“ یہ بات انسان کے فہمِ (دین) کا حصہ ہے کہ جس بات کو وہ نہیں جانتا اس کے بارے میں کہے: «اللهُ أَعْلَمُ» ”اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔“ اس (دھوئیں) کی حقیقت یہ تھی کہ قریش نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سخت نافرمانی سے کام لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف یوسف علیہ السلام (کے زمانے والے) قحط کے سالوں جیسی قحط سالی کی دعا کی۔ انہیں قحط اور تنگ دستی نے آ لیا یہاں تک کہ (ان میں سے) کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھنے لگتا تو بھوک کی شدت سے اسے اپنے اور آسمان کے درمیان دھواں سا چھایا ہوا نظر آتا یہاں تک کہ ان لوگوں نے (بھوک کی شدت سے) ہڈیاں تک کھائیں، چنانچہ (ان میں سے) ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ (قبیلہ) مضر کے لیے بخشش طلب فرمائیں، وہ ہلاکت کا شکار ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مضر کے لیے؟ تو بہت جرأت والا ہے (کہ اللہ سے شرک اور اس کے رسول سے بغض کے باوجود درخواست کر رہا ہے کہ میں تمہارے لیے اللہ سے دعا کروں)۔“ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پھر بھی) ان کے حق میں دعا فرمادی۔ اس پر اللہ عزوجل نے (آیت) نازل فرمائی: ﴿إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلًا ۚ إِنَّكُمْ عَائِدُونَ﴾ [سورة الدخان: 15] ”ہم (تم سے) تھوڑے عرصے کے لیے عذاب ہٹا دیتے ہیں، تم (پھر کفر ہی میں) لوٹنے والے ہو۔“ (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: پھر ان پر بارش برسائی گئی، انہیں خوشحالی مل گئی، کہا: (تو پھر) وہ اپنی اسی روش پر لوٹ گئے جس سے پہلے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ حصہ) نازل فرمایا: ﴿فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ * يَغْشَى النَّاسَ ۖ هَٰذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة الدخان: 10-11] ”آپ انتظار کیجئے جب آسمان ظاہر دھواں لے آئے گا، جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا، یہ دردناک عذاب ہوگا۔“ (آیت نمبر 10 تا 12) ﴿يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَىٰ إِنَّا مُنتَقِمُونَ﴾ [سورة الدخان: 16] ”جس دن ہم بڑی گرفت میں لیں گے، ہم انتقام لینے والے ہوں گے۔“ (آیت نمبر 16) اس سے مراد بدر کا دن ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7067]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2798
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2798 ترقیم شاملہ: -- 7068
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " خَمْسٌ قَدْ مَضَيْنَ الدُّخَانُ وَاللِّزَامُ وَالرُّومُ وَالْبَطْشَةُ وَالْقَمَرُ "،
قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوضحیٰ سے، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: پانچ (نشانیاں گزر چکی ہیں: دھواں، چمٹ جانے والا عذاب (بدر کے دن شکست اور ہلاکتیں)، روم کی فتح (بدر کے دن ستر مشرکوں کی گرفتاری)، سخت گرفت اور چاند (کا دو ٹکڑے ہونا)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7068]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پانچ پیشین گوئیاں گزر چکی ہیں: «الدُّخَانُ» (دھواں)، (جنگ بدر میں) «اللِّزَامُ» (قتل و قید)، رومیوں کی فتح، بدر کی پکڑ اور انشقاقِ قمر۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7068]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2798
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2798 ترقیم شاملہ: -- 7069
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
وکیع نے کہا: ہمیں اعمش نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7069]
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7069]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2798
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2799 ترقیم شاملہ: -- 7070
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: " وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الأَكْبَرِ سورة السجدة آية 21، قَالَ وَالرُّومُ وَالْبَطْشَةُ أَوِ الدُّخَانُ شُعْبَةُ الشَّاكُّ، فِي الْبَطْشَةِ أَوِ الدُّخَانِ.
محمد بن جعفر نے شعبہ سے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے عزرہ سے، انہوں نے حسن عرفی سے، انہوں نے یحییٰ بن جزار سے، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے فرمان: «وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَىٰ دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ» ”اور بڑے عذاب سے پہلے ہم انہیں قریب کا (چھوٹا) عذاب چکھائیں گے“ (کی تفسیر) کے بارے میں روایت کی، انہوں نے کہا (اسی) دنیا میں پیش آنے والے مصائب، روم کی فتح، گرفت (جنگ بدر) یا دھواں (مراد) ہیں۔ گرفت اور دھواں کے بارے میں شک کرنے والے شعبہ ہیں۔ (ان سے اوپر کے راویوں نے یقین سے بتایا کہ گرفت اور دھواں مراد ہیں۔ شعبہ کو شک ہوا)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7070]
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَىٰ دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ﴾ [سورة السجدة: 21] ”ہم انہیں بڑے عذاب سے پہلے ہلکے عذاب سے دو چار کریں گے، ہلکے عذاب کا ذائقہ ضرور چکھائیں گے“ کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس سے مراد دنیا کی تکالیف و مصائب ہیں، فتحِ روم، پکڑ یا دخان ہے، «بَطْشَة» ہے، یا دخان، شعبہ کو شک ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7070]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2799
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة