🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. باب الاِسْتِنْجَاءِ بِالْحِجَارَةِ
باب: پتھر سے استنجاء کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 37
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، عَنْ عَيَّاشٍ، أَنَّ شِيَيْمَ بْنَ بَيْتَانَ أَخْبَرَهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَيْضًا، عَنْ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، يَذْكُرُ ذَلِكَ وَهُوَ مَعَهُ مُرَابِطٌ بِحِصْنِ بَابِ أَلْيُونَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: حِصْنُ أَلْيُونَ بِالْفِسْطَاطِ عَلَى جَبَلٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَهُوَ شَيْبَانُ بْنُ أُمَيَّةَ يُكْنَى أَبَا حُذَيْفَةَ.
ابوسالم جیشانی نے اس حدیث کو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اس وقت سنا جب وہ ان کے ساتھ (مصر میں) باب الیون کے قلعہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: الیون کا قلعہ فسطاط (مصر) میں ایک پہاڑ پر واقع ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 37]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مذکورہ بالا حدیث بیان کی جبکہ وہ (ابوسالم) ان کے ساتھ باب الیون کے قلعے پر مورچہ بند تھے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ الیون کا قلعہ علاقہ فسطاط میں پہاڑ پر واقع تھا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ (گزشتہ حدیث میں مذکور) شیبان قتبانی وہ ابن امیہ ہے اور اس کی کنیت ابوحذیفہ ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 37]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 8651، 3616) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
انفرد به ابو داود، وانظر الحديث السابق

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 38
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّه يَقُولُ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَمَسَّحَ بِعَظْمٍ أَوْ بَعْرٍ".
ابو الزبیر کا بیان ہے کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہڈی یا مینگنی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 38]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی یا مینگنی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 38]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الطھارة 17 (263)، (تحفة الأشراف: 2709)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/343، 384) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (263)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 39
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:" قَدِمَ وَفْدُ الْجِنِّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ، انْهَ أُمَّتَكَ أَنْ يَسْتَنْجُوا بِعَظْمٍ أَوْ رَوْثَةٍ أَوْ حُمَمَةٍ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى جَعَلَ لَنَا فِيهَا رِزْقًا، قَالَ: فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جنوں کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: آپ اپنی امت کو ہڈی، لید (گوبر، مینگنی)، اور کوئلے سے استنجاء کرنے سے منع فرما دیجئیے کیونکہ ان میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے روزی بنائی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 39]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جنوں کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہوں نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنی امت کو منع فرما دیجیے کہ وہ ہڈی یا کوئلے سے استنجاء کریں، کیونکہ اللہ عزوجل نے ان میں ہمارا رزق رکھا ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے روک دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 39]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 9349) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ہڈی جنوں کی اور لید ان کے جانوروں کی خوراک ہے، اور کوئلے سے وہ روشنی کرتے، یا اس پر کھانا پکاتے ہیں، اسی واسطے اس کو بھی روزی میں داخل کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (375)
اسماعيل بن عياش صرح بالسماع من شيخه الشامي عند الدارقطني (1/ 55) وروايته عن الشاميين مقبولة عند الجمھور (الفتح المبين: 3/68) وانظر دارقطني (1/ 56)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 40
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قُرْطٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ، فَلْيَذْهَبْ مَعَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ يَسْتَطِيبُ بِهِنَّ، فَإِنَّهَا تُجْزِئُ عَنْهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے لیے جائے تو تین پتھر اپنے ساتھ لے جائے، انہی سے استنجاء کرے، یہ اس کے لیے کافی ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 40]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پاخانہ کے لیے جانے لگے تو اپنے ساتھ تین ڈھیلے لے جایا کرے، ان سے استنجاء کر لیا کرے، بیشک یہ اس کے لیے کفایت کریں گے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 40]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الطھارة 40 (44)، (تحفة الأشراف: 16757)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/108، 133)، سنن الدارمی/الطھارة 11 (697) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (349)
وصححه الدارقطني (1/54،55) وسنده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 41
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خُزَيْمَةَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الِاسْتِطَابَةِ، فَقَالَ:" بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَذَا رَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ.
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استنجاء کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: استنجاء تین پتھروں سے کرو جن میں گوبر نہ ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابواسامہ اور ابن نمیر نے بھی ہشام بن عروہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 41]
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استنجاء کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین ڈھیلوں سے (استنجاء کرے) ان میں گوبر نہ ہو۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابواسامہ اور ابن نمیر نے بھی ہشام بن عروہ سے ایسے ہی روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 41]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الطھارة 16 (315)، (تحفة الأشراف: 3529)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/213، 214) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف،ابن ماجه (315)
عمرو بن خزيمة مجهول الحال،لم يوثقه غير ابن حبان
وحديث مسلم (262) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 15

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں