🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

15. باب فِي حَصَى الْمَسْجِدِ
باب: مسجد کی کنکریوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 458
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ تَمَّامِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سُلَيْمٍ الْبَاهِلِيُّ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْحَصَى الَّذِي فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ:"مُطِرْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ مُبْتَلَّةً فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَأْتِي بِالْحَصَى فِي ثَوْبِهِ فَيَبْسُطُهُ تَحْتَهُ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ: مَا أَحْسَنَ هَذَا".
ابوالولید سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مسجد کی کنکریوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ایک رات بارش ہوئی، زمین گیلی ہو گئی تو لوگ اپنے کپڑوں میں کنکریاں لا لا کر اپنے نیچے بچھانے لگے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو فرمایا: کتنا اچھا کام ہے یہ۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 458]
جناب ابوالولید کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مسجد میں کنکریوں کے متعلق پوچھا (کہ بچھائی جائیں یا نہیں) تو انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک رات بارش ہو گئی اور زمین گیلی ہو گئی تو ہر آدمی اپنے کپڑے میں کنکریاں لے آتا اور اپنے نیچے بچھا لیتا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: کس قدر اچھا کام ہے یہ۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 458]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8594) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ”ابوالولید“ مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو الوليد: مجهول (تقريب: 8439)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 30

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 459
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ" إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا أَخْرَجَ الْحَصَى مِنَ الْمَسْجِدِ يُنَاشِدُهُ".
ابوصالح کہتے ہیں کہ کہا جاتا تھا: جب آدمی کنکریوں کو مسجد سے نکالتا ہے تو وہ اسے قسم دلاتی ہیں (کہ ہمیں نہ نکالو)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 459]
جناب ابوصالح رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ کہا جاتا تھا جب کوئی آدمی مسجد سے کنکریاں باہر نکالتا ہے تو یہ اسے اللہ کا واسطہ دیتی ہیں (کہ ہمیں مت نکالو)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 459]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12837) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش عنعن (تقدم: 14)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 30

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 460
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الصَّاغَانِيَّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو بَدْرٍ: أُرَاهُ قَدْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الْحَصَاةَ لَتُنَاشِدُ الَّذِي يُخْرِجُهَا مِنَ الْمَسْجِدِ".
ابوبدر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنکری اس شخص کو قسم دلاتی ہے جو اس کو مسجد سے نکالتا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 460]
جناب ابوصالح، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابوبدر (سند کے ایک راوی) نے کہا، میرا خیال ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی کنکریوں کو مسجد سے نکالتا ہے تو وہ اسے اللہ کا واسطہ دیتی ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 460]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12837) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس میں ”قاضی شریک“ ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
قال الدار قطني: ’’رفعه وھم من أبي بدر ‘‘ (الترغيب والترهيب 1 / 205) وأبو بدر شك في رفعه والصواب موقوف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 30

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں