صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
159. فصل في صوم الدهر - ذكر الإخبار عن نفي جواز سرد المسلم صوم الدهر
ممنوع روزے کے بیان - اس بات کی اطلاع کہ پورے سال مسلسل روزہ رکھنا جائز نہیں
حدیث نمبر: 3583
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَامَ الأَبَدَ فَلا صَامَ وَلا أَفْطَرَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَامَ الأَبَدَ فَلا صَامَ وَلا أَفْطَرَ"، يُرِيدُ بِهِ: مَنْ صَامَ الأَبَدَ وَفِيهِ الأَيَّامُ الَّتِي نُهِيَ عَنْ صِيَامِهَا، مِثْلُ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ مِنَ الْعِيدَيْنِ" فَلا صَامَ وَلا أَفْطَرَ"، يُرِيدُ بِهِ: فَلا صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ فَيُؤْجَرَ عَلَيْهِ مِنْ غَيْرِ مُفَارَقَتِهِ الإِثْمَ الَّذِي ارْتَكَبَهُ بِصَوْمِ الأَيَّامِ الَّتِي نُهِيَ عَنْ صِيَامِهَا، وَلِهَذَا قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَامَ الدَّهْرَ ضُيِّقَ عَلَيْهِ جَهَنَّمُ هَكَذَا" وَعَقَدَ عَلَيْهِ تِسْعِينَ، يُرِيدُ بِهِ: ضُيِّقَ عَلَيْهِ جَهَنَّمُ بِصَوْمِهِ الأَيَّامَ الَّتِي نُهِيَ عَنْ صِيَامِهَا فِي دَهْرِهِ.
مطرف بن عبداللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص ہمیشہ (یعنی روزانہ) نفلی روزہ رکھے اس نے درحقیقت نہ روزہ رکھا اور نہ ہی روزہ چھوڑا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”جو شخص ہمیشہ روزہ رکھے اس نے درحقیقت نہ روزہ رکھا اور نہ ہی روزہ چھوڑا۔“ اس سے مراد یہ ہے: جو شخص ہمیشہ روزہ رکھے اور اس میں وہ دن بھی آ جائیں جس میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے، جیسے ایامِ تشریق اور عیدین کے دن (روایت کے یہ الفاظ) ”اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ ہی چھوڑا۔“ اس سے مراد یہ ہے: اس نے نہ تو ہمیشہ روزہ رکھا کہ اس کو اس بات پر اجر دیا جائے کیونکہ وہ اس گناہ سے نہیں بچ سکا جس کا ارتکاب اس نے ممنوعہ دنوں میں روزہ رکھنے سے کیا ہے۔ اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ ”جو شخص ہمیشہ روزہ رکھتا ہے اس پر جہنم اس طرح تنگ ہو جاتی ہے“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوے کا عدد بنا کر یہ بات بتائی۔ اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے: جہنم اس کے ان دنوں میں روزہ رکھنے کی وجہ سے تنگ ہوتی ہے جن دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصوم/حدیث: 3583]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2150، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3583، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1595، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2379، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1705، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16562» «رقم طبعة با وزير 3575»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق» -أيضا-.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 3583 in Urdu
مطرف بن عبد الله الحرشي ← عبد الله بن الشخير الحرشي