علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
198. باب إذا صلى خمسا
باب: کوئی بھول کر پانچ رکعت پڑھ لے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1023
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ قَيْسٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى يَوْمًا فَسَلَّمَ، وَقَدْ بَقِيَتْ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةٌ" فَأَدْرَكَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: نَسِيتَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً،" فَرَجَعَ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَأَمَرَ بِلَالًا، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى لِلنَّاسِ رَكْعَةً" فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ النَّاسَ، فَقَالُوا لِي: أَتَعْرِفُ الرَّجُلَ؟ قُلْتُ: لَا، إِلَّا أَنْ أَرَاهُ، فَمَرَّ بِي، فَقُلْتُ: هَذَا هُوَ، فَقَالُوا: هَذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ.
معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی تو سلام پھیر دیا حالانکہ ایک رکعت نماز باقی رہ گئی تھی، ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: آپ نماز میں ایک رکعت بھول گئے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے، مسجد کے اندر آئے اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کی اقامت کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، میں نے لوگوں کو اس کی خبر دی تو لوگوں نے مجھ سے پوچھا: کیا تم اس شخص کو جانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، البتہ اگر میں دیکھوں (تو پہچان لوں گا)، پھر وہی شخص میرے سامنے سے گزرا تو میں نے کہا: یہی وہ شخص تھا، لوگوں نے کہا: یہ طلحہ بن عبیداللہ ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1023]
سوید بن قیس، سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور سلام پھیر دیا حالانکہ ایک رکعت باقی تھی۔ تو ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر ملا اور کہا: ”آپ نماز میں ایک رکعت بھول گئے ہیں۔“ تو آپ واپس تشریف لائے اور مسجد میں داخل ہوئے اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کی اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی۔ میں نے لوگوں کو (بعد میں) اس (واقعہ) کی خبر دی تو انہوں نے مجھے کہا: ”کیا تم اس آدمی کو جانتے ہو؟“ میں نے کہا: ”نہیں، لیکن اگر دیکھ لوں تو پہچان جاؤں گا۔“ چنانچہ وہ میرے پاس سے گزرا تو میں نے کہا: ”یہی وہ شخص ہے۔“ تو انہوں نے بتایا کہ یہ طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1023]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الأذان 24 (665)، (تحفة الأشراف: 11376)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/401) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه النسائي (665 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (1052 وسنده صحيح)
أخرجه النسائي (665 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (1052 وسنده صحيح)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥معاوية بن حديج الخولاني، أبو عبد الرحمن، أبو نعيم | صحابي صغير | |
👤←👥سويد بن قيس التجيبي سويد بن قيس التجيبي ← معاوية بن حديج الخولاني | ثقة | |
👤←👥يزيد بن قيس الأزدي، أبو رجاء يزيد بن قيس الأزدي ← سويد بن قيس التجيبي | ثقة فقيه وكان يرسل | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← يزيد بن قيس الأزدي | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء قتيبة بن سعيد الثقفي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
665
| صلى يوما فسلم وقد بقيت من الصلاة ركعة فأدركه رجل فقال نسيت من الصلاة ركعة فدخل المسجد وأمر بلالا فأقام الصلاة فصلى للناس ركعة |
سنن أبي داود |
1023
