🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

167. باب الاِلْتِفَاتِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں گردن موڑ کر ادھر ادھر دیکھنا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 909
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُنَا فِي مَجْلِسِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَزَالُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مُقْبِلًا عَلَى الْعَبْدِ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ، فَإِذَا الْتَفَتَ انْصَرَفَ عَنْهُ".
ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ حالت نماز میں بندے پر اس وقت تک متوجہ رہتا ہے جب تک کہ وہ ادھر ادھر نہیں دیکھتا ہے، پھر جب وہ ادھر ادھر دیکھنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لیتا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 909]
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: بندہ جب نماز میں ہوتا ہے تو اللہ عز وجل اس کی طرف برابر متوجہ رہتا ہے جب تک کہ وہ ادھر ادھر نہ دیکھے۔ جب وہ ادھر ادھر دیکھنے لگ جائے تو اللہ بھی اس سے منہ موڑ لیتا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 909]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/السھو 10 (1196)، (تحفة الأشراف: 11998)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/172)، سنن الدارمی/الصلاة 134 (1463) (حسن)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ابو الأحوص لین الحدیث ہیں، بعض لوگوں کے نزدیک مجہول ہیں، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 843/م، وصحیح الترغیب: 552-554)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (995)
أخرجه النسائي (1196 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (481، 482 وسندھما حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 910
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ الْأَشْعَثِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْتِفَاتِ الرَّجُلِ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ:" إِنَّمَا هُوَ اخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلَاةِ الْعَبْدِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آدمی کے نماز کے ادھر ادھر دیکھنے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بندے کی نماز سے شیطان کا اچک لینا ہے (یعنی اس کے ثواب میں سے ایک حصہ اڑا لیتا ہے)۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 910]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آدمی کا نماز کے دوران میں ادھر ادھر دیکھنا کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اچکنا ہے، اس طرح سے شیطان بندے کی نماز سے اچک لیتا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 910]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 93 (751)، وبدء الخلق 11 (3291)، سنن النسائی/السھو 10 (1197)، (تحفة الأشراف: 17661)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 61 (590)، مسند احمد (6/7، 106) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (751)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں