صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
16. باب التَّثَبُّتِ فِي الْحَدِيثِ وَحُكْمِ كِتَابَةِ الْعِلْمِ:
باب: حدیث مبارکہ کو سمجھ کر پڑھنا اور علم کو لکھنے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2493 ترقیم شاملہ: -- 7509
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا بِهِ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، وَيَقُولُ " اسْمَعِي يَا رَبَّةَ الْحُجْرَةِ، اسْمَعِي يَا رَبَّةَ الْحُجْرَةِ، وَعَائِشَةُ تُصَلِّي، فَلَمَّا قَضَتْ صَلَاتَهَا، قَالَتْ لِعُرْوَةَ: أَلَا تَسْمَعُ إِلَى هَذَا؟، وَمَقَالَتِهِ آنِفًا، إِنَّمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ حَدِيثًا لَوْ عَدَّهُ الْعَادُّ لَأَحْصَاهُ ".
ہشام نے اپنے والد (عروہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ احادیث بیان کر رہے تھے اور آواز لگا رہے تھے: اے حجرے کے مالک! سنیے، اے حجرے کے مالک! سنیے، اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا (اندر) نماز پڑھ رہی تھیں۔ انہوں نے جب نماز مکمل کی تو عروہ سے کہا: تم نے ابھی اسے اور اس کی کہی ہوئی بات نہیں سنی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (ایک وقت میں) ایک بات (حدیث) ارشاد فرماتے تھے، اگر کوئی گننے والا اسے گنتا تو گن سکتا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ/حدیث: 7509]
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہوئے کہہ رہے تھے،اے حجرہ کی مالکہ،اےحجرہ کی مالکہ!سن لیجئے،سن لیجئے،اورحضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نماز پڑھ رہی تھیں،جب وہ اپنی نماز پوری کرچکیں،حضرت عروہ رحمۃ اللہ علیہ سےکہا،تم نے ابھی اس کی آواز اور اس کے قول کو سنا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو بس اس طرح بات کرتے تھے کہ اگر کوئی شمار کرنے والا،اس(کلمات)کوگننا چاہتا،توگن سکتا تھا۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ/حدیث: 7509]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2493
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 3004 ترقیم شاملہ: -- 7510
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَكْتُبُوا عَنِّي، وَمَنْ كَتَبَ عَنِّي غَيْرَ الْقُرْآنِ، فَلْيَمْحُهُ وَحَدِّثُوا عَنِّي، وَلَا حَرَجَ وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ "، قَالَ هَمَّامٌ: أَحْسِبُهُ، قَالَ: مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ.
ہداب بن خالد ازدی نے کہا: ہمیں ہمام نے زید بن اسلم سے حدیث بیان کی، انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے (سنی ہوئی باتیں) مت لکھو، جس نے قرآن مجید (کے ساتھ) اس کے علاوہ میری کوئی بات (حدیث) لکھی وہ اس کو مٹا دے، البتہ میری حدیث (یاد رکھ کر آگے) بیان کرو، اس میں کوئی حرج نہیں، اور جس نے مجھ پر۔“ ہمام نے کہا: میرا خیال ہے کہ انہوں (زید بن اسلم) نے کہا: جان بوجھ کر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ/حدیث: 7510]
حضرت ابو سعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میری باتیں نہ لکھو اورجس نے قرآن کے علاوہ مجھ سے کچھ سیکھاہے،تو اسے مٹادے اور مجھ سے بیان کرو،میری حدیثیں سناؤ،اس میں کوئی تنگی نہیں ہے اور جس نے مجھ پر جھوٹ بولا،میری طرف اپنی طرف سے کوئی بات منسوب کی،ہمام کہتے ہیں،میرے خیال میں آپ نے جان بوجھ کر کالفظ کہا،تو وہ ا پنا ٹھکانا دوزخ بنالے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ/حدیث: 7510]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3004
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة