🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. ذكر خبر أوهم من لم يحكم صناعة الحديث أنه مضاد لقوله صلى الله عليه وسلم لا عدوى أو ناسخ له-
- ذکر خبر جو حدیث کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "کوئی عدوٰی نہیں" کے خلاف یا اس کا ناسخ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6115
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا عَدْوَى" . وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ" ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ بِهِمَا كِلَيْهِمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَمَتَ أَبُو هُرَيْرَةَ بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ قَوْلِهِ:" لا عَدْوَى"، وَأَقَامَ عَلَى أَنْ:" لا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ"، فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ذِئَابٍ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ: كُنْتُ أَسْمَعُكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ تُحَدِّثُنَا مَعَ هَذَا الْحَدِيثِ حَدِيثًا آخَرَ قَدْ سَكَتَّ عَنْهُ، كُنْتَ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا عَدْوَى"، فَأَبِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنْ يَعْرِفَ ذَلِكَ، وَقَالَ:" لا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ"، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَلَعَمْرِي لَقَدْ كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُنَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لا عَدْوَى"، وَلا أَدْرِي أَنَسِيَ أَبُو هُرَيْرَةَ، أَوْ نَسَخَ أَحَدُ الْقَوْلَيْنِ الآخَرَ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَيْسَ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ تَضَادٌّ، وَلا أَحَدُهُمَا نَاسِخٌ لِلآخَرِ، وَلَكِنَّ قَوْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا عَدْوَى"، سُنَّةٌ تُسْتَعْمَلُ عَلَى الْعُمُومِ، وَقَوْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ"، أَرَادَ بِهِ أَنْ لا يُورِدَ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ، وَيُرَادُ بِهِ الاعْتِقَادُ فِي اسْتِعْمَالِ الْعَدْوَى أَنْ تَضُرَّ بِأَخِيهِ فِي الْقَصْدِ، وَإِنْ لَمْ تَضُرَّ الْعَدْوَى.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: عدوی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بات بھی بیان کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: بیمار شخص تندرست کے پاس نہ آئے۔
ابوسلمہ کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں یہ دونوں روایات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کرتے تھے اس کے بعد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بیان کرنے سے رک گئے کہ بیماری کے متعدی ہونے کی کوئی حیثیت نہیں ہے، البتہ وہ یہ چیز بیان کرتے رہے کہ کسی بیمار کو کسی تندرست کے پاس نہ لایا جائے۔ حارث نامی شخص جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے چچازاد تھے انہوں نے کہا: اے سیدنا ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)! پہلے تو میں آپ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنتا رہا ہوں کہ آپ اس کے ساتھ ایک اور حدیث بھی بیان کیا کرتے تھے اب آپ نے اسے بیان نہیں کیا جسے آپ پہلے بیان کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے بیماری کے متعدی ہونے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس بات کو ماننے سے انکار کر دیا اور انہوں نے یہی کہا: کہ کسی بیمار کو تندرست کے پاس نہ لایا جائے۔ ابوسلمہ نامی راوی کہتے ہیں: مجھے اپنی زندگی کی قسم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں یہ حدیث بیان کرتے رہے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: بیماری کے متعدی ہونے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اب مجھے نہیں معلوم کہ کیا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس بات کو بھول گئے تھے یا ان میں سے ایک قول نے دوسرے کو منسوخ کر دیا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے نہ ہی ان میں سے ایک دوسرے کو منسوخ کرتی ہے، تاہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: بیماری کے متعدی ہونے کی کوئی حیثیت نہیں ہے یہ ایک ایسی سنت ہے، جس پر عمومی طور پر عمل کیا جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: کسی بیمار کو تندرست کے پاس نہ لایا جائے، اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ اس بات کا اعتقاد نہ رکھا جائے کہ بیماری کے متعدی ہونے پر عمل کرتے ہوئے تم جان بوجھ کر اپنے بھائی کو کوئی نقصان پہنچا دو اگرچہ بیماری کا متعدی ہونا نقصان نہیں دیتا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ العَدْوَى وَالطِّيَرَةِ وَالفَأْلِ/حدیث: 6115]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6082»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (971): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں