🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

96. باب تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ
باب: صفوں کو درست اور برابر کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 671
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَتِمُّوا الصَّفَّ الْمُقَدَّمَ ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ، فَمَا كَانَ مِنْ نَقْصٍ فَلْيَكُنْ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے اگلی صف پوری کرو، پھر اس کے بعد والی کو، اور جو کچھ کمی رہ جائے وہ پچھلی صف میں رہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 671]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (پہلے) پہلی صف کو پورا کرو پھر جو صف اس کے بعد ہو۔ اور جو کمی ہو تو وہ آخری صف میں ہو۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 671]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الإمامة 30 (819)، (تحفة الأشراف: 1195)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/132، 215، 233) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (1094)
سعيد بن أبي عروبة تابعه شعبة عند ابن خزيمة (1547) وأبان بن يزيد العطار عند ابن حبان (موارد: 391)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 672
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمِّي عُمَارَةُ بْنُ ثَوْبَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خِيَارُكُمْ أَلْيَنُكُمْ مَنَاكِبَ فِي الصَّلَاةِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو نماز میں اپنے مونڈھوں کو نرم رکھنے والے ہیں ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جعفر بن یحییٰ کا تعلق اہل مکہ سے ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 672]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جن کے کندھے نماز میں نرم ہوں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ راویِ حدیث جعفر بن یحییٰ اہل مکہ میں سے ہیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 672]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابو داود، (تحفة الأشراف: 5936) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی صفیں درست کرنے کے لئے مصلیوں کو اگر کوئی آگے بڑھاتا ہے تو آگے بڑھ جاتے ہیں، اور پیچھے ہٹاتا ہے تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں، یا نماز میں سکون و اطمینان کا پورا خیال کرتے ہیں، ادھر ادھر نہیں دیکھتے، اور نہ کندھے سے کندھا رگڑتے ہیں، بعض لوگوں نے اس کا مطلب یہ بیان کیاہے کہ صفوں کے درمیان شگاف کو بند کرنے کے لئے یا جگہ کی تنگی کی وجہ سے صف کے بیچ میں آ کر کوئی داخل ہونا چاہتا ہے تو اسے داخل ہو جانے دیتے ہیں اس سے مزاحمت نہیں کرتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1099)
صححه ابن خزيمة (1566) وللحديث شواھد

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں