صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
194. باب المساجد - ذكر الزجر عن رفع الأصوات في المساجد لأجل شيء من أسباب هذه الدنيا الفانية
مساجد کا بیان - اس ممانعت کا ذکر کہ مساجد میں دنیاوی اسباب کی وجہ سے آواز بلند کرنے سے منع کیا گیا
حدیث نمبر: 1651
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ سَمِعَ رَجُلا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ، فَلْيَقُلْ: لا أَدَّاهَا اللَّهُ عَلَيْكَ، فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص کسی کو مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرتے ہوئے سنے تو یہ کہےاللہ تعالیٰ یہ چیز تمہیں واپس نہ کرے، کیونکہ مساجد اس مقصد کے لئے نہیں بنائی گئی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1651]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1649»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (492): م. * [أَدَّاهَا] قال الشيخ: في الأصل: (ردَّها).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، والمقرئ: هو عبد الله بن يزيد المكي أبو عبد الرحمن، ومحمد بن عبد الرحمن: هو محمد بن عبد الرحمن بن نوفل الأسدي أبو الأسود المدني يتيم عروة، وأبو عبد الله مولى شداد بن الهاد: هو سالم بن عبد الله النصري.
حدیث نمبر: 1652
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الأَحْمَرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا وَجَدْتَ، إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لَمْا بُنِيَتْ لَهُ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَضْمَرَ فِيهِ: لا وَجَدْتَ، إِنْ عُدْتَ لِهَذَا الْفِعْلِ بَعْدَ نَهْيِي إِيَّاكَ عَنْهُ.
سلیمان بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی تو ایک شخص نے کہا: کون شخص سرخ اونٹ کی طرف میری رہنمائی کرے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ کرے) وہ تمہیں نہ ملے یہ مساجد اپنے مخصوص مقصد کے لئے بنائی گئی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1652]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1650»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - المصدر نفسه: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
مؤمل بن إسماعيل: ثقة، إلا أنه دفن كتبه، فكان يحدث من حفظه، فكثر خطؤه، فلا يقبل حديثه إذا انفرد به، لكنه هنا لم ينفرد به، فقد تابعه عليه عبد الرزاق، وباقي رجال السند ثقات على شرط الشيخين ما عدا سليمان ابن بريدة، فإنهما لم يخرجا له، وهو ثقة.
حدیث نمبر: 1653
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ عُمَرَ مَرَّ بِحَسَّانِ بْنِ ثَابِتٍ وَهُوَ يُنْشِدُ فِي الْمَسْجِدِ شِعْرًا، فَلَحَظَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: لَقَدْ كُنْتُ أُنْشِدُ فِيهِ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ: نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ، أَسَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَجِبْ عَنِّي، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ؟"، قَالَ: نَعَمْ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الأَمْرُ بِالذَّبِّ عَنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرٌ مَخْرَجُهُ الْخُصُوصُ قُصِدَ بِهِ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ وَالْمُرَادُ مِنْهُ إِيجَابُهُ عَلَى كُلِّ مَنْ فِيهِ آلَةُ الذَّبِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَذِبَ وَالزُّورَ، وَمَا يُؤَدِّي إِلَى قِدْحِهِ، لأَنَّ فِيهِ قِيَامُ الإِسْلامِ وَمَنْعَ الدِّينِ عَنِ الانْثِلامِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جب مسجد میں شعر سنا رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں جھڑکا تو سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: میں یہاں اس وقت شعر سنایا کرتا تھا جب یہاں وہ ہستی موجود ہوتی تھی جو آپ سے بہتر تھی، پھر سیدنا حسان رضی اللہ عنہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے: میں آپ کو اللہ کی قسم! دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: (اے حسان!) تم میری طرف سے جواب دو اے اللہ! تو روح القدس کے ذریعے اس کی تائید کر۔“ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دفاع کرنے کا حکم ایک ایسا حکم ہے جس کا مخصوص پس منظر ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم تو سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو دیا تھا لیکن اس سے مراد یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر لگائے جانے والے جھوٹے الزام آپ کی طرف منسوب کیے جانے والے جھوٹ اور آپ پر ہونے والے اعتراضات کے حوالے سے آپ کی طرف سے دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ایسا کرنا اس پر لازم ہے۔ ایسی صورت میں اسلام (کے احکام) کو قائم کرنے اور دین کو بربادی سے روکنے کی صورت پائی جاتی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1653]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1651»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (933): م، خ (453).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، إبراهيم بن بشار الرمادي: ترجمه المؤلف في «الثقات» 8/ 72 - 73، وقال: كان متقناً ضابطاً، صحب ابن عيينة سنين كثيرة، وسمع أحاديثه مراراً، ومن زعم أنه كان ينام في مجلس ابن عيينة فقد صدق، وليس هذا ممن يجرح مثله في الحديث، وذاك أنه سمع حديث ابن عيينة مراراً، والقائل بهذا رآه ينام في المجلس حيث كان يجيء إلى سفيان ويحضر مجلسه للاستئناس لا للاستماع، فنوم الإنسان عن سماع شيء قد سمعه مراراً ليس مما يقدح فيه واحد، حدثنا أبو خليفة، حدثنا إبراهيم بن بشار الرمادي، قال: حدثنا سفيان بمكة وعبادان –وبين السماعين أربعون سنة- سمعت أحمد بن زنجويه يقول: سمعت جعفر بن أبي عثمان الطيالسي يقول: سمعت يحيى بن معين يقول: كان الحميدي لا يكتب عند سفيان بن عيينة وإبراهيم بن بشار أحفظهما، ومات إبراهيم بن بشار سنة ثلاثين ومئتين أو قبلها أو بعدها بقليل. وقال البخاري: يهم في الشيء بعد الشيء وهو صدوق، وقال ابن عدي في «الكامل» 1/ 265: لا أعلم أنكر عليه إلا هذا الحديث الذي ذكره البخاري [يعني حديث أبي موسى «كلكم راع ... » فقد وهم فيه فرواه مسنداً، وكان ابن عيينة يرويه مرسلاً]، وباقي حديثه عن ابن عيينة وأبي معاوية وغيرهما من الثقات مستقيم، وهو عندنا من أهل الصدق، [وفي المطبوع من «الكامل» زيادات تغير المعنى فتصحح من تهذيب المزي 2/ 61 الذي نقلنا عنه]، وقال الحافظ في «التقريب»: حافظ له أوهام، وباقي رجال السند على شرطهما.