صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
2. ذكر الإباحة للإمام أن يحجر على من يرى ذلك احتياطا له من رعيته-
- امام کو اجازت ہے کہ رعایا کے تحفظ کے لیے کسی پر مالی پابندی لگا دے
حدیث نمبر: 5050
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُرُزِّيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلا كَانَ يَبْتَاعُ عَلَى عَهْدِ عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ فِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ، فَجَاءَ أَهْلُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، احْجُرْ عَلَى فُلانٍ فَإِنَّهُ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ، فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَاهُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي لا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ كُنْتَ غَيْرَ تَارِكٍ الْبَيْعَ، فَقُلْ هَاءً وَهَاءً وَلا خِلابَةَ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص خرید و فروخت کیا کرتا تھا اور اس کی زبان میں لکنت تھی، اس کے اہل خانہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ فلاں کو تصرف کرنے سے روک دیں کیونکہ وہ خرید و فروخت کرتا ہے اور اس کی زبان میں لکنت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے خرید و فروخت کرنے سے منع کر دیا، تو اس نے عرض کی: یا نبی اللہ! میرا خرید و فروخت کیے بغیر گزارہ نہیں ہے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم خرید و فروخت کو ترک نہیں کرتے تو پھر یہ کہہ دیا کرو: «هَا وَهَا، وَلَا خِلَابَةَ» ”یہ ہے اور یہ ہے اور کوئی دھوکہ نہیں چلے گا۔““ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَجْرِ/حدیث: 5050]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 619، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5049، 5050، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7153، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4497، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3501، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1250، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2354، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11457، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3009، 3010، وأحمد فى (مسنده) برقم: 13480» «رقم طبعة با وزير 5028»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - المصدر نفسه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي على شرط مسلم