صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
19. باب في الخلافة والإمارة - ذكر ما يستحب للإمام قسم ما يملك بين رعيته وإن كان ذلك الشيء يسيرا لا يسعهم كلهم-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے اپنی رعایا میں اپنے پاس موجود چیز بانٹنے کا استحباب اگرچہ وہ تھوڑی ہو اور سب کے لیے کافی نہ ہو۔
حدیث نمبر: 4498
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَنَا تَمْرًا، فَأَصَابَنِي مِنْهَا خَمْسُ أَوْ أَرْبَعُ تَمَرَاتٍ". قَالَ: فَرَأَيْتُ الْحَشَفَةَ هِيَ أَشَدُّ لِضِرْسِي . قَالَ: قَالَ: فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " إِِنَّ أَبْخَلَ النَّاسِ، مَنْ بَخِلَ بِالسَّلامِ، وَأَعْجَزَ النَّاسِ، مَنْ عَجَزَ عَنِ الدُّعَاءِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان کھجور میں تقسیم کیں، تو مجھے ان میں سے پانچ یا شاید چھ کھجوریں ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اسمیں سے ایک کھجور میری داڑھ کے لیے انتہائی سخت تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس پر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ بخیل وہ شخص ہے جو سلام کرنے میں کنجوسی سے کام لے اور لوگوں میں سب سے عاجز وہ شخص ہے جو دعا بھی نہ کر سکے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 4498]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4481»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (601) - مرفوعاً -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم