🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

159. فصل في صوم الدهر - ذكر الإخبار عن نفي جواز سرد المسلم صوم الدهر
ممنوع روزے کے بیان - اس بات کی اطلاع کہ پورے سال مسلسل روزہ رکھنا جائز نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3583
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَامَ الأَبَدَ فَلا صَامَ وَلا أَفْطَرَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَامَ الأَبَدَ فَلا صَامَ وَلا أَفْطَرَ"، يُرِيدُ بِهِ: مَنْ صَامَ الأَبَدَ وَفِيهِ الأَيَّامُ الَّتِي نُهِيَ عَنْ صِيَامِهَا، مِثْلُ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ مِنَ الْعِيدَيْنِ" فَلا صَامَ وَلا أَفْطَرَ"، يُرِيدُ بِهِ: فَلا صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ فَيُؤْجَرَ عَلَيْهِ مِنْ غَيْرِ مُفَارَقَتِهِ الإِثْمَ الَّذِي ارْتَكَبَهُ بِصَوْمِ الأَيَّامِ الَّتِي نُهِيَ عَنْ صِيَامِهَا، وَلِهَذَا قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَامَ الدَّهْرَ ضُيِّقَ عَلَيْهِ جَهَنَّمُ هَكَذَا" وَعَقَدَ عَلَيْهِ تِسْعِينَ، يُرِيدُ بِهِ: ضُيِّقَ عَلَيْهِ جَهَنَّمُ بِصَوْمِهِ الأَيَّامَ الَّتِي نُهِيَ عَنْ صِيَامِهَا فِي دَهْرِهِ.
مطرف بن عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص ہمیشہ (یعنی روزانہ) نفلی روزہ رکھے اس نے درحقیقت نہ روزہ رکھا اور نہ ہی روزہ چھوڑا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان جو شخص ہمیشہ روزہ رکھے اس نے درحقیقت نہ روزہ رکھا اور نہ ہی روزہ چھوڑا۔ اس سے مراد یہ ہے: جو شخص ہمیشہ روزہ رکھے اور اس میں وہ دن بھی آ جائیں جس میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ جیسے ایام تشریق اور عیدین کے دن (روایت کے یہ الفاظ) اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ ہی چھوڑا۔ اس سے مراد یہ ہے: اس نے نہ تو ہمیشہ روزہ رکھا کہ اس کو اس بات پر اجر دیا جائے کیونکہ وہ اس گناہ سے نہیں بچ سکا جس کا ارتکاب اس نے ممنوعہ دنوں میں روزہ رکھنے سے کیا ہے۔ اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ جو شخص ہمیشہ روزہ رکھتا ہے اس پر جہنم اس طرح تنگ ہو جاتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوے کا عدد بنا کر یہ بات بتائی۔ اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے: جہنم اس کے ان دنوں میں روزہ رکھنے کی وجہ سے تنگ ہوتی ہے جن دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3583]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3575»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق» -أيضا-.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3584
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَامَ الدَّهْرَ ضُيِّقَتْ عَلَيْهِ جَهَنَّمُ هَكَذَا" وَعَقَدَ تِسْعِينَ ، أَخْبَرَنَاهُ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ مَرَّةً أُخْرَى، قَالَ: وَضَمَّ عَلَى تِسْعِينَ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الْقَصْدُ فِي هَذَا الْخَبَرِ صَوْمُ الدَّهْرِ الَّذِي فِيهِ أَيَّامُ التَّشْرِيقِ وَالْعِيدَيْنِ، وَأَوْقَعَ التَّغْلِيظَ عَلَى مَنْ صَامَ الدَّهْرَ مِنْ أَجْلِ صَوْمِهِ الأَيَّامَ الَّتِي نُهِيَ عَنْ صِيَامِهَا، لا أَنَّهُ إِذَا صَامَ الدَّهْرَ وَقَوِيَ عَلَيْهِ مِنْ غَيْرِ الأَيَّامِ الَّتِي نُهِيَ عَنْ صِيَامِهَا يُعَذَّبُ فِي الْقِيَامَةِ، وَأَبُو تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيُّ اسْمُهُ: طَرِيفُ بْنُ مُجَالِدٍ، بَصْرِيٌ مَاتَ سَنَةَ خَمْسٍ وَتِسْعِينَ.
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص ہمیشہ (یعنی روزانہ نفلی روزہ) رکھے اس پر جہنم کو اس طرح تنگ کر دیا جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوے کا ہندسہ بنا کر یہ بات بتائی۔ فضل نامی راوی نے دوسری مرتبہ یہ الفاظ نقل کیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوے پر مٹھی کو بند کر لیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): اس روایت میں ہمیشہ روزہ رکھنے سے مراد یہ ہے: ایام تشریق اور عیدین کے دن بھی روزہ رکھ لیا جائے اور اس شخص کی شدید مذمت کی گئی ہے، جو ہمیشہ روزہ رکھتا ہے اور ان دنوں میں بھی روزہ رکھ لیتا ہے جن دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے، جو شخص ہمیشہ روزہ رکھتا ہے۔ اور وہ اس کی قوت بھی رکھتا ہے لیکن وہ ان دنوں میں روزہ نہیں رکھتا جن دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے، تو اسے بھی قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا۔ ابوتمیمہ ہجیمی کا نام طریف بن مجاہد سے یہ بصرہ کا رہنے والا ہے۔ اس کا انتقال 95 ہجری میں ہوا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3584]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3576»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3202).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں