🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب الاستنجاء بالحجارة
باب: پتھر سے استنجاء کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 40
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قُرْطٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ، فَلْيَذْهَبْ مَعَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ يَسْتَطِيبُ بِهِنَّ، فَإِنَّهَا تُجْزِئُ عَنْهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے لیے جائے تو تین پتھر اپنے ساتھ لے جائے، انہی سے استنجاء کرے، یہ اس کے لیے کافی ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 40]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الطھارة 40 (44)، (تحفة الأشراف: 16757)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/108، 133)، سنن الدارمی/الطھارة 11 (697) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (349)
وصححه الدارقطني (1/54،55) وسنده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥مسلم بن قرط المدني
Newمسلم بن قرط المدني ← عروة بن الزبير الأسدي
مقبول
👤←👥سلمة بن دينار الأعرج، أبو حازم
Newسلمة بن دينار الأعرج ← مسلم بن قرط المدني
ثقة
👤←👥يعقوب بن عبد الرحمن القاري
Newيعقوب بن عبد الرحمن القاري ← سلمة بن دينار الأعرج
ثقة
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← يعقوب بن عبد الرحمن القاري
ثقة ثبت
👤←👥سعيد بن منصور الخراساني، أبو عثمان
Newسعيد بن منصور الخراساني ← قتيبة بن سعيد الثقفي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
40
إذا ذهب أحدكم إلى الغائط فليذهب معه بثلاثة أحجار يستطيب بهن فإنها تجزئ عنه
سنن النسائى الصغرى
44
إذا ذهب أحدكم إلى الغائط فليذهب معه بثلاثة أحجار فليستطب بها فإنها تجزي عنه
سنن الدارمي
693
إذا ذهب أحدكم إلى الغائط فليذهب معه بثلاثة أحجار يستطيب بهن فإنها تجزئ عنه
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 40 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 40
فوائد و مسائل:
➊ ہدایت ہے کہ رفع حاجت کے لیے بیٹھنے سے پہلے طہارت حاصل کرنے کا انتظام کر لیا جائے۔ ممکن ہے برموقع کوئی چیز مہیا نہ ہو لہٰذا غیر معتمد مقامات پر نل کو پہلے دیکھ لیا جائے کہ آیا اس میں پانی بھی ہے یا نہیں۔
➋ ڈھیلے کا حکم سائل کے بدوی ہونے کی مناسبت سے ہے اور یہ ہے کہ تین ڈھیلوں سے استنجا پانی سے کفایت کرتا ہے آج کل ٹشو پیپر اس کا قائم مقام ہے، تاہم افضلیت پانی ہی کے استعمال میں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 40]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 44
صرف پتھر اور ڈھیلے سے استنجاء کے کافی ہونے اور پانی کے ضروری نہ ہونے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پاخانہ جائے تو اپنے ساتھ تین پتھر لے جائے، اور ان سے پاکی حاصل کرے کیونکہ یہ طہارت کے لیے کافی ہیں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 44]
44۔ اردو حاشیہ:
➊ ڈھیلے استنجا کے لیے کافی ہیں، بشرطیکہ ان سے پوری صفائی ہو جائے، یعنی نہ تو گندگی کا اثر باقی رہے اور نہ بدبو۔ اگر ایسی صورت حال پیدا ہو جائے کہ ڈھیلوں سے صحیح صفائی نہ ہو سکے یا بدبو زائل نہ ہو تو پانی استعمال کرنا ضروری ہے۔
➋ مٹی میں صفائی کرنے اور بدبو ختم کرنے کی خاصیت رکھی گئی ہے، اس لیے پانی کی عدم موجودگی میں اس سے طہارت حاصل کرنا شرعاً و عقلاً درست ہے۔ اسی طرح مٹی کی عدم موجودگی میں جو بھی چیز نجاست کے زائل کرنے اور طہارت کے حصول میں مفید ثابت ہو، اسے استعمال کیا جا سکتا ہے، جیسے روئی اور ٹشو پیپر وغیرہ۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 44]