سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
198. باب إِذَا صَلَّى خَمْسًا
باب: کوئی بھول کر پانچ رکعت پڑھ لے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1019
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى، قَالَ حَفْصٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ خَمْسًا، فَقِيلَ لَهُ: أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ:" وَمَا ذَاكَ؟" قَالَ: صَلَّيْتَ خَمْسًا، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھیں تو آپ سے پوچھا گیا کہ کیا نماز بڑھا دی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“، تو لوگوں نے عرض کیا: آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں، (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کئے اس کے بعد کہ آپ سلام پھیر چکے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1019]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: ”کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہوا؟“ کہنے لگے کہ ”آپ نے پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں۔“ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کیے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیر چکے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1019]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 31 (401)، 32 (404)، والسھو 2 (1226)، والأیمان 15 (6671)، وأخبار الآحاد 1 (7249)، صحیح مسلم/المساجد 19 (574)، سنن الترمذی/الصلاة 177 (392)، سنن النسائی/السھو 26 (1255، 1256)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 129 (1203)، 130 (1205)، 133 (1211)، (تحفة الأشراف: 9411)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/376، 379، 429، 443، 438، 455، 465) سنن الدارمی/الصلاة 175(1539) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (404) صحيح مسلم (572)
حدیث نمبر: 1020
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: فَلَا أَدْرِي زَادَ أَمْ نَقَصَ، فَلَمَّا سَلَّمَ، قِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ قَالَ:" وَمَا ذَاكَ؟" قَالُوا: صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا، فَثَنَى رِجْلَهُ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَلَمَّا انْفَتَلَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي" وَقَالَ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ لِيُسَلِّمْ، ثُمَّ لِيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ".
علقمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی (ابراہیم کی روایت میں ہے: تو میں نہیں جان سکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں زیادتی کی یا کمی)، پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نئی چیز ہوئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیا؟“، لوگوں نے کہا: آپ نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھی ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پیر موڑا اور قبلہ رخ ہوئے، پھر لوگوں کے ساتھ دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اگر نماز میں کوئی نئی بات ہوئی ہوتی تو میں تم کو اس سے باخبر کرتا، لیکن انسان ہی تو ہوں، میں بھی بھول جاتا ہوں جیسے تم لوگ بھول جاتے ہو، لہٰذا جب میں بھول جایا کروں تو تم لوگ مجھے یاد دلا دیا کرو“، اور فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک پیدا ہو جائے تو سوچے کہ ٹھیک کیا ہے، پھر اسی حساب سے نماز پوری کرے، اس کے بعد سلام پھیرے پھر (سہو کے) دو سجدے کرے“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1020]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، ابراہیم نے کہا: ”معلوم نہیں اس میں کوئی کمی کر دی یا بیشی۔“ جب سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا نماز کے متعلق کوئی نیا حکم آیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہوا؟“ کہنے لگے کہ ”آپ نے ایسے ایسے نماز پڑھائی ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں موڑا، قبلہ رخ ہوئے اور انہیں دو سجدے کرائے، پھر سلام پھیرا۔ جب پھرے تو ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”بلاشبہ اگر نماز کے متعلق کوئی نیا حکم آتا تو میں تمہیں بتلا دیتا، لیکن میں بشر ہوں، ویسے ہی بھولتا ہوں جیسے تم بھولتے ہو۔ جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد کرا دیا کرو۔“ اور فرمایا: ”جب کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو چاہیے کہ غور کرے کہ ٹھیک کیا ہے اور اسی پر اپنی نماز کو مکمل کرے، پھر سلام پھیرے پھر دو سجدے کرے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1020]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 31 (401)، الإیمان 15 (6671)، صحیح مسلم/المساجد 19 (572)، سنن النسائی/السہو 25 (1244)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 133 (1212)، (تحفة الأشراف: 9451)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/379، 419، 438، 455) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (401) صحيح مسلم (572)
حدیث نمبر: 1021
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بِهَذَا، قَالَ:" فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ" ثُمَّ تَحَوَّلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ حُصَيْنٌ نَحْوَ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.
اس سند سے بھی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص (نماز میں) بھول جائے تو دو سجدے کرے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پلٹے اور سہو کے دو سجدے کئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حصین نے اعمش کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1021]
سیدنا علقمہ رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے یہی خبر بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو دو سجدے کرے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کیے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: حصین نے اعمش کی مانند روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1021]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 19(572)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 1295 (1203)، (تحفة الأشراف: 9424)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/424) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (572)
حدیث نمبر: 1022
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ. ح وحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، وَهَذَا حَدِيثُ يُوسُفَ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا، فَلَمَّا انْفَتَلَ تَوَشْوَشَ الْقَوْمُ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ:" مَا شَأْنُكُمْ؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ زِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ:" لَا" قَالُوا: فَإِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا، فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ رکعتیں پڑھائیں، پھر جب آپ مڑے تو لوگوں نے آپس میں چہ میگوئیاں شروع کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا بات ہے؟“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز زیادہ ہو گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، لوگوں نے کہا: آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مڑے اور سہو کے دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا اور فرمایا: ”میں انسان ہی تو ہوں، جیسے تم لوگ بھولتے ہو ویسے میں بھی بھولتا ہوں“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1022]
سیدنا علقمہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ رکعتیں پڑھا دیں۔ جب آپ پھرے تو لوگ آپس میں چپکے چپکے سے باتیں کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا بات ہے؟“ کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟“ فرمایا: ”نہیں“ انہوں نے کہا: ”آپ نے پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مڑے اور دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا اور فرمایا: ”بلاشبہ میں بشر ہوں، بھول جاتا ہوں جیسے تم بھول جاتے ہو۔““ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1022]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ المساجد 19 (572)، سنن النسائی/السہو 26 (1257، 1258)، (تحفة الأشراف: 9409)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/438، 448) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (572)
حدیث نمبر: 1023
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ قَيْسٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى يَوْمًا فَسَلَّمَ، وَقَدْ بَقِيَتْ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةٌ" فَأَدْرَكَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: نَسِيتَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً،" فَرَجَعَ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَأَمَرَ بِلَالًا، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى لِلنَّاسِ رَكْعَةً" فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ النَّاسَ، فَقَالُوا لِي: أَتَعْرِفُ الرَّجُلَ؟ قُلْتُ: لَا، إِلَّا أَنْ أَرَاهُ، فَمَرَّ بِي، فَقُلْتُ: هَذَا هُوَ، فَقَالُوا: هَذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ.
معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی تو سلام پھیر دیا حالانکہ ایک رکعت نماز باقی رہ گئی تھی، ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: آپ نماز میں ایک رکعت بھول گئے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے، مسجد کے اندر آئے اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کی اقامت کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، میں نے لوگوں کو اس کی خبر دی تو لوگوں نے مجھ سے پوچھا: کیا تم اس شخص کو جانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، البتہ اگر میں دیکھوں (تو پہچان لوں گا)، پھر وہی شخص میرے سامنے سے گزرا تو میں نے کہا: یہی وہ شخص تھا، لوگوں نے کہا: یہ طلحہ بن عبیداللہ ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1023]
سوید بن قیس، سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور سلام پھیر دیا حالانکہ ایک رکعت باقی تھی۔ تو ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر ملا اور کہا: ”آپ نماز میں ایک رکعت بھول گئے ہیں۔“ تو آپ واپس تشریف لائے اور مسجد میں داخل ہوئے اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کی اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی۔ میں نے لوگوں کو (بعد میں) اس (واقعہ) کی خبر دی تو انہوں نے مجھے کہا: ”کیا تم اس آدمی کو جانتے ہو؟“ میں نے کہا: ”نہیں، لیکن اگر دیکھ لوں تو پہچان جاؤں گا۔“ چنانچہ وہ میرے پاس سے گزرا تو میں نے کہا: ”یہی وہ شخص ہے۔“ تو انہوں نے بتایا کہ یہ طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1023]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الأذان 24 (665)، (تحفة الأشراف: 11376)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/401) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه النسائي (665 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (1052 وسنده صحيح)
أخرجه النسائي (665 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (1052 وسنده صحيح)