| صلى يوما فسلم وقد بقيت من الصلاة ركعة فأدركه رجل فقال نسيت من الصلاة ركعة فرجع فدخل المسجد وأمر بلالا فأقام الصلاة فصلى للناس ركعة فأخبرت بذلك الناس فقالوا لي أتعرف الرجل قلت لا إلا أن أراه فمر بي فقلت هذا هو فقالوا هذا طلحة بن عبيد الله |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1023 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1023
1023۔ اردو حاشیہ:
جب لوگ صفوں سے آگے پیچھے ہو جائیں۔ اور بعد میں سہو کا علم ہو تو نماز اور صف بندی کے لئے تکبیر کہی جائے۔
جب لوگ صفوں سے آگے پیچھے ہو جائیں۔ اور بعد میں سہو کا علم ہو تو نماز اور صف بندی کے لئے تکبیر کہی جائے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1023]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 665
ایک رکعت بھول جانے کے بعد اسے پڑھنے کے لیے اقامت کہنے کا بیان۔
معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی، اور ابھی نماز کی ایک رکعت باقی ہی رہ گئی تھی کہ آپ نے سلام پھیر دیا، ایک شخص آپ کی طرف بڑھا، اور اس نے عرض کیا کہ آپ ایک رکعت نماز بھول گئے ہیں، تو آپ مسجد کے اندر آئے اور بلال کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک رکعت نماز پڑھائی، میں نے لوگوں کو اس کی خبر دی تو لوگوں نے مجھ سے کہا: کیا تم اس شخص کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، لیکن میں اسے دیکھ لوں (تو پہچان لوں گا) کہ یکایک وہ میرے قریب سے گزرا تو میں نے کہا: یہ ہے وہ شخص، تو لوگوں نے کہا: یہ طلحہ بن عبیداللہ (رضی اللہ عنہ) ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 665]
معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی، اور ابھی نماز کی ایک رکعت باقی ہی رہ گئی تھی کہ آپ نے سلام پھیر دیا، ایک شخص آپ کی طرف بڑھا، اور اس نے عرض کیا کہ آپ ایک رکعت نماز بھول گئے ہیں، تو آپ مسجد کے اندر آئے اور بلال کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک رکعت نماز پڑھائی، میں نے لوگوں کو اس کی خبر دی تو لوگوں نے مجھ سے کہا: کیا تم اس شخص کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، لیکن میں اسے دیکھ لوں (تو پہچان لوں گا) کہ یکایک وہ میرے قریب سے گزرا تو میں نے کہا: یہ ہے وہ شخص، تو لوگوں نے کہا: یہ طلحہ بن عبیداللہ (رضی اللہ عنہ) ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 665]
665 ۔ اردو حاشیہ:
➊ صورت واقعہ یوں معلوم ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیر کر مسجد سے نکل گئے۔ حضرت طلحہ نے جاکر آپ کو خبر دی۔ چونکہ فاصلہ ہو چکا تھا، لہٰذا آپ نے نئی اقامت کہلوائی تاکہ نمازی جمع ہو جائیں، اگرچہ یہ بھی کہا: جا سکتا ہے کہ آپ مسجد سے باہر نہ گئے تھے، اس صورت میں مسجد میں داخل ہونے سے مراد نماز کی جگہ پر واپس آنا ہے۔ لغوی طور پر اسے مسجد کہا: جا سکتا ہے۔ لیکن پہلی بات زیادہ مناسب ہے اور حدیث کے ظاہر سے قریب تر بھی۔
➋ احناف اس صورت میں نماز باطل ہونے اور نئے سرے سے ساری نماز پڑھنے کے قائل ہیں اور اس حدیث کو ابتدائی دور پر محمول کرتے ہیں مگر یہ بات بلادلیل ہے۔ واللہ أعلم۔
➊ صورت واقعہ یوں معلوم ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیر کر مسجد سے نکل گئے۔ حضرت طلحہ نے جاکر آپ کو خبر دی۔ چونکہ فاصلہ ہو چکا تھا، لہٰذا آپ نے نئی اقامت کہلوائی تاکہ نمازی جمع ہو جائیں، اگرچہ یہ بھی کہا: جا سکتا ہے کہ آپ مسجد سے باہر نہ گئے تھے، اس صورت میں مسجد میں داخل ہونے سے مراد نماز کی جگہ پر واپس آنا ہے۔ لغوی طور پر اسے مسجد کہا: جا سکتا ہے۔ لیکن پہلی بات زیادہ مناسب ہے اور حدیث کے ظاہر سے قریب تر بھی۔
➋ احناف اس صورت میں نماز باطل ہونے اور نئے سرے سے ساری نماز پڑھنے کے قائل ہیں اور اس حدیث کو ابتدائی دور پر محمول کرتے ہیں مگر یہ بات بلادلیل ہے۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 665]
Sunan Abi Dawud Hadith 1023 in Urdu
سويد بن قيس التجيبي ← معاوية بن حديج الخولاني