سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
140. باب فِي طُهُورِ الأَرْضِ إِذَا يَبِسَتْ
باب: زمین خشک ہو کر پاک ہو جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 382
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ:" كُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُنْتُ فَتًى شَابًّا عَزَبًا، وَكَانَتْ الْكِلَابُ تَبُولُ وَتُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِي الْمَسْجِدِ، فَلَمْ يَكُونُوا يَرُشُّونَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں رات کو مسجد میں سوتا تھا، میں ایک نوجوان کنوارا (غیر شادی شدہ) تھا، اور کتے مسجد میں آتے جاتے اور پیشاب کرتے، کوئی اس پر پانی نہ بہاتا تھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 382]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں میں مسجد میں سویا کرتا تھا۔ میری بھر پور جوانی کے دن تھے اور ابھی شادی نہیں ہوئی تھی۔ کتے مسجد میں آتے جاتے تھے اور پیشاب بھی کر دیتے تھے مگر وہ لوگ (یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) اس پر کوئی پانی نہ چھڑکتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 382]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 33 (174)، تعلیقًا (تحفة الأشراف: 6704)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/71) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زمین میں اگر پیشاب وغیرہ پڑ جائے پھر وہ زمین خشک ہو جائے تو وہ پاک ہو جاتی ہے، نیز مسجد میں سونا درست اور جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (174)