صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
171. باب المساجد - ذكر تفضل الله جل وعلا على المصلي في مسجد قباء بكتبه أجر عمرة له بصلاته تلك
مساجد کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا مسجد قباء میں نماز پڑھنے والے کو اس کی اس نماز سے عمرہ کا اجر لکھتا ہے
حدیث نمبر: 1627
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ سُوَيْدٍ ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَنْصَارِيُّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ شَهِدَ جَنَازَةً بِالأَوْسَاطِ فِي دَارِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَأَقْبَلَ مَاشِيًا إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِفِنَاءِ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، فَقِيلَ لَهُ: أَيْنَ تَؤُمُّ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: أَؤُمُّ هَذَا الْمَسْجِدَ فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ صَلَّى فِيهِ كَانَ كَعَدْلِ عَمْرَةٍ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے، وہ سعد بن عبادہ کے محلے میں اوساط میں ایک جنازے میں شریک ہوئے پھر وہ چلتے ہوئے بنوعمرو بن عوف کے محلے کی طرف آئے جو بنوحارث بن خزرج کے اختتام پر تھا۔ ان سے دریافت کیا گیا اے ابوعبدالرحمن! آپ کہاں جا رہے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: میں بنوعمرو بن عوف کے محلے میں موجود اس مسجد میں جا رہا ہوں، کیونکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے سنا ہے۔ ”جو شخص اس میں نماز ادا کرتا ہے، تو یہ عمرہ کرنے کے برابر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1627]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1625»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «التعليق الرغيب» (2/ 139).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح بشواهده، داود بن إسماعيل: ترجم له ابن أبي حاتم 3/ 406، فلم يذكر فيه جرحاً ولا تعديلاً، وقال: روى عنه مجمع بن يعقوب الأنصاري، وعاصم بن سويد، وذكره المؤلف في «الثقات» 4/ 217، وباقي رجاله ثقات